کیا عادل راجہ کے الزامات فوج کی اندرونی لڑائی کا نتیجہ ہیں؟

عمران خان کے حمایتی سابق فوجی افسر میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کی جانب سے جنرل قمر باجوہ اور فیض حمید پر لگائے جانے والے غیر اخلاقی الزامات کو فوج کی اندرونی لڑائی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے اور انہیں ادارے کی ساکھ کے لیے انتہائی منفی قرار دیا جا رہا ہے۔ عمران کی حمایتی ریٹائرڈ فوجی افسروں کی تنظیم پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے سابق ترجمان میجر عادل راجہ نے اپنے ایک وی لاگ میں سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض کے خلاف انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات لگاتے ہوئے انہیں 4 پاکستانی اداکاراؤں سے جوڑ دیا۔ تاہم اداکاراؤں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے عادل راجہ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عادل راجہ کے الزامات نے پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا ہے اور ملک بھر میں ان پر بحث ہو رہی ہے۔ سیاسی مبصرین ان الزامات کو جنرل باجوہ اور جنرل فیض سے زیادہ فوج کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ‘ایسے بے بنیاد الزامات کو پاکستان دشمن عناصر اور ممالک استعمال کر سکتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ الزامات عمران خان کی اسی مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو گندا کر کے نئی فوجی قیادت کو بھی دباؤ میں لانا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی یہ سٹریٹجی الٹی بھی پڑ سکتی ہے اور باجوہ کے زمانے میں ایسے الزامات پر خاموشی اختیار کرنے والی فوجی قیادت اس مرتبہ سخت رد عمل بھی دے سکتی ہے۔

سابق لیفٹیننٹ جنرل اور سابق سینیٹر عبدالقیوم نے ان الزامات کو افسوسناک اور شرمناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک کی معیشت بہت برے حال میں ہو، سیاسی صورت حال بھی خراب ہو، افغانستان میں بھی عدم استحکام ہو اور عالمی معاشی کساد بازاری بھی چل رہی ہو، اس طرح کے الزامات باعث تشویش ہیں۔ اس سے ملک کے مسائل میں اضافہ ہوگا کیونکہ پاکستان دشمن طاقتیں اس طرح کے بے بنیاد الزامات کا سہارا لے کر ملک کو بدنام کریں گی۔ جنرل عبدالقیوم کے مطابق اگر عادل راجہ کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت تھے تو اسے ملک میں رہ کر اس مسئلہ کو مختلف فورمز پر اٹھانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہاکسی دوسرے ملک میں رہتے ہوئے اس طرح کے سنگین الزامات لگانا ملک دشمنوں کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔ جنرل عبدالقیوم کا دعوی ٰہے کہ پاکستان میں آئین کی حدود میں رہتے ہوئے کسی بھی ادارے پر تنقید کی جا سکتی ہے۔ لیکن بے بنیاد الزامات لگا کر فوج کی بدنامی کرنا ایک مختلف بات ہے جس کی بالکل اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے خیال میں حکومت کو اس ریٹائرڈ آرمی افسر کو وطن واپس لانا چاہیے اور اسکا احتساب کرنا چاہیئے۔برطانیہ یا کسی اور ملک کو شہری بھی ماسکو یا کسی اور جگہ پر بیٹھ کر اپنے ہی لوگوں پر بے بنیاد الزامات لگائے، تو وہ بھی ایسے شہری کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمیں بھی قانونی طریقے سے عادل راجہ کو واپس لانا چاہیے۔

یاد رہے کہ آئی ایس آئی پنجاب کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر راشد نے پہلے ہی میجر عادل راجہ کے خلاف برطانوی عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر دیا ہے کیونکہ ریٹائرڈ فوجی افسر نے ان پر سیاست میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔ لندن سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر گل نواز خان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں آزادی اظہار رائے ہے اور کوئی بھی شخص اپنی رائے کا اظہار کرسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی شخص کسی پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہو تو متاثرہ شخص کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ برطانوی عدالت سے رابطہ کرے اور شہرت کو نقصان پہنچانے کے جرم میں اس کے خلاف مقدمہ لڑے۔ بیرسٹر گل نواز خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے۔ اگر پاکستان اور برطانیہ کے درمیان یہ معاہدہ ہوتا تو پاکستان عادل راجہ کی حوالگی کا مطالبہ کر سکتا تھا۔ لیکن ابھی اگر پاکستان ان کی حوالگی کا مطالبہ کرے اور اگر ان کے پاس لندن کا وزٹ ویزہ موجود ہے تو وہ ہوم آفس سے رابطہ کر کےسیاسی پناہ کی درخواست کرسکتے ہیں ۔ اس صورت میں ان کی سیاسی پناہ کا مقدمہ مضبوط ہو جائے گا کیونکہ ان کے پاس دلیل موجود ہوگی کہ ایک ریاست نے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔

گل نواز خان کا کہنا تھا کہ پاکستان انٹرپول کے ذریعے بھی عادل راجہ کی حوالگی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب عادل راجہ نے یہاں پہ کوئی جرم کیا ہو اور وہ جرم ثابت بھی ہوا ہو۔ اس کے بعد وہ انٹرپول کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ ایک طویل پیچیدہ قانونی معاملہ ہے۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک معروف وکیل نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ آرمی ایکٹ کے حوالے سے عادل راجہ کے لیے کوئی سزا نہیں بنتی کیونکہ وہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور پاکستانی قانون کے مطابق جب کوئی فوجی ریٹائر ہو جاتا ہے تو اس پر سویلین قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس وکیل کے مطابق اگر عادل راجہ کو حاضر سروس افسران اطلاعات دے رہے ہیں تو پھر ان افسران کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہاحاضر سروس افسران عادل راجہ تو کیا کسی بھی شخص کوفوج سے متعلق کسی بھی طرح کی اطلاع نہیں دے سکتے۔

عمران کا منحرف سابق ارکان پنجاب اسمبلی سے ملاقات سے انکار

Back to top button