گورنمنٹ اور نجی لیبارٹریز سے کرونا ٹیسٹ کا رزلٹ متضاد کیوں؟

https://youtu.be/VT5MRnZMnbM
پاکستان میں کرونا وائرس کی تشخیص کیلئے زیادہ تر پی سی آر اور اینٹی باڈی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں تاہم اینٹی باڈی ٹیسٹ کی حساسیت 90 فیصد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک لیبارٹری سے کرونا کے تشخیصی ٹیسٹ کے بعد دوسری سے ٹیسٹ کروانے کی صورت میں بعض مریضوں میں رزلٹ متضاد آجاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سرکاری اور پرائیویٹ لیبز میں کرونا ٹیسٹ کے لیے مختلف ٹیکنالوجیز کا استعمال ہے۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے کئی قسم کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جن کا طریقہ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے ساتھ ان کے نتائج کی حساسیت بھی مختلف ہے۔اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وائرس کی تشخیص کے لیے زیادہ تر’پی سی آر‘ ٹیسٹ ہی کیے جا رہے ہیں۔تاہم پاکستان کی کچھ نجی لیبارٹریوں نے پی سی آر ٹیسٹ کے علاوہ اینٹی باڈی ٹیسٹ یعنی آئی جی جی اور آئی جی ایم بھی متعارف کروائے گئے ہیں۔ عام طور پاکستان سمیت دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ’سواب ٹیسٹ‘ یا پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے کرونا کی تشخیص کی جا رہی ہے۔اس ٹیسٹ کو کرنے کے لیے مشتبہ متاثرہ شخص کے منھ یا ناک کے ذریعے نمونہ لیا جاتا ہے۔یہ طریقہ کافی آسان ہے۔ سواب ٹیسٹ ’پولیمریز چین ری ایکشن‘ یعنی پی سی آر ٹیسٹ کے لیے موزوں ہے۔
پنجاب کی سرکاری لیبارٹریوں کی ترجمان رافعہ حیدر نے بتایا کہ اس ٹیسٹ کے دو اہم حصے ہوتے ہیں۔’سب سے پہلے متعلقہ شخص کے نمونے سے آر این اے یعنی رائیبو نیوکلک ایسڈ کو نکالنے کا عمل کیا جاتا ہے اور پھر الگ کیے گئے آر این اے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں آر این اے میں وائرس کی موجودگی کو پرکھا جاتا ہے۔اس ٹیسٹ میں ’ہم وائرس سے مشتبہ متاثرہ فرد کے نمونے کا ایک ’نان کنٹرول‘ کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں جس کا مطلب وائرس کی وہ جینیاتی ترتیب ہے جو کرونا وائرس کی پہچان ہے۔ اگر نمونے میں وائرس پائے جانے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس شخص کے نتائج مثبت دیے جاتے ہیں۔ ٹیسٹ کے نتائج عموماً 24 سے 72 گھنٹوں میں آ جاتے ہیں۔اس ٹیسٹ کو سرکاری لیبارٹریوں میں مفت کیا جاتا ہے جبکہ نجی لیبارٹریوں میں اس ٹیسٹ کے تقریباً آٹھ ہزار روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔
کرونا کی تشخیص کے لئے اینٹی باڈی ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے۔اس ٹیسٹ کو کرنے کے لیے کسی بھی فرد کے خون کا نمونہ لیا جاتا ہے اور یہ جانچا جاتا ہے کہ جسم میں وائرس موجود ہے یا نہیں۔اس ٹیسٹ کو کرنے کے لیے ہسپتال یا لیبارٹری کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ’اس ٹیسٹ کو کرنے کا طریقہ بھی کافی آسان ہے۔ ہم جس طرح ذیابیطس کا ٹیسٹ کرتے ہیں اسی طرح کسی بھی فرد کی انگلی پر ہلکی سے سوئی چبھو کر خون کا نمونہ لے لیتے ہیں۔ اس ٹیسٹ کا نتیجہ 10 منٹ کے اندر اندر آ جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ کی قیمت پی سی آر ٹیسٹ کی قیمت سے بہت کم ہے۔ اس کی ٹیسٹنگ کٹ 1500 سے 2500 روپے میں دستیاب ہوتی ہے، جبکہ سرکاری سطح پر اس ٹیسٹ کو استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔
جب بھی کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کی بات کی جاتی ہے تو اکثر فالس پازیٹو (غلطی سے مثبت) اور فالس نیگیٹو (غلطی سے منفی) کی اصطلاحات بھی سامنے آتی ہیں۔رافعہ حیدر نے بتایا کہ فالس نیگیٹو سے مراد ہے کہ جب مریض کا نمونہ صحیح طرح نہ لیا جائے یا اس کی مقدار ضرورت سے کم ہو تو یہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس میں غلطی کی گنجائش ہوتی ہے کیونکہ اس ٹیسٹ کی حساسیت 70 فیصد ہے۔ تاہم فالس پازیٹو تب آتا ہے جب مشتبہ متاثرہ شخص کے نمونے ترسیل کے دوران یا تو کسی باہر کی چیز سے مل جائیں یا غلطی سے کسی مثبت نمونے کے ذریعے ملاوٹ ہو جائے۔فالس نیگیٹو نتائج آنے کی وجہ کسی شخص میں وائرس کے وائرل لوڈ کا کم ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مریض میں اس وائرس کی مقدار کم ہے۔ ایسے افراد میں اگر اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا جائے تو ان کی حساسیت تقریباً 90 فیصد ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button