’’سرکاری ملازمین کو مفت بجلی کی بجائے تنخواہیں بڑھانے پر غور‘‘

سرکاری ملازمین کی جانب سے اربوں روپے کی بجلی مفت استعمال کے جانے کے انکشاف کے بعد حکومت نے مفت بجلی پر پابندی لگانے سمیت تنخواہیں بڑھانے پر غور شروع کر دیا ہے، 2022 کے دوران 18 لاکھ 9 ہزار ملازمین نے 8 ارب 19 کروڑ کی مفت بجلی استعمال کی۔کچھ عرصہ قبل نیپرا کی جانب سے ہوشربا تفصیلات دیتے ہوئے تسلیم کیا گیا تھا کہ سرکاری ملازمین نے ایک برس میں 34 کروڑ 46 لاکھ یونٹس بجلی مفت استعمال کی، وزارت توانائی نے ایوان کو بتایا ہے کہ سرکاری ملازمین کو دی جانے والی مفت بجلی کے بدلے انہیں رقم دینے کا منصوبہ زیرغور ہے۔سرکاری ڈیٹا میں تسلیم کیا گیا کہ بجلی چوری یا اس میں سہولت کاری کی پاداش میں 10 سرکاری ڈسکوز کے 743 ملازمین وافسران کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ 422 اہلکاروں کا تعلق حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، 124 ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی، 118 لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی، 44 فیصل آباد، 12 ٹیسکو اور سیپکو جبکہ 11 کا تعلق اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی سے ہے۔ماضی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو دیے گئے نیپرا ریکارڈ کے مطابق توانائی کے شعبے سے وابستہ ایک تا درجہ چہارم کے حاضر سروس ملازمین 100 یونٹ جب کہ ریٹائرڈ کو 50، پانچویں سے 10ویں اسکیل تک حاضر سروس 150 اور ریٹائرڈ کو 75 یونٹس، 11ویں سے 15ویں اسکیل تک حاضر سروس کو 200 اور ریٹائرڈ کو 100 یونٹس بجلی مفت دی جاتی ہے۔16ویں اسکیل کے حاضر سروس کو 300، 17ویں کو 450، 18ویں کو 600 یونٹس، 19ویں گریڈ کو 880، 20ویں کو 1110 اور 21 و 22 گریڈ کو 1300 یونٹس مفت دیئے جاتے ہیں، ان پے اسکیلز کے ریٹائرڈ افسران کو حاضر سروس کے نصف یونٹس مہیا کیے جاتے ہیں۔وزارت بجلی کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2023 میں پیدا ہونے والی بجلی 126 ارب یونٹ رہی جو سالانہ بنیاد پر 10 فیصد کم ہے۔ یہ گزشتہ ایک دہائی میں بجلی پیدا کرنے کی استعداد میں سب سے زیادہ کمی ہے۔جون 2023 میں پاکستان نے اوسطا 10.5 ارب یونٹ بجلی پیدا کی جو گزشتہ برس کے اسی مہینے سے ایک فیصد کم جب کہ گزشتہ دو برس میں کسی ایک ماہ کے دوران ہونے والی سب سے کم پیداوار ہے۔ گویا ہر روز 33 کروڑ یونٹس بجلی پیدا ہوئی۔ماہرین کو خدشہ ہے کہ بجلی کی پیداوار میں مسلسل کمی کا سب سے زیادہ نقصان صارفین کو بھگتنا ہوگا، انفراسٹرکچر کی لاگت سابقہ جیسی رہے گی جب کہ کم بجلی پیدا ہونے سے وہ لاگت تقسیم نہ ہو سکے گی نتیجتا صارفین کو مہنگی بجلی ملے گی۔اسی دوران بجلی کی پیداوار کی قیمت میں کمی کی اچھی خبر سامنے آئی۔ جون 2023 میں ایک کلوواٹ بجلی 9.63 روپے کی قیمت سے بنی جو گزشتہ برس جون میں 14.72 روپے تھی۔حصص کے کاروبار سے وابستہ ادارے عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق مقامی کوئلے کو استعمال کرنے والے پلانٹس کے پاور پروڈکشن سسٹم میں شامل ہونے سے 32 فیصد لاگت کم ہوئی ہے۔فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 28 فیصد، آر ایل این جی کی قیمت میں 15 فیصد کمی واقعہ ہوئی، البتہ جوہری، ہائیڈل اور سولر ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت میں 47، 12 اور 22 فیصد کا اضافہ ہوا۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن (ٹی اینڈ ڈی) نقصانات بھی ایک اہم مسئلہ ہے جو توانائی کے شعبے کے لیے پریشان کن ہیں۔ نیپرا کے مطابق مالی سال 2021-22 میں تقریبا 72 ارب روپے کی بجلی ان نقصانات کی وجہ سے ضائع ہوئی۔نیپرا کی گزشتہ مالی سال کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بجلی کی تقسیم کے ذمہ دار اداروں کو ٹیرف میں ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن لاسز کی 13.46 فیصد مقدار کی اجازت ہے تاہم اصل خسارہ 16.69 فیصد ہے۔ پیسکو نے ایک سال میں 63 ارب، آئسکو نے 21 کروڑ، لیسکو نے 9 ارب، کیسکو نے 18 ارب روپے، حسیکو نے 14 ارب، سیپکو نے 21 ارب، کا نقصان کیا۔مجموعی طور پر بجلی کی تقسیم سے وابستہ اداروں نے مالی سال 2021-22 کے دوران 122.59 ارب روپے کا نقصان کیا۔ ان اداروں نے مالی سال کے دوران 2686.787 ارب روپے کے بل بھیجے جس میں سے 1695.97 ارب روپے وصول نہیں کیے جا سکے۔
