سزائے موت کے خلاف مشرف کو اپیل کیلئے سرنڈر کرنا ہو گا

خصوصی عدالت سے خود کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے پرویز مشرف کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا چونکہ اس وقت انکا سٹیٹس عدالتی سزا یافتہ مفرور مجرم کا یے۔
تاہم مشرف کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ سرنڈر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور بہانہ وہی پرانا ہے کہ میں بیمار ہوں اور بیرون ملک علاج کروا رہا ہوں۔
سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اگر مشرف کیس کے فیصلے میں سرینڈر کرنے کا نہیں کہا جاتا تو بغیر گرفتاری دیئے مشرف کی جانب سے اپیل دائر کی جاسکتی تھی۔ لیکن چونکہ خصوصی عدالت کے فیصلے میں یہ لکھا جاچکا ہے کہ وہ سرنڈر کیے بغیر اپیل دائر نہیں کرسکتے اس لئے مشرف کا ملک واپس آکر اپیل دائر کرنے کے لئے عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ضروری ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ جب عدالت اپنے فیصلے میں لکھتی ہے کہ مجرم کو اپنے آپ کو حکام کے حوالے کرنا ہوگا تو وہ ایسا کیے بغیر اپیل دائر نہیں کرسکتا۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کامران مرتضیٰ نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا مشرف کی اپیل قبول نہ کرنا درست ہے کیوں کہ خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ مجرم پہلے اپنے آپ کو حکام کے حوالے کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت اپنے فیصلے میں ایسا نہیں لکھتی تو وہ بغیر گرفتاری دیئے اپیل دائر کرسکتے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عام طور پر فوجداری مقدمات میں عدالتیں مقررہ وقت گزرجانے کے بعد بھی اپیل دائر کرنے کی اجازت دیتی ہیں کیوں کہ یہ معاملہ عدالت اور مجرم کے درمیان ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معزول وزیراعظم نوازشریف کو سپریم کورٹ نے 9 سال گزرجانے کے بعد اپیل دائر کرنے کی اجازت دی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سول مقدمات میں عدالتیں وقت کے حوالے سے بہت سخت ہوتی ہیں کیوں کہ ان میں عوامی حقوق کا مسئلہ ہوتا ہے۔
عام طور پر عدالتیں اپیل دائر کرنے کے لیے مجرم کی گرفتاری کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔لیکن نواز شریف کے مشرف طیارہ سازش کیس میں ان کو غیرحاضری میں سزا سنائی گئی اور اس فیصلے کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں اپیل کا حق بھی دیا گیا۔ نوازشریف کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی اپیل منظور کی اور اس بات کی انکوائری کی کہ انہوں نے سزا کے بعد گرفتاری دی تھی اور یہ کہا گیا تھا کہ ان کی درخواست اس لیے منظور کی گئی ہے کیوں کہ سابق وزیراعظم کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی تھی اور وہ اڈیالہ جیل میں تھے۔
خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ مفرور مشرف کو گرفتار کرنے کی ہرممکن کوشش کریں اور قانون کے مطابق سزا کو یقینی بنائی جائے۔ 16 جنوری کے روز سپریم کورٹ رجسٹرار نے پرویز مشرف کی درخواست مسترد کردی اور سپریم کورٹ رولز کے تحت اعتراض لگایا کہ مجرم کو درخواست دینے سے قبل حکام کو گرفتاری دینا ہوگی۔ سابق ڈکٹیٹر کے وکیل کو رجسٹرار کے فیصلے کے 30 روز کے اندر دوبارہ اپیل کرنا ہوگی۔ جس کے منظور ہونے کے بعد ہی لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ جس میں خصوصی عدالت کے فیصلے اور قیام کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا کا بھی فیصلہ ہوگا۔
آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ درخواست لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی تھی کیوں کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل سنگین غداری ایکٹ کے تحت سپریم کورٹ میں ہی دائر کی جاسکتی ہے۔ ویسے بھی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرکے مشرف نے یہ تسلیم کر لیا کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ صرف سپریم کورٹ میں چیلنج ہوسکتا ہے۔
