سانحہ وزیر آباد پی ٹی آئی کا اپنا ڈیزائن کردہ منصوبہ تھا

وزیر آباد میں عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کرنے والے مرکزی ملزم نوید بشیر کے وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ پی ٹی آئی کا اپنا ڈیزائن کردہ اور پلانٹڈ منصوبہ تھا جس کا بنیادی مقصد فلاپ ہو جانے والے لانگ مارچ کو نئی زندگی دینا، عمران کو سیاسی فائدہ پہنچانا اور انکے مخالفین کو بدنام کرنا تھا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملزم نوید بشیر کے وکیل نے کہا کہ عمران کی خواہش پر واقعے کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی تبدیل کر کے کیس کو جان بوجھ کر خراب کیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ کیس کو الجھانے کے لیے عمران خان کی مرضی سے بنائی گئی جے آئی ٹی اور پنجاب پولیس نے ملی بھگت کی اور واقعات کو اپنی مرضی کا رنگ دے دیا۔ انکا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی موقع کے ثبوتوں کو تحقیقات کا حصہ نہیں بنا رہی کیونکہ اس سے عمران کے بہت سارے جھوٹ بے نقاب ہو جاتے اور ان کے دعوے جھوٹے ثابت ہو جاتے۔ ملزم نوید کے وکیل نے کہا کہ اس واقعے میں صرف ایک شخص کی ہلاکت ہوئی اور اسے بھی گولی عمران خان کے گارڈ نے ماری ،لہذا قتل کا کیس سابق وزیر اعظم پر بنتا ہے جن کے گارڈز کی گولی سے تحریک انصاف کا ایک کارکن جاں بحق ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے واقعے کے حقائق بدلے اور شواہد خراب کیے تاکہ عمران پر کوئی کیس نہ بن پائے۔

میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ عمران خان عدالت اس لیے نہیں جا رہے کیونکہ وقوعہ ان کا اپنا بنایا ہوا ہے۔ خان صاحب اور انکے ساتھی جھوٹ بولنے اور فرضی کہانیاں گھڑنے میں ماہر ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر آباد کا حملہ لانگ مارچ میں جان ڈالنے کے لیے خود سٹیج کیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ حملے کی ایف آئی آر 30 دن تک درج نہ کرنے کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی کہ کہیں یہ پلانٹڈ واقعہ بے نقاب نہ ہو جائے۔ داؤد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ وزیر آباد واقعے میں پی ٹی آئی کے کارکن معظم کا قتل ملزم نوید پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ معظم کا قتل عمران کے سکیورٹی گارڈ کے اسلحے سے  ہوا جسے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عمران کے گارڈ کا اسلحہ فرانزک کے لیے دیا ہی نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ مقتول معظم کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس کے سر کے پچھلے حصے میں لگ کر پیشانی سے نکلنے والی گولی اونچائی سے فائر کی گئی۔ یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ ملزم کو لگنے والی گولی نوید کے پستول کی نہیں بلکہ سرکاری رائفل کی ہے جو کہ عمران خان کے گارڈز استعمال کرتے ہیں لیکن پھر بھی یہ قتل نوید پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عمران کو بچایا جا سکے۔

میاں داؤد نے کہا کہ عمران خان جھوٹ بولتے ہوئے یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ ان پر حملہ کرنے والوں کی تعداد ایک سے زیادہ تھی ، لیکن جائے وقوعہ پر نوید بشیر کے علاوہ کوئی شوٹر نہیں دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو یہ دعویٰ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ عمران کو کوئی زخم آیا ہے،پی ٹی آئی والے کبھی کہتے ہیں کہ عمران کو 6 گولیاں لگیں، کبھی کہتے کہ 4 گولیاں لگی ہیں۔ لیکن اب پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی تیار کردہ رپورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ عمران کو ایک بھی گولی نہیں لگی  بلکہ فائرنگ سے اڑنے والے دھاتی ٹکرے لگے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے عمران نے قانون کے مطابق کسی سرکاری ہسپتال سے اپنا میڈیکو لیگل نہیں کروایا تا کہ پکڑے نہ جائیں۔

میاں داؤد نے کہا کہ نوید سے مرضی کا بیان لینے کے لیے پولیس مسلسل دبائو ڈال رہی ہے اور اس کی والدہ کو بھی تھانے میں بلا کر بٹھا لیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اگلے روز تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران پر قاتلانہ حملے میں ان کی جان لینےکی کوشش کی گئی اور یہ حملہ کسی مذہبی جنونی نے نہیں بلکہ سازش کے تحت کیا گیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ عمران خان پر تین حملہ آور قاتلانہ حملے کی کوشش میں شامل تھے۔

فواد کا کہنا تھا کہ عمران کے گارڈز کی جانب سے کوئی گولی نہیں چلائی گئی تھی۔ انہوں نے یہ لطیفہ بھی سنایا کے وزیر آباد میں عمران پر حملے میں تین طرح کے ہتھیار استعمال ہوئے اور تین ہی حملہ آور تھے۔ منصوبے کے تحت عمران کو قتل کر کے ملک میں انتشار پھیلانا تھا۔ تاہم سوال یہ ہے وفاقی حکومت اپنے خلاف خود ہی انتشار پھیلانے کا منصوبہ کیوں بناتی؟۔

Back to top button