ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، سی سی پی او لاہور کا چالان کٹ گیا

لاہور میں ٹریفک وارڈن نے نو تعینات سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا چالان کردیا۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ شہر کا دورہ کرنے نکلے تو اس دوران ٹریفک وارڈن نے موبائل سننے پر سی سی پی او کا چالان کردیا۔ عمر شیخ پرائیویٹ گاڑی اور سادہ کپڑوں میں مختلف علاقوں کادورہ کررہے تھے، ٹریفک وارڈن نے سی سی پی او کا 500 روپے کا چالان کیا۔سی سی پی لاہور نے چالان کرنے والے ٹریفک وارڈن کو سراہااور بعد ازاں انہوں ن ے ٹریفک کے دیگر معاملات کا بھی جائزہ لیا جبکہ سی سی پی او لاہور نے تھانے کا بھی دورہ کیا ۔
دوسری طرف پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ ٹریفک ڈیوٹی چیک کرنے کے لیے اپنی ذاتی گاڑی میں نکلے وہ کینٹ کے علاقے سے جا رہے تھے کہ اہلکار کی جانب سے ان کا چالان کر دیا گیا۔سی سی پی او لاہور کا چالان دوران ڈرائیونگ فون سننے اور سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر کیا گیا۔ سی سی پی او نے جان بوجھ کر سیٹ بیلٹ اور موبائل فون کی خلاف ورزی کی تھی۔عمر شیخ نے اپنا چالان کروانے کے بعد آن لائن ادائیگی پر بھی کر دی۔ سی سی پی او لاہور نے ایمانداری سے ڈیوٹی کرنے پر وارڈن کو تعریفی سند اور نقد انعام کا اعلان کیا۔ ٹریفک وارڈنز کی طرف سے 3 اہلکاروں کو کلاس ون سرٹیفکیٹ کا اعلان بھی کیا گیا۔
واضح رہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ پچھلے چند دنوں سے میڈیا کی خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں آئی جی پنجاب شعیب دستگیر اور سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے درمیان اختلافات کی خبریں گذشتہ چند روز سے گردش کر رہی تھیں۔بتایا گیا کہ اختلافات کا آغاز اس وقت ہوا جب سی سی پی او نے افسران کو آئی جی کے حکم سے پہلے تمام معاملات اپنے علم میں لانے کی ہدایت کی ۔
جس پر آئی جی پنجاب شعیب دستگیر بھڑک اٹھے۔انہوں نے سی سی پی او کی معذرت قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا اور تین دن تک آفس بھی نہیں آئے۔وزیراعظم عمران خان نے شعیب دستگیر کے رویے پر ناراضی کا اظہار کیا اور انہیں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر دئیے جس پر آئی جی پنجاب کا تبادلہ کر دیا گیا جس کے بعد دو سال کے دوران اس عہدے پر رہنے والے آئی جی کی تعداد 5 ہو گئی ، شیعب دستگیر کی جگہ انعام غنی کو پنجاب کا نیا آئی جی تعینات کردیا گیا ہے. جس کے بعد متعدد پولیس افسران نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا.دوسری طرف سی سی پی او لاہور عمر شیخ ناراض افسران کو منانے کے لیے متحرک ہو آ گئے۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا کہنا ہے کہ جن افسران نے ان کے خلاف اجلاس کیا وہ انہیں آج منائیں گے۔سینٹرل پولیس آفس میں تعینات افسران میرے بھائی ہیں،کسی افسر سے کوئی شکایت نہیں۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے مزید کہا کہ صبح 6 بجے سے گھر سے نکل کر شہر کی صورتحال کا جائزہ لے رہا ہوں۔اچانک دوروں کا مقصد شہریوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔اس موقع پر انہوں نے لاہور کے مختلف علاقوں کے دورے میں ٹریفک کے معاملات کو بھی چیک کیا. لاہور پولیس کے سربراہ محمد عمر شیخ عام سائل کی طرح تھانہ شمالی چھاؤنی پہنچے اور موٹر سائیکل چوری کی درخواست دی، فوری رہنمائی اور درخواست موصول کرنے پر اہلکاروں کو شاباش دی۔سی سی پی او نے تھانہ شمالی چھاؤنی کا جائزہ لیا اور ریکارڈ چیک کیا۔ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سے کرائم کی صورتحال پر بریفنگ لی۔ سربراہ لاہور پولیس محمد عمر شیخ نے ڈی ایس پی کو اشتہاریوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا حکم دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button