سانحہ 9مئی میں ملوث کسی شرپسندوں کی ضمانت نہیں ہو گی؟

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے 9 مئی کو جلاو گھیراؤ میں ملوث شرپسندوں کیخلاف قانونی کارروائی 31 مئی سے پہلے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فوجی تنصیبات‘ شہداء کی یادگاروں کو تباہ کرنیوالے آرمی ایکٹ کے تحت سزا کے مستوجب ہونگے۔انسداد دہشت گردی کورٹس میں بھی تعزیرات پاکستان دفعات کے مقدمات کی سماعت ہو گی، آرمی ایکٹ/ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے ملزمان کی ضمانت کوئی بھی عدالت لینے کی مجاز نہ ہوگی۔
راولپنڈی کے باخبر ذرائع کا دعوی ہے کہ 31 مئی سے پہلے کور کمانڈر ہاؤس لاہور‘ میانوالی ائربیس‘ جی ایچ کیو‘ آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملہ آور ہونے والے شرپسندوں‘ اُنکے منصوبہ سازوں‘ اُن کو حملوں پر اُکسانے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی شروع ہو جائیگی۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے آرمی ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی انوسٹی گیشن اور ملزمان کو فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں پولیس نے اپنی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ اور سیکرٹ ایکٹ کے تحت جس کیس کا پہلے ٹرائل کیا جائے گا وہ جی ایچ کیو پر حملے کا معاملہ ہے۔ ملزمان کو فوج کے متعلقہ یونٹ کے حوالے کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 225؍ ملزمان کو جی ایچ کیو پر حملے کے حوالے سے 18؍ مختلف مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت بھی ملزمان میں شامل ہیں
دوسری جانب سینئرصحافی شکیل انجم کی ایک رپورٹ کے مطابق اسٹیبلشمنٹ آرمی ایکٹ کے تحت تین بڑی فوجی عدالتیں قائم کرنے کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے میں ملوث افراد پر مقدمہ چلایاجاسکے جن میں کورکمانڈر لاہور کی رہائش گاہ جلایاجانا بھی شامل ہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو آئندہ دس دن میں عدالتوں میں لایاجائےگا۔۔ذرائع کے مطابق ’’ فوجی عدالتیں 2015 کے نظر ثانی شدہ پاکستان آرمی ایکٹ کی 9ویں ترمیم کے تحت بنائی جائیں گی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یہ بل 6 جنوری 2015 کو قومی اسمبلی نے منظور کیا تھاجس کے تحت اسٹیبلشمنٹ کو دہشت گردی کے مشتبہ سویلین افراد کو خصوصی فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کی اجازت ملی تھی۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے بتایا کہ آرمی ایکٹ میں خصوصی فوجی عدالتیں بنانے کےلیے کم از کم چار ترامیم کی گئیں جن میں سے ایک 1967 میں کی گئی۔ اس کے تحت وہ سویلین جو بری ، فضائی اور بحری افواج کو اکسانے میں ملوث ہوں یا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی میں ملوث ہوں وہ اس قانون کے تحت سزاپائیں گے۔ بعد میں 1977 اور 1998 میں اس میں پھر ترامیم کی گئیں۔ ذرائع نے فوجی تنصیبات پر حملے کے ملزمان کے خلاف کارروائی کی پہلے بھی کئی مثالیں موجود ہیں ذرائع کے مطابق 9 مئی کو تشدد کی تفتیش میں شریک افراد نے جیو فینسنگ اور دیگر ٹیکنالوجیز استعمال کرتے ہوئے شرپسندوں کی شناختیں کر لی گئی ہیں۔ وہ ان مقامات پر ہونے والی شرپسندی کے مقامات پر موجود تھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ریڈیکل گینگز کا حصہ تھے جنہیں پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اہداف ملے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے شرپسندوں کو شناخت کرلیا ہے اور ان کی نشاندہی ویڈیو فوٹیج کے ذریعے کرلی ہےجنہیں پی آئی آئی کی قیادت حملوں پر اکساتی دیکھی جاسکتی ہے۔ اشتعا ل انگیز فوٹیج سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی بلاگرز کی جانب سے بکثرت پیش کیے جاتے ہیں۔ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث خواتین و حضرات کی ایک علیحدہ فہرست جیگ برانچ کو بھی بھیج دی گئی ہے جو کہ آرمی کے ڈائریکٹوریٹ کے تحت کام کررہی ہے اور خصوصی فوجی عدالتوں کےلیے قانونی طریقہ کار کا راستہ نکالنے کی کوشش کررہی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو آئندہ دس دن میں عدالتوں میں لایاجائےگا۔
دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسی ایشن نے9 مئی کے مجرمانہ واقعات کی مکمل، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ طور پر تحقیقات کروانے اور ان مقدمات کا ٹرائل سویلین عدالتوں سے کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان مقدمات کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں کرانے کی مخالفت کر دی ہے ،جمعرات کے روز سیکرٹری مقتدیر اختر شبیر کے دستخطوں سے جاری اعلامیہ کے مطابق پریم کورٹ بار ایسی ایشن نے 9مئی کے مجرمانہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک پرتشدد ہجوم نے جناح ہائوس اور ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملہ کیا ہے ، تشدد اور تباہی کی ایسی کارروائیاں نہ صرف قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ ملک کے استحکام اور سلامتی کیلئے بھی خطرناک ہیں۔
