سرنڈر کا لفظ میری لغت میں نہیں

جب بھی کوئی نئی طاقت افغانستان پر قابض ہوتی ہے تو سب کی نظر ایک ہی صوبے پر ہوتی ہے اور وہ ہے پنجشیر ، روس سے لے کر طالبان تک اس صوبے پر ابھی تک کوئی غلبہ حاصل نہیں کر سکتا ہے ، پنجشر کے جنگجو احمد شاہ مسعود نے تمام دشمنوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے اور اب ان کا بیٹا احمد مسعود صوبے پر اثرو رسوخ کرتا ہے ۔
پنجشیر افغانستان کے 34 صوبوں میں سے ایک ہے جو کابل سے تقریباً تین گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ صوبہ طالبان کے پچھلے دور 1996 سے لے کر 2001 تک میں بھی طالبان کے کنٹرول میں نہیں تھا اور ’شیر پنجشیر‘ کے نام سے مشہور احمد شاہ مسعود کی قیادت میں ناردن الائنس (شمالی اتحاد) طالبان کے خلاف جنگ اسی علاقے سے لڑتا تھا۔احمد شاہ محسود کے صاحبزادے احمد مسعود اس علاقے میں موجود ہیں جنہوں نے کچھ دن قبل واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں لکھا تھا کہ وہ اور ان جنگجو طالبان کے خلاف جنگ لڑنے کو تیار ہیں۔
اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اس وقت کابل موجود ہیں جنہوں نے ہفتے کے روز پنجشیر کی بااثر شخصیات باشمول مذہبی رہنماؤں اور مسلح کمانڈرز سے اپنے گھر پر ملاقات کی۔اس ملاقات کی تصاویر کو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ملک میں آنے والی تبدیلوں، امن اور اس استحکام قائم رکھنے کے طریقے کے حوالوں سے گفتگو کی۔سوشل میڈیا اور چند افغان صحافیوں کی جانب سے یہ خبریں بھی دی گئیں کہ احمد مسعود بغیر لڑائی کے پنجشیر طالبان کے حوالے کرنے کو تیار ہوگئے ہیں اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی پنجشیر کی بااثر شخصیات کی ملاقاتوں نے اب خبروں کو مزید تقویت دی۔
Unfortunately there is too much disinformation about @AhmadMassoud01 and the National Resistance Front on Twitter. He has neither reached an agreement nor will he pledge allegiance to anyone. Please do not publish such lies without verification!
— Ali Maisam Nazary (@alinazary) August 21, 2021
تاہم احمد مسعود کے ترجمان علی میسم ان خبروں کی تردید کررہے ہیں۔ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے یہاں احمد مسعود اور ان کے قومی مزاحمتی فرنٹ کو لے کر کافی ڈس انفارمیشن پھیلائی جارہی ہے۔‘’احمد مسعود کا کسی سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ کسی کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ برائے مہربانی بغیر تصدیق کے جھوٹ نہ چھاپیں۔‘اپنی اس ٹویٹ کے تیرہ گھنٹے بعد علی میسم نے امن کے لیے قومی مزاحمتی فرنٹ کی شرائط بھی ٹوئٹر پر شئیر کیں جن میں طاقت اور وسائل کی تقسیم، جمہوری نظام اور افغانستان کے تمام عوام کے لیے برابری کے حقوق شامل ہیں۔
I just spoke to Ahmad #Massoud on the phone. He told me: “I am the son of Ahmad Shah Massoud; surrender is not part of my vocabulary.” This is the start. The #Resistance has just begun. #Afghanistan #Panjshir #Kabul #LionOfPanjshir @ahmadmassoud01 pic.twitter.com/Xlj8mKKr1v
— Bernard-Henri Lévy (@BHL) August 21, 2021
فرانسیسی صحافی برنارڈ ینری لیوی نے بھی اس حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’میری ابھی احمد مسعود سے فون پر بات ہوئی ہے۔‘’احمد مسعود نے مجھے کہا ہے کہ میں احمد شاہ مسعود کا بیٹا ہوں اور سرنڈر کا لفظ میری لغت میں شامل نہیں۔‘برنارڈ کا مزید کہنا تھا ’یہ تو شروعات ہے۔ مزاحمت تو بس ابھی شروع ہوئی ہے۔‘
بشکریہ اردو نیوز
