جمائما نے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کو شاباش کیوں دی؟

عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ نے لندن کے ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کی جانب سے ایک نسل پرست انگریز کو اس کی مسلسل بدتمیزی کے باوجود انتہائی بردباری سے ہینڈل کرنے پر شاباش دی ہے۔
خیال رہے کہ نسل پرستی بھی ایک عالم گیر وباء کی طرح پوری دنیا میں پھیل چکی ہے، حال ہی میں امریکہ میں سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد نسل پرستی کے حوالے دنیا میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف ہونے والے احتجاج کا سلسلہ کئی مغربی ممالک تک بھی پہنچ گیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر سوشل میڈیا صارفین، بلاگرز اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی مدد آپ کے تحت نسل پرستی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ نسل پرستی کا یہ سلسلہ صرف سیاہ فاموں تک محدود نہیں بلکہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کو بھی اکثر سفید فاموں کی طرف سے تعصب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک نسل پرست انگریز نے ڈرائیور سے نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ متعصبانہ جملے بھی کسے۔ دوران سفر متعصب مسافر نے پاکستانی ڈرائیور سے پوچھا کہ تم خود کو سمجھتے کیا ہو جس پر ڈرائیور نے جواب دیا کہ میرا ایسا خیال نہیں۔ متعصب مسافر نے مزید کہا کہ ‘تمہیں لگتا ہے کہ پاکستان میں بھی کوئی خاص بات ہے، میں تمہیں ایک بات کہوں، میں چاہوں گا کہ بھارت پاکستان پر بمباری کردے’۔ اس کے جواب میں پاکستانی ڈرائیور نے بس اتنا کہا کہ ‘ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں’۔ اس کے باوجود متعصب مسافر نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کا سلسلہ جاری رکھا اور کہا کہ ‘پاکستان وہ جنگ کبھی نہیں جیت سکےگا’۔ اس بار بھی پاکستانی ڈرائیور نے کہا ‘کوئی مسئلہ نہیں’۔
پھر مسافر نے کہا کہ تمہیں معلوم ہے یہ انگلینڈ ہے جس پر پاکستانی ڈرائیور نے کہا کہ میں اس بات چیت کو فیس بک پرڈالوں گا، متعصب مسافر نے کہا کہ تم انگلینڈ میں کما رہے ہو تمہیں اس کی عزت کرنی چاہیے، پاکستانی ڈرائیور نے کہا کہ ‘بہت شکریہ سر، میں اس ویڈیو کو فیس بک پر ڈالوں گا تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، لوگ آپ کا چہرہ بھی دیکھ سکتے ہیں کوئی مسئلہ نہیں’۔ اس کے بعد متعصب مسافر نے کہا کہ تمہارا کیا خیال ہے جس پر پاکستانی ڈرائیور نے کہا کہ ‘بہت شکریہ آپ کا ٹائم پورا ہوگیا’۔
متعصب مسافر نے کہا کہ ‘تمہارا کیا خیال ہے کیا پاکستانی انگلش لوگوں کو ہرا سکتے ہیں، ایک دن تمہاری کمپنی ہماری کمپنی بن جائے گی جس پر پاکستانی ڈرائیور نے کہا کہ ہم یہاں مقابلے کیلئے نہیں ہیں’۔ اس تمام تر گفتگو کے دوران ڈرائیور مسافر انگریز سے ٹیکسی کا کرایہ ادا کرنے اور گاڑی سے اترنے پر اسرار کرتا رہا۔
پاکستانی ڈرائیور کے تحمل اور بردباری سے متاثر ہوکر عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے نسلی تعصب پر مبنی اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے پاکستانی ڈرائیور کی تعریف کی۔ انہوں نے اردو کا لفظ شاباش استعمال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی برٹش ڈرائیور قابل عزت ہے جس نے تعصب سے بھری بدسلوکی کے باوجود اپنے غصے پر قابو پائے رکھا۔
خیال رہے کہ نائن الیون حملوں کے بعد سے مسلمانوں کو دنیا بھر میں تعصب اور نفرت کی نظر سے دیکھنا جانے لگا ہے اور بعد ازاں دہشتگردی کو مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا ہے اور کئی ممالک میں اسلاموفوبیا اپنے عروج پر ہے۔
