سرکاری TV چلانے کے لیے 21 ارب کا جرمانہ عوام کیوں دیں؟

اپنے سرکاری ماؤتھ پیس پاکستان ٹیلی ویژن کا 21 ارب روپے کا بوجھ مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے کندھوں پرڈالنے کے فیصلے کے بعد کپتان حکومت شدید عوامی تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ یاد رہے کہ وفاق نے سرکاری ٹی وی کا خسارہ پورا کرنے کے لیے بجلی کے بلوں میں وصول کی جانے والی لازمی فیس میں تین گنا یکشمت اضافہ کرتے ہوئے اسے 35 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 100 روپے ماہانہ کر دیا ہے۔ اس طرح وفاقی حکومت عوام کی جیبوں سے 21 ارب روپے سالانہ نکالے گی اور وزیر اعظم صدر اور حکومتی وزرا کی ذاتی تشہیر پر صرف کرے گی۔
یاد رہے کہ دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں سرکاری ٹی وی کے لیے ایسا کوئی ٹیکس وصول نھیں کیا جاتا۔ لہذا عوام نے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی وی کی فیس ان ناکام حکومتی ممبران اسمبلی سے چارج کرنی چاہیے جن کی ناقص کارکردگی کو پی ٹی وی سارا دن بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ شاید ہی ایک لاکھ لوگوں میں کوئی ایک فرد کسی وقت پی ٹی وی لگا کر چند منٹ دیکھتا ہو کیونکہ اس پر سرکار کی مدح سرائی کے علاوہ اور کچھ نشر نہیں ہوتا۔ عوام نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ حکومت اپنی ذاتی تشہیر کا جرمانہ ان سے کس قانون کے تحت وصول کر رہی ہے؟
یاد رہے کہ حکومت نے ایک سرکلر کے ذریعے وفاقی کابینہ سے پی ٹی وی فیس میں اضافے کی منظوری لی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ فیس 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کیے جانے سے صارفین پر سالانہ 23 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔
حکومتی فیصلے پر سوشل میڈیا صارفین حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے طنزاور تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کپتان کے ماضی کے بیانات کا پوسٹ مارٹم کرتے نظر آ رہے ہیں۔سوشل میڈیا صارفین نے پی ٹی وی فیس میں اضافے اور اس کے استعمال کو موضوع بحث بنایا تو وزیراعظم عمران خان کے ماضی میں ایک جلسے سے خطاب کی ٹویٹ بھی پھر سے گردش کرنے لگی۔ تحریک انصاف کے آفیشل ہینڈل سے کی گئی ٹویٹ 16 نومبر 2014 کو جہلم میں عمران خان کے خطاب کی ہے۔ اس میں عمران خان کہتے ہیں کہ ’ہر ماہ لائسنس فیس کے نام پر 35 روپے وصول کیے جاتے ہیں جو ہر سال 10 ارب روپے بنتے ہیں لیکن کچھ پتا نہیں اس کا استعمال کہاں ہوتا ہے‘۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ آج وہ بھی عمران خان کی طرح یہ سوال کر رہے ہیں کہ پی ٹی وی کی فیس کی مد میں ماہانہ جمع کئے جانے والے اربوں روپے کہاں جاتے ہیں اتنے سال گزرنے کے باوجود ابھی تک پی ٹی وی کیوں اس قابل نہیں ہوا کہ اپنا بزنس پلان مرتب کرتے ہوئے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے؟
وزیراعظم کا پرانا بیان اور اس کی ویڈیوز سامنے آئیں تو کچھ صارفین نے فوراً عمران خان کو تجویز دی کہ وہ ڈی چوک پر اس اضافے کے خلاف احتجاج کریں۔ سوشل میڈیا صارفین کا حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مالی وسائل کی قلت کا شکار پی ٹی وی کے ڈوبنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کو کمرشل بنیادوں پر چلانے کی بجائے سرکار کا ماؤتھ پیس بنا دیا گیا ہے. لوگ ناکام سرکار سے الرجک ہیں لہذا وہ پی ٹی وی سے بھی اکتا ہو چکے ہیں۔
ٹی وی فیس میں یکلخت 200 فیصد اضافے کی اطلاع کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن پر پیش کیے جانے والے مواد کا معیار سوشل میڈیا صارفین کی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ پی ٹی وی پاکستان کے کسی چھوٹے سے چھوٹے اور تھکے سے تھکے پرائیویٹ ٹی وی چینل سے بھی گیا گزرا چینل بن چکا ہے۔ ایک صارف نے پی ٹی وی کو ’سفید ہاتھی‘ قرار دیتے ہوئے پیش کردہ مواد پر سوال اٹھایا کہ سینکڑوں افراد پر مشتمل ٹیم ہمیں صرف یہ بتاتی ہے کہ آرمی چیف، صدر اور وزیراعظم نے آج کیا کہا؟ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کک پی ٹی آئی نے اپنے انتخابی منشور میں پی ٹی وی کو آزاد و خودمختار میڈیا ہاؤس بنانے کا اعلان کیا تھا تاہم وہ اپنے دیگر انتخابی وعدوں کی طرح یہ وعدہ پورا کرنے میں بھی ناکام رہی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سرکاری نشریاتی ادارہ تقریباً 6 دہائیوں میں اپنا مارکیٹنگ پلان بنانے کے قابل نہیں ہوا جبکہ اس کے مقابلے میں کچھ سال قبل آنے والے کئی نجی نشریاتی ادارے منافع کمارہے ہیں۔
پی ٹی وی فیس کے معاملے پر تبصرہ کرنے والے کچھ صارفین نے کراچی کے علاوہ ملک بھر کے بجلی صارفین سے فیس لیے جانے کا ذکر کیا تو لگے ہاتھوں یہ مشورہ بھی دے ڈالا کہ پی ٹی وی کی نجکاری کر دی جائے تاکہ حکومت اور لوگوں پر بوجھ نہ پڑے۔ صدام عباسی معاملے کے مختلف رخ کے ساتھ سامنے آئے تو شکوہ کیا کہ ان کے گھر ٹیلی ویژن نہیں ہے لیکن اس کے باوجود پندرہ برسوں سے یہ فیس دیے چلے جا رہے ہیں۔ صغیر بٹ نے پی ٹی وی فیس پر تنقید کرنے والوں کو مخاطب کیا تو لکھا کہ ’بس گھبرانا نہیں بچو‘۔
بہت سے صارفین فیس میں اضافہ کرنے یا نہ کرنے پر بحث کرتے رہے تو کچھ ایسے بھی تھے جو مجوزہ اضافے کے بہتر استعمال سے متعلق تجاویز دیتے رہے۔
ناصر محمود شیخ نے فیس بک پر اپنے تبصرے میں لکھا کہ ’ٹی وی کے نام پر وصول ہونے والے 100 روپے میں سے 25 روپے ریسکیو 1122 کو دے دیں تاکہ وہ جدید گاڑیاں اور آلات خرید سکے‘۔
دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن حکومتی نشریاتی ادارہ ہے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس لئے یہ پاکستان کے عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستی ٹیلی ویژن کی بحالی کے لیے تعاون کریں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں سنہ 2007 سے بجلی بلوں کے ذریعے پی ٹی وی لائسنس فیس وصول کرنے کا آغاز کیا گیا تھا۔ ابتدا میں 25 روپے فی کنکشن کے حساب سے یہ رقم تقریبا تین ارب روپے تھی جو بجلی صارفین میں اضافے سے بڑھ کر سات ارب روپے ہو گئی تھی۔تاہم پی ٹی وی فیس پر ماضی میں بھی یہ کہہ کر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ بلاامیتاز ہر کسی خصوصا مساجد و نادار افراد سے یہ فیس وصول کرنا ناقابل فہم اقدام ہےجبکہ ابتدا میں 25 روپے وصول کی جانے والی فیس بڑھا کر 35 روپے کر دی گئی تھی جو اب 100 روپے کرنے کے احکامات جاری کئے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ سرکاری ٹیلی ویژن کو پاکستانی ٹیلی ویژن کارپوریشن کے نام سے چلایا جاتا ہے۔ 26 نومبر 1964 کو نجی ادارے کے طور پر شروع کیے جانے والے چینل کو 1970 میں اس وقت کی حکومت نے قومیا لیا تھا۔ 1990 تک پی ٹی وی پاکستان میں فعال اکلوتا ٹی وی چینل تھا۔ ملک کے آٹھ مختلف شہروں میں اہم دفاتر رکھنے والے ادارے کے زیراہتمام خبروں، کھیلوں سمیت علاقائی زبانوں اور دیگر موضوعات کے متعدد چینلز چلتے ہیں۔
