حافظ سعید کو سزا اہم پیشرفت قرار، امریکہ کا خیر مقدم

امریکا نے حافظ سعید کو مجرم ٹھہرائے جانے کو دہشتگردوں کی معاونت سے نمٹنے کے پاکستان کے وعدے پورا کرنے سے متعلق بھی اہم قدم قرار دیا ہے۔
12 فروری کے روزلاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے دہشت گردی کے دو مختلف مقدمات میں کالعدم جماعت الدعوہ کے امیر حافظ سعید اور ان کے ساتھی ظفراقبال کو مجموعی طورپرگیارہ سال قید اور تیس ہزار روپے جرمانے کی سزا کاحکم سنایا تھا۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دونوں ملزمان پر 15 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا جبکہ عدالت نے حافظ سعید کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام سے بری بھی کیا ہے۔


حافظ سعیداور ان کے ساتھی کو سزا پر امریکی محکمہ خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حافظ سعید اور ان کے ساتھی کو مجرم قرار دیا جانا اہم پیشرفت ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ جنوب و وسطی ایشیاء بیورو کا کہنا ہے کہ حافظ سعید کو مجرم ٹھہرایا جانا لشکر طیبہ کو اس کے جرائم پر انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اہم قدم ہے۔ حافظ سعید کو مجرم ٹھہرایا جانا دہشتگردوں کی معاونت سے نمٹنے کے پاکستان کے وعدے پورا کرنے سے متعلق بھی اہم قدم ہے۔


خیال رہے کہ کالعدم جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کو 17 جولائی 2019 کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ 26 ستمبر 2019 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو ذاتی اکاؤنٹ سے رقم نکالنےکی اجازت دی تھی۔
12 فروری کے روز انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے حافظ سعید سے متعلق فیصلہ سنایا۔عدالت نے دونوں مقدمات میں حافظ سعید اورشریک ملزم ظفراقبال کومجموعی طورپرگیارہ سال قید اورمجموعی طور پر تیس ہزار روپے جرمانے کی سزا کابھی حکم سنایا۔ عدالت نے حافظ سعید اور ان کے ساتھی ظفراقبال کیخلاف سی ٹی ڈی گوجرانوالہ اورسی ٹی ڈی لاہورمیں درج دومقدمات کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے لاہور اور گوجرانوالہ میں جماعت الدعوہ کی جائیدادوں کوٹیررفنانسنگ کے ذریعے خریدنے ،استعمال کرنے اورکالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے کاجرم ثابت ہونے پرحافظ سعید اور ان کے ساتھی ظفراقبال کوسزا سنائی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button