سرکاری خرچ سے گوردوارہ بن سکتا ہے تو مندر کیوں نہیں؟


اسلام آباد کی رہائشی ہندو آبادی نے وفاقی دارالحکومت میں مندر کی تعمیر روکے جانے پر تنقید کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر کپتان حکومت بھارتی سکھوں کے لیے قومی خزانے سے 16 ارب روپے خرچ کر کے کرتارپور گوردوارہ اور راہداری بنا سکتی یے تو ہندو دھرم کے پاکستانی باسیوں کے لیے صرف دس کروڑ لاگت کا مندر کیوں تعمیر نہیں بننے دیا جا رہا جہاں وہ اپنی عبادات کر سکیں؟
یاد رہے کہ پاکستان میں مذہبی شدت پسند حلقوں کے سخت ردعمل کے بعد اسلام آباد میں ہندو برادری کے لئے مندر کی تعمیر رکوا دی گئی ہے۔ تاہم وفاقی دارالحکومت میں آباد ہندو دھرم سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت جبکہ مودی کے بھارت میں اقلیتوں پر زمین تنگ کی جا رہی ہے اور ان کی شہریت پر سوالیہ نشان لگائے جا رہے ہیں، پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے اعلیٰ ظرفی اور وسیع نظری کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے نہ کہ مودی والی پالیسی اپنائی جائے۔ ہندو برادری کا کہنا ہے کہ مندر کی سرکاری خرچ پر تعمیر سے ایک تو عالمی سطح پہ پاکستان کا مذہبی بنیادوں پر تفریق کا بگڑا ہوا امیج سنورے گا، دوسرا یہ اقدام پاکستان کے باسی ہندوؤں میں تحفظ، برابری کا احساس اور پاکستانی ہونے پر فخر کا جذبہ بھی پیدا کرے گا۔
تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر روکنے کا فیصلہ حکومت نے نہیں بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیا ہے۔ یاد رہے کہ 2015 میں ’اسلام آباد ہندو پنچایت‘ کے نام سے اک تنظیم قائم ہوئی۔ جس کے بنیادی مقاصد میں اسلام آباد میں آباد ہندو خاندانوں کے حقوق کا تحفظ شامل تھا۔ اِس وقت دارالحکومت میں قریب ڈیڑھ دو سو ہندو خاندان آباد ہیں۔ جن کی آبادی لگ بھگ تین ہزار بنتی ہے جنہیں اپنے مذہب میں بیان طریقے کے مطابق پوجا پاٹ واسطے مندر، ہولی کی خوشی منانے کے لیے کھلی جگہ اور میت کی آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے شمشان گھاٹ کی اشد ضرورت ہے۔ بے نظیر بھٹو کے آخری دور حکومت میں بھی اسلام آباد کی ہندو کمیونٹی نے مندر کے لیے جگہ کے حصول کیلئے درخواست دی تھی مگر جب جگہ دی جانے لگی تو حکومت کا ہی خاتمہ ہوگیا۔ 2016 میں ہندو پنچایت نے ہیومن رائٹس کمیشن کو جگہ کے حصول کیلئے دوبارہ درخواست دی.
2017 میں ہیومن رائٹس کمیشن اور وزارت مذہبی امور نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو سفارش کی کہ ہندو پنچایت کو مندر بنانے کے لئے اراضی الاٹ کی جائے۔ سی ڈی اے نے سفارش منظور کرتے ہوئے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن ٹو میں ہندو پنچایت کو چار کنال کا پلاٹ الاٹ کر دیا۔ چار کنال پر ایک کمپلیکس بنانے کی تجویز زیر غور تھی جس میں مندر، شمشان گھاٹ، مہمان خانہ اور پارکنگ واسطے جگہ مختص کی جانی تھی۔ پلاٹ کا قبضہ ملتے ہی ہندو پنچایت نے اپنے وسائل سے چار دیواری کا کام شروع کر دیا۔
کمپلیکس کی تعمیر کیلئے ہندو پنچایت کے پاس خاطر خواہ رقم نہیں تھی، تبھی پنچایت نے وفاقی وزیر مذہبی امور سے رقم کی فراہمی کی التجا کی۔ وفاقی وزیر نے حکومتی تعاون کی یقین دہائی کرائی اور دس کروڑ روپے کے فنڈز کی فراہمی کی تجویز وزیر اعظم کو بھیج دی گئی۔ پلاٹ کا قبضہ ملنے اور رقم کی فراہمی کی یقین دہانی سے ہندو دھرم کے پاکستانی باسیوں میں خوشی ومسرت کی اک لہر دوڑ گئی۔ مگر خوشی کی یہ خبر عارضی ثابت ہوئی۔ ہوا یوں کہ وزیر اعظم عمران خان کو سمری ارسال ہوتے ہی الیکٹرانک و سوشل میڈیا پہ کہرام بپا ہو گیا۔ چہار جانب سے ہندو دھرم کے بارے میں فکری یلغار شروع ہو گئی۔ ایسا طوفان اٹھایا گیا کہ معقول آوازیں دَبتی چلی گئیں۔ عشروں سے قائم لاہور کے جامعہ اشرفیہ نے مندر کی تعمیر کے خلاف فتویٰ جاری کر دیا۔ ’غیرتِ ایمانی‘ کے حامل چند وکلا مندر کی تعمیر رکوانے واسطے عدل کا دروازہ پیٹتے دکھائی دیے۔ چہار سو گونجتے غوغا سے گھبرا کر سی ڈی اے نے مندر کی چار دیواری کی تعمیر رکوا دی۔ جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے اسلامی نظریاتی کونسل سے اس بارے میں رائے طلب کر لی کہ آیا غیر مسلموں کی عبادت گاہ کی تعمیر واسطے سرکاری خزانے سے روپیہ خرچ کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے شدت پسند مذہبی حلقوں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ اسلام کے نام پر بنے ملک میں ہندوؤں کی عبادت کی خاطر نئے مندر کی تعمیر بھلا کیسے ممکن ہے؟ اس ضمن میں یہ اصولی بات یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان جنگ و جدل سے نہیں بلکہ صلح کے اصول پر باہمی معاہدے سے قائم ہوا۔ جس میں بسنے والے مختلف دھرموں کے لوگوں کو برابر کا شہری تسلیم کیا گیا۔ دستور پاکستان میں اقلیتوں کو نہ صرف مکمل مذہبی آزادی کی ضمانت فراہم کی گئی بلکہ انہیں برابر کے شہری حقوق بھی مہیا کیے گئے۔ بانی پاکستان محمد علی جناح نے بھی یہ بات واضح کی تھی کہ کہ پاکستان میں ہندوؤں مسلمانوں اور عیسائیوں کو اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کی آزادی ہو گی۔
اب سوال یہ ہے کہ جب آئین پاکستان میں تمام شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اقلیت میں شمار ہندو دھرم کے لوگ مذہبی آزادی کے بنیادی حق کو استعمال کرتے ہوئے مندر تعمیر نہیں کر سکتے؟ جب آئین پاکستان انہیں مذہبی آزادی مہیا کرتا ہے کیوں ایک مخصوص طبقہ مندر کی تعمیر پر طوفان کھڑا کیے ہوئے ہے؟
یہ بھی سننے کو مل رہا ہے کہ ایک ایسے ملک میں بت کدہ کیسے تعمیر ہو سکتا ہے جس کی بنیاد ہی دو قومی نظریہ پر ہو؟ یہ مفروضہ سراسر دو قومی نظریے کی غلط تشریح پر مبنی ہے۔ دو قومی نظریہ سے مراد ہے کہ مسلمان تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی حوالے سے ایک مکمل و الگ قوم ہیں۔ جن کے سیاسی، سماجی، تقافتی اور معاشی حقوق ہندوؤں سے جدا ہیں۔ دو قومی نظریے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہندو دھرم کے پاکستانی باسیوں سے دشمنی پال لی جائے اور انہیں پاکستان میں جینے کے حق سے محروم کر کے نکال باہر کیا جائے۔اس دوران ایسی آوازیں بھی سُننے کو ملتی ہیں کہ ہندوؤں کے دیس بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہیں بہ زورِ بازو گرائی جا رہی ہیں اور ادھر اکثریتی مسلم ملک میں ہندوؤں کی عبادت واسطے بت کدے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اگر بھارت میں اقلیتوں سے برا برتاؤ روا رکھا جا رہا ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم بھی اس کی دیکھا دیکھی اپنی طرف کی اقلیتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنا شروع کر دیں۔
اس تناظر میں بطور مسلم سماج ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ ہم حسن اخلاق اور رواداری کا ایسا مظاہرہ کریں کہ ہماری طرف کی اقلیتیں عزت و افتخار کے ساتھ پاکستانی شہری ہونے پہ فخر کر سکیں۔
ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اسلامی مملکت کے سرکاری خزانے سے بت کدے یعنی مندر کی تعمیر جائز کیسے ہو سکتی ہے؟ اس اعتراض پر کپتان سرکار نے اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی رہنمائی طلب کی ہے۔ مگر اس پہلو پر بھی غور کیا جانا چاہیے کہ جب ریاست کی نگاہ میں برابر کے شہری ہونے کے ناتے ہندو حصہ بقدر جثہ کے تحت ریاست کو ٹیکس دیتے ہیں تو کیا ان کا یہ حق نہیں کہ وہ ریاست سے عبادت گاہ کی تعمیر کے لیے معاونت حاصل کر سکیں؟
اس اعتراض کا جواب اسلام آباد کی ہندو برادری نے دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملکی خزانے سے 16 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کر بھارتی سکھوں کے لئے پاکستان میں گردوارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے تو صرف دس کروڑ روپے کی رقم خرچ کر پاکستان کے ہندو باسیوں کے لیے ایک مندر کی تعمیر کیوں نہیں ہو سکتی جو کہ ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ عالمی سطح پہ پھیلے منفی تاثر کا توڑ کرتے ہوئے خان سرکار نے پچھلے برس ہی بھارتی سکھوں کی پاکستان میں مقدس مقام تک رسائی کیلئے سرکاری خزانے سے اربوں روپے خرچ کر کے کرتا پورراہداری تعمیر کی، جس سے سکھ زائرین کو اپنے مقدس مقام کی زیارت کے لیے سرحد عبور کر کے آنے میں آسانی ہو گئی ہے۔ اس منصوبے پر 16 ارب روپے خرچ ہوئے مگر حیرت کی بات ہے کہ کسی مذہبی یا سیاسی حلقے نے اس پر واویلا نہیں مچایا، نہ کسی نے عدالت کا رخ کیا۔ تو سوال یہ ہے کہ اگر خان سرکار بھارت میں آباد سکھوں کے لیے قومی خزانے سے اربوں خرچ کر کے راہداری کھول سکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں شعوری طور بر بسنے والے ہندو دھرم کے باسیوں کیلئے سرکاری خرچ پر عبادت گاہ تعمیر نہیں ہو سکتی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button