ساجد گوندل کے اغوا کا الزام بھی محکمہ زراعت پر لگ گیا

اسلام آباد سے تین ستمبر کے روز سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹرساجد گوندل کے اغوا کے بعد سے محکمہ زراعت ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے جس کی بنیادی وجہ یہ الزام ہے کہ ان کو "محکمہ زراعت کے "نامعلوم” اہلکاروں نے لاپتہ کیا ہے۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ڈان اخبار سے وابستہ سابقہ صحافی ساجد گوندل کی گاڑی ان کے لاپتہ ہونے کے بعد شہزاد ٹاؤن میں واقع محکمہ زراعت کے تحقیقاتی مرکز کے باہر کھڑی ملی جہاں پر محکمے کا نیلے رنگ کا بورڈ بھی لگا ہوا تھا۔ تاہم ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کے اغوا کاروں نے جان بوجھ کرساجد گوندل کی گاڑی محکمہ زراعت کے بورڈ کے پاس کھڑی کی یا سہوآ ایسا ہوا۔ ساجد گوندل کے خاندان کے افراد اور وکلاء کا یہی خیال ہے کہ انہیں محکمہ زراعت کے اہلکاروں نے اغوا کیا ہے جس کی بنیادی وجہ احمد نورانی کی وہ حالیہ رپورٹ ہو سکتی ہے جس میں انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے بیرون ملک اربوں ڈالرز کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کی تھیں۔ احمد نورانی نے اپنی رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ عید کے روز جبکہ قومی تعطیل تھی، بااثر حکومتی افراد نے اسلام آباد میں سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے دفاتر کھلوا کر باجوہ خاندان کی ملکیتی کمپنیوں کے ڈیٹا میں تبدیلیاں کی تھیں۔ یہ بھی کہا جارہا تھا کہ اس حوالے سے ساجد گوندل دراصل احمد نورانی کی خبر کا سورس تھے۔ تاہم نورانی نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔
دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی واضح ہدایات کے باوجود 7 ستمبر کے روز اسلام آباد پولیس اور وزارت داخلہ ساجد گوندل کو بازیاب کروا کر عدالت کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ساجد گوندل کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ساجد گوندل کو بازیاب کروانے میں ناکامی کا واضح مطلب یہی ہے کہ وہ محکمہ زراعت ہی کی حراست میں ہیں جس کی مرضی کے سامنے کوئی پر نہیں مار سکتا۔
واضح رہے کہ ہماری سیاست میں ہر دور میں ذو معنی اور طنزیہ اصطلاحات کا استعمال ہوتا رہا ہے جن میں سے ایک حالیہ اصطلاح محکمہ زراعت کی بھی ہے۔ آج کے دور کی سیاسی اصطلاحات کے تانے بانے شاید تحریک انصاف کے 2014 کے دھرنے اور 2018 کے عام انتخابات سے ملائے جا سکتے ہیں جیسے ’ایمپائر کی انگلی‘، ’خلائی مخلوق‘، ’گاڈ فادر‘، ’35 پنکچر‘ سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی وغیرہ۔ لیکن ایسی اصطلاحات زیادہ تر اپوزیشن کے لوگ استعمال کرتے ہیں خاص طور پر جب انہوں نے حکومت یا اسٹیبلشمنٹ پر طنز کرنا ہو۔
لیکن ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے محکمہ زراعت کی نادر اصطلاح کب اور کیوں استعمال ہونا شروع ہوئی؟ اس اصطلاح کا پس منظر یہ ہے کہ 2018 کے الیکشن کے دوران مسلم لیگ ن کے ایک امیدوار نے ایک بھری پریس کانفرنس میں کہا کہ ایجنسیوں کے بعض اہلکار انہیں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر زور دے رہے ہیں اور ان کی جاسوسی کی جا رہی ہے۔ انھوں نے اسی پریس ٹاک کے دوران موجود ان مبینہ انٹیلی جنس اہلکاروں کی نشاندہی بھی کر دی۔ یہ معاملہ اس روز تمام دن میڈیا کی زینت بنا رہا۔ اگلے روز وہی صاحب ایک بار پھر میڈیا کے سامنے آئے اور گذشتہ روز پیش آنے والی ’غلط فہمی‘ کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ جن افراد کو وہ انٹیلی جنس ایجنسی کا اہلکار سمجھتے رہے وہ دراصل محکمہ زراعت کے اہلکار تھے جن کے ساتھ ان کے اپنی کھیتی باڑی کے بارے میں کچھ معاملات چل رہے تھے۔ انہوں نے حلفاً کہا کہ اس سارے معاملے کا کسی انٹیلی جنس ایجنسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
معاملہ اس بات پر ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن صحافی کہاں چپ بیٹھنے والے تھے، اسی شام ٹیلی وژن چینلز پر شور مچ گیا کہ کس طرح ’محکمہ زراعت‘ کے ان اہلکاروں نے اس مسلم لیگی امیدوار کو اس کے گودام میں بند کر کے مکوں اور لاتوں کے ذریعے ملکی زراعت بہتر کرنے کے نسخے سمجھائے جس کے بعد امیدوار موصوف نے اپنا وہ مشہور زمانہ محکمہ زراعت والا بیان جاری کیا جو پاکستان کی سیاسی لغت کا حصہ تو بن چکا ہے لیکن اس کے استعمال پر پابندی ہے۔ محکمہ زراعت کی اہمیت کا پہلے پہل ہمیں اندازہ ایوب خان کے دور حکومت میں ہوا۔ جب اس محکمے کی شبانہ روز کاوشوں سے ملک میں ایک دہائی سے زیادہ ہریالی رہی۔ زرعی ترقی کے لیے امریکی ٹیموں کو یہاں کاشت کے لیے دعوت دی گئی اور کئی رقبے زرعی تجربات کے واسطے ان کے حوالے کر دیے گئے۔ یہ محکمہ زراعت کا ہی کمال تھا کہ اس وقت ہمارے تنومند فیلڈ مارشل کی 56 انچ کی چھاتی پر ملکہ برطانیہ بھی فخر کرتی تھی۔
انھی دنوں بدزبان لکھاریوں کی فصل کو کیڑا لگ گیا۔ اس کے حل کے لیے رائٹرز گلڈ کا پودا لگایا گیا جو کہ فوری طور پر پھل دینے لگا۔ اگرچہ شعروادب کی سنگلاخ زمینوں پر یہ پودا بہت پائیدار ثابت نہیں ہوا۔ مسلسل آبیاری سے پھل تو فوری دینے لگا لیکن جڑ نہ پکڑ سکا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ایوب خان کے دس سالہ جشن کے سرمستی میں اس سرزمین کو اتنا پانی دیا گیا کہ ساری فصل کو ہی پالا مار گیا۔ یحییٰ خان نے بڑی مشقت سے خراب زمین اور زرخیز مٹی کو الگ الگ کیا۔ محکمہ زراعت کی اہمیت کا مزید اندازہ ہمیں ضیا دور میں بھی ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکن بیج یہاں بویا گیا اور روسی سنڈی سے نجات کے لیے محکمے نے دن رات کوششیں شروع کر دیں۔
امریکی جہادی بیج کے لیے یہ زمین بہت موافق ثابت ہوئی۔ جلد ہی یہ فصل پک کر تیار ہو گئی اور اس کے پودے اتنے تناور ہو گئے کہ روسی سنڈی کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئے۔ لیکن اس بیج کا نقصان یہ ہوا کہ بہت سے خود رو پودوں نے جنم لے لیا جنکی جڑیں پاکستان سے افغانستان تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کے باوجود محکمہ زراعت نے وفاداری نبھائی ان خودرو پودوں کو سینے سے لگا کر ان کی حفاظت کی۔ تاہم جنرل مشرف اقتدار میں آئے تو محکمہ زراعت کو معلوم ہوا کہ جہادی فصل کو پھپھوندی لگ گئی ہے اور اس کے پھل کو کیڑا لگ گیا ہے اس لیے ایک دن اس فصل کو کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بیج کی رسد تو ختم ہو گئی لیکن خودرو پودے اب سر اٹھا چکے تھے۔ ان کے تنے اتنے مضوط ہو گئے تھے کہ دو دفعہ تو مشرف تک کا پتہ صاف ہونے لگا تھا۔
اس سے کوئی انکار نہیں کہ گرمی ہو یا سردی، جمہوریت ہو یا آمریت اس ملک میں محکمہ زراعت ہر وقت کام کرتا رہتا ہے۔ یہی فیصلہ کرتا ہے کہ کب اس زمین پر کون سی فصل بیجنی ہے۔ یوریا کا کون سا برانڈ زرخیزی کے لیے اب مناسب ہے، کہاں پانی دینا ہے، کہاں زمین کو بنجر کرنا ہے، کہاں بارش برسنی ہے ، کہاں بادل آنے ہیں، کہاں گھن گرج ہونی ہے، کہاں سیلاب لانے ہیں، کب پھل کے پکنے کا اعلان کرنا ہے۔ کب فصل کاٹ لینی ہے اور کب نقصان کے اندیشے کے سبب لگی لگائی فصل کو نذر آتش کر دینا ہے۔
اسی طرح یہ فیصلہ بھی محکمہ زراعت ہی کرتا ہے کہ کس سیاستدان، صحافی، وکیل یا سرکاری ملازم کو غداری اور ملک دشمنی کے الزامات پر کب اور کہاں سے لاپتہ کرنا ہے اور پھر اسے زندہ واپس چھوڑنا ہے یا ختم کر دینا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ساجد گوندل زندہ واپس آتا ہے یا خدانخواستہ سلیم شہزاد کی طرح اس کی بھی لاش کسی نہر سے ملتی یے۔
