سزا ایف اے ٹی ایف کے دباؤ پر سنائی گئی، وکیل حافظ سعید

کالعدم تنظیم جماعت الدعوة کے سربراہ پروفیسر حافظ سعید کے وکیل عمران فضل گل نے حافظ سعید کو سزا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے دباؤکا تنیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حافظ سعید کو سزا کوئی بھی جرم ثابت ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف ایف اے ٹی ایف کو خوش کرنے کیلئے سنائی گئی
انسداد دہشتگردی عدالت کی طرف سے حافظ سعید کو 11 سال قید کی سزاپر ردعمل دیتے ہوئے ایڈووکیٹ عمران فضل نے کہا ہے کہ حافظ سعید اور پروفیسر ظفر اقبال کو اگرچہ کالعدم تنظیم سے تعلق پر سزا سنائی گئی، تاہم یہ بات بھی واضح رہے کہ ان پر عائد الزامات کے کوئی ثبوت نہیں مل سکے جبکہ دہشتگردی کی معاونت اور غیر قانونی فنڈنگ کے بھی کوئی ثبوت پیش نہ کئے گئے۔ عمران گل کا کہنا ہے کہ فیصلے کا تفصیل سے جائزہ لینے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ واضح رہے 12فروری 2020ء کو لاہور کی عدالت نے حافظ سعید کو مختلف دہشتگرد تنظیموں کیلئے مبینہ فنڈ ریزنگ اور منی لانڈرنگ پر 11سال قید کی سزا سنائی تھی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج ارشد حسین بھٹہ نے حافظ سعید کے حوالے سے دو مقدمات پر یہ فیصلہ سنایا۔ حافظ سعید کو فنڈ ریزنگ اور منی لانڈرنگ پر ساڑھے پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ پاکستان میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو مقدمات میں مجموعی طور پر 11برس قید کی سزاسنائی ہے۔
خیال رہے کہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی پنجاب نے دہشت گردی میں ملوث کالعدم تنظیموں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان میں 5 کالعدم تنظیموں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ جس کے بعد حافظ سعید کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button