سرتاج عزیز اپنی زندگی میں صدر پاکستان کیوں نہ بن سکے؟

معاشی امور، امور خارجہ کی وزارتوں اور سینٹ آف پاکستان کے طویل عرصے تک ممبر رہنے والے ٹیکنوکریٹ اور سینیئر سیاست دان سرتاج عزیر نے 1953 میں بحیثیت بحیثیت سول سرونٹ اپنے کیریئر کا اغاز کیا۔70 کی دہائی میں اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں میں خدمات سر انجام دی۔ زرعی معشیت میں خصوصی مہارت کی وجہ سے 1984 میں ضیا الحق کی کابینہ میں خوراک و زراعت کے وزیر مملکت بنائے گئے۔اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سرتاج عزیز کی سیاسی زندگی کا زیادہ حصہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ گزرا۔ ان کے تینوں ادوار میں بحیثیت وزیر اور مشیر ان کی کابینہ میں شامل رہے۔
سرتاج عزیز 27 فروری 1929 کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے علاقے مردان کے تعلیم یافتہ اور روشن خیال خاندان میں پیدا ہوئے۔والد صوبائی حکومت میں ملازم تھے جب کہ والدہ کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔اسلامیہ کالج لاہور میں دوران تعلیم وہ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ ہوئے۔ 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کے رضاکار کے طور پر حصہ لیا۔قائد اعظم سے ہونے والی گفتگو سے متاثر ہو کر پنجاب یونیورسٹی میں کامرس کی تعلیم کے ادارے ہیلی کالج سے بی کام کی ڈگری پائی۔انہوں نے اپنی تعلیم اور رحجان کے مطابق کیریئر کا انتخاب کیا۔ قیام پاکستان کے بعد سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کی تو انہیں پولیس گروپ میں شمولیت کی پیشکش کی گئی۔
سرتاج عزیز کے بقول وہ معاشی انتظام اور نئے آئیڈیاز کی طاقت کو بیوروکریسی کی روایتی انتظامی طاقت پر فوقیت دیتے تھے۔اسی تصور کے زیر اثر انہوں نے پولیس گروپ میں شمولیت سے انکار کر دیا۔ متبادل کے طور پر ملٹری آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کا انتخاب کیا۔60 کی دہائی میں مشہور ماہر معاشیات ڈاکٹر محبوب الحق کی زیر سرپرستی پلاننگ کمیشن میں شمولیت اختیار کی۔ اسی دوران انہیں امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کا موقع ملا۔ایوب دور میں پاکستان کے دوسرے اور تیسرے پانچ سالہ منصوبے کوروبہ عمل لانے والی ٹیم کے اہم ممبر کے طور پر کام کیا۔
اقوام متحدہ کہ ادارہ فوڈ اینڈ ایگریکلچر سمیت دیگر بین الاقوامی ترقیاتی اداروں میں خدمات کے وسیع تجربے نے سرتاج عزیز پر ضیا الحق کی غیر منتخب کابینہ میں وزارت کا دروازہ کھول دیا۔انہیں 1984 میں خوراک اور زراعت کا وزیر مملکت تعینات کیا گیا۔سرتاج عزیز کی میاں محمد نواز شریف کے ساتھ پہلی ملاقات 1985 کے الیکشن کے بعد قومی اسمبلی کی سپیکر گیلری میں ہوئی۔ سرتاج عزیز کو حیرت ہوئی کہ وہ ممبر قومی اسمبلی ہیں مگر حلف اٹھانے کے بجائے گیلری میں کیوں بیٹھے ہیں۔ وہ نواز شریف کی طرف گئے اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے بے ساختہ بولے ’کیا آپ پنجاب کے وزیراعلی بننے والے ہیں؟‘سرتاج عزیز لکھتے ہیں کہ نواز شریف کا رد عمل اجنبیت بھرا، معنی خیز اور پراسرار تھا۔’انہوں نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ آنے والے برسوں میں جب انہیں مخاطب کی بات کا جواب نہ دینا ہوتا تو وہ اسی رویے کا مظاہرہ کرتے۔‘
ضیا الحق کی موت کے بعد مسلم لیگ نواز شریف اور جونیجو کیمپوں میں بٹ گئی۔ اس موقع پر دونوں گروہوں میں مصالحت اور انہیں یکجا کرنے کے لیے سرتاج عزیز سب سے زیادہ سرگرم رہے۔ یہیں سے میاں نواز شریف سے ان کی قربت کا آغاز ہوا۔بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خاتمے کے بعد غلام اسحاق خان کی طرف سے انہیں نگران وزیر خزانہ مقرر کیا گیا۔ اگلے الیکشن کے بعد میاں نواز شریف کی حکومت میں بھی وہ اس منصب پر فائز رہے۔سرتاج عزیز صدر پاکستان بننا چاہتے تھے لیکن ان کا یہ خواب ان کی زندگی میں پورا نہ ہو سکا۔15 دسمبر 1997 کو ہونے والی کابینہ کی خصوصی میٹنگ میں صدر فاروق لغاری کی رخصتی کے بعد جب نئے صدر کے نام کا اعلان کیا گیا تو سرتاج عزیز نے اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف سے شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا۔
’ہم سب آپ کہ فیصلوں کا احترام کرنے کے پابند ہیں۔ مگر مجھے ایک چیز کی ہمیشہ خلش رہے گی کہ گذشتہ 12 برس سے پارٹی کے لیے ہر چیز کرنے کے باوجود میں آپ کا اعتماد حاصل کرنے میں کیوں کامیاب نہیں ہوا ؟میاں محمد نواز شریف سے اپنی قربت اور اپنے غیر متنازع سیاسی کردار کی وجہ سے سرتاج عزیز اپنے آپ کو صدارت کا حقدار سمجھتے تھے۔فاروق لغاری کے ایوان صدر سے رخصتی سے چھ ماہ قبل مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے ایک اجلاس کی روداد بیان کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے لکھا ہے کہ ’اس میٹنگ میں یہ طے پایا کہ اگر نئے صدر کا انتخاب درپیش ہوا تو وہ اس کے سب سے مناسب اور موزوں امیدوار ہوں گے۔‘اگلے دن تمام اخبارات نے اس کو رپورٹ کیا کہ سرتاج عزیز پاکستان کے اگلے صدر ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے فاروق لغاری کے لیے پیغام بھی تھا۔
فاوق لغاری کہ ایوان صدر سے رخصتی کے بعد مسلم لیگ کے نمایاں رہنماؤں چوہدری نثار علی خان، الہی بخش سومرو اور دیگر نے انہی کو صدارت کے لیے منتخب کرنے کی حمایت کی۔اس وقت یہ بھی کہا گیا کہ چیئرمین سینٹ اور وزیراعظم ایک ہی صوبے سے ہیں۔ اس لیے صدارت اس وقت کے صوبہ سرحد کو ملنی چاہیے۔سرتاج عزیز کے مطابق میاں محمد نواز شریف نے چیف آف آرمی سٹاف جہانگیر کرامت سے بھی کہا کہ وہ صدارت کے لیے موزوں افراد کی جانچ پڑتال میں مدد کریں۔ جس کے بعد 15 ممکنہ امیدواروں میں سے سرتاج عزیز پہلے نمبر پر تھے۔
رفیق تارڈ کا نام صدارت کے لیے سامنے آنے پر سرتاج عزیز کو بھی حیرت ہوئی۔ جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شاید وزیراعظم نسبتا گمنام اور اپنے مکمل وفادار شخص کو یہ منصب سونپنا چاہتے تھے۔2014 میں نواز شریف جب تیسری بار وزیراعظم بنے تو سرتاج عزیز قومی سلامتی اور اکنامک افیئرز کے لیے ان کے مشیر تھے۔ اس بار جب صدر کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو بہت سارے لوگوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ سرتاج عزیز کو صدر نامزد کر کے ماضی کی غلطی کا ازالہ کر سکتے ہیں۔ مگر اس بار بھی نواز شریف کا فیصلہ ماضی سے مختلف نہ تھا۔
