سدپارہ اور ساتھی کوہ پیما کا فون اور کیمرہ مل گیا


موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران جاں سے جانے والے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنے والد اور ان کے ساتھی کوہ پیما کا موبائل اور کیمرہ مل گیا ہے جس سے یہ پتہ چل سکے گا کہ آیا موت سے پہلے وہ کے ٹو کو سر کر پائے تھے یا نہیں؟
یاد رہے کہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد اپنے والد کی ڈیڈ باڈی تلاش کرنے کے لیے کے ٹو پر گئے تھے لیکن لاش مل جانے کے باوجود اسے واپس نہیں لا پائے اور اور امانتا اسے وہیں برف میں دفن کر دیا۔ ساجد کے مطابق تینوں کوہ پیماؤں کی لاشیں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے بوٹل نیک کے قریب سے ملیں جن کو نیچے لانا مشکل کام تھا جسکی وہ دوبارہ کوشش کریں گے۔ لیکن اس مشن میں انہیں جان سنوری اور علی سدپارہ کے فون اور کیمرہ گے ہیں۔ انکے ساتھ کے ٹو پر جانے والے فوٹوگرافر نے ٹوئٹر پر فون اور کیمرہ ملنے کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’کے ٹو مشن کے دوران علی سدپارہ کا فون اور جان سنوری کا زیر استعمال کیمرہ مل گیا ہے۔ اب ساجد علی سدپارہ ان سے ملنے والی ویڈیوز اور مواد کی جانچ کریں گے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ مرنے سے پہلے علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کو پیما کے ٹو کو سر کر پائے تھے یا نہیں؟
دوسری جانب ٹوئٹر صارفین کی جانب سے کوہ پیماؤں کی لاشوں کے بعد ان کے زیر استعمال آلات ملنے کے بعد خوشی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ٹوئٹر صارف رخسانہ مظہر نے لکھا کہ ’کوئی شک نہیں کہ آپ کے حوصلے کے ٹو پہاڑ سے بھی زیادہ بلند ہیں، مجھے یقین ہے کہ آپ کے تمام سوالات کے جوابات جلد ہی مل جائیں گے کیونکہ ہمت سے آگے بڑھنے والوں کا ساتھ قسمت بھی دیتی ہے۔‘
جہاں صارفین نے اس کامیابی پر ساجد علی سدپارہ اور ٹیم کو مبارک باد دی وہیں اکثر نے ’یہ آلات پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔‘
سکردہ کا علاقہ سدپارہ پاکستان میں بہترین ’پورٹرز‘ کے لیے جانا جاتا ہے لیکن علی سدپارہ نے کوہ پیمائی کو کیریئر بناتے ہوئے 2004 میں پہلی بار کے ٹو سر کرنے کی مہم میں بطور کوہ پیما حصہ لیا تھا۔

Back to top button