سوشل میڈیا پر نعمان اعجاز کے خلاف می ٹو مہم چل پڑی


سوشل میڈیا پر سینئیر اداکار نعمان اعجاز کی طرف سے اپنی بیوی کو دھوکہ دینے اور بیوفائی کرنے کے انکشاف کے بعد ایک بار پھر سوشل میڈیا پر می ٹو مہم زوروں پر ہے۔
معروف اداکار نعمان اعجاز نے حال ہی مں انکشاف کیا ہے کہ وہ زندگی بھر کسی ایک خاتون سے محبت کرنے پر یقین نہیں رکھتے، وہ دل پھینک ہیں اور انھیں اکثر راہ چلتی لڑکی اور حتیٰ کہ شادی شدہ خاتون سے بھی محبت ہو جاتی ہے۔ تاہم وہ اتنے تیز ہیں کہ اس معاملے کا نہ تو انکی بیوی کو پتا چلتا ہے اور نہ ہی تاڑی گئی خاتون کے شوہر کو۔۔۔
نعمان اعجاز کی طرف سے اپنی اہلیہ سے بے وفائی کا کھلے عام اظہار کرنے پر انھیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر عفت عمر کے ساتھ ایک لائیو سیشن کے دوران نعمان اعجاز کا کہنا تھا کہ ہم آرٹسٹ لوگ بہت زیادہ عاشق مزاج ہوتے ہیں۔ زندگی میں میرا دل بھی کئی مرتبہ پھسلا ہے۔ مجھے تو راہ چلتے ہوئے بھی کوئی لڑکی پسند آ جاتی ہے اور میں اپنی اس عادت کو کنٹرول نہیں کر پاتا۔ نعمان نے کہا کہ مجھے تو ہر لمحہ اور روزانہ محبت ہوتی ہے، میں بہت زیادہ محبت کرنے والا شخص ہوں اور مجھے خوبصورت اور مشکل خاتون سے زیادہ عشق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا میں بہت اچھا اداکار اور ذہین شخص ہوں اس لیے میں اپنی بیوی کو بھی پتہ نہیں چلنے دیتا کہ میں کسی اور سے آنکھیں چار کر رہا ہوں۔ نعمان بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے یہ بھی کہہ دیا کہ میں جب کسی شادی شدہ خاتون سے عشق کرتا ہوں تو اسکے شوہر کو بھی میرے ارادوں کا پتہ نہیں چلتا۔
تاہم نعمان کے اس انکشاف کے بعد سے سوشل میڈیا پر ان کی مذمت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کے بعد می ٹو مہم بھی زوروں پکڑ گئی ہے۔ یاد ریے کہ 2017میں ہالی وڈ کے پروڈیوسر ہاروے وائن سٹائن کے خلاف خواتین کو ہراساں کرنے کے الزامات پر شروع کی جانے والی مہم ‘می ٹو’ نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا تھا، علی ظفر اور میشا شفیع کا کیس منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان میں بھی اس مہم نے زور پکڑا۔ شوبز انڈسٹری سے وابستہ کئی فنکار جہاں اس مہم کا حصہ بنے وہیں کچھ فنکاروں کی جانب سے اس مہم پر اعتراض بھی کیا گیا تھا۔ ب ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ‘می ٹو’ مہم زیر بحث ہے اور اس بار ڈرامہ انڈسٹری کے نامور اداکار نعمان اعجاز سوشل میڈیا صارفین کے ریڈار پر ہیں۔
پاکستان میں زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین 8 ستمبر کی دوپہر کو اس وقت حیران رہ گئے، جب ٹوئٹر پر اچانک ’می ٹو‘ کا ٹرینڈ ٹاپ پر آگیا۔ اگرچہ ’می ٹو‘ ٹرینڈ میں اپنی ٹوئٹس نظر آنے کی وجہ سے کئی افراد نے فالتو اور موضوع سے ہٹی ہوئی ٹوئٹس بھی کیں تاہم اس معاملے پر سب سے زیادہ اداکار نعمان اعجاز کے انٹرویو کی ایک کلپ شیئر کی گئی۔ نعمان کے انٹرویو کی کلپ بظاہر ابتدائی طور پر طوبیٰ سید کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی، جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے مذکورہ ٹوئٹس کو درجنوں افراد نے شیئر کرنا شروع کردیا۔طوبیٰ سید کی ٹوئٹ کو بھی سینکڑوں بار ری ٹوئٹ کیا گیا۔ دو منٹ سے زائد دورانیے کی وہ ویڈیو بھی ہزاروں مرتبہ ری ٹویٹ ہو چکی ہے جس میں نعمان اعجاز نے فلرٹ کرنے اور اپنی بیوی سے بے وفائی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
انٹرویو کے دوران عفت رحیم نے جب می ٹو مہم کے بارے میں نعمان اعجاز کا موقف پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اکثر اوقات ایسی لڑکیاں اس مہم کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں جو آڈیشن میں فیل ہو جاتی ہیں اور پھر یہ الزام لگا دیتی ہیں کہ ان کو شاید اس وجہ سے فیل کردیا گیا کہ انہوں نے کسی کی خواہش پوری نہیں کی۔ تاہم سوشل میڈیا پر خواتین کی بڑی تعداد نے ان کا یہ موقف رد کیا ہے اور ان کو اچھی طرح دھویا ہے۔ ساتھ ہی عفت عمر کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ انہوں نے نعمان اعجاز کو ایسی باتیں کرنے پر روکا کیوں نہیں جب کہ وہ ماضی میں خود بھی می ٹو مہم کا حصہ رہی ہیں۔
علیشہ نامی صارف نے لکھا کہ کیا بیوی کو دھوکہ دینا اور اس پہ الحمدللہ کہنا ٹھیک ہے؟
راویہ نامی صارف نے لکھا کہ انھیں نعمان اعجاز بطور ایکٹر، بہت پسند تھے لیکن انکے گندے خیالات بالکل بھی اچھے نہیں لگے۔ ایوب منہاس نے لکھا کہ ‘نعمان اعجاز بدمعاشی کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور دین سے دوری کا درس بھی دیتے ہیں۔ یہ کیا منافقت ہے۔’
السیدہ المسلمہ نامی صارف نے لکھا کہ ‘نعمان اعجاز کے خیال میں وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں اتنی اچھی بیوی ملی اس لیے آئے دن وہ عشق لڑاتے ہیں اور بیوی کو پتا نہیں چلنے دیتے کیونکہ وہ ایک بہترین اداکار ہیں۔ یہ ہوتی ہیں فنکاروں کی فنکاریاں۔’
خالی کُوکر کے نام سے ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ ‘یہاں ہر دوسرا مرد نعمان اعجاز ہے۔ ہمارا معاشرہ نہ صرف مردوں کو ہر معاملے سے بری الذمہ کر دیتا ہے بلکہ ان کے غلط کاموں کا الزام بھی خواتین پر لگاتا ہے۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button