کیا مولانا حکومت مخالف کوئی نیا اپوزیشن اتحاد بنانے والے ہیں؟

ملکی سیاست ایک بار پھر نئے موڑ پرکھڑی ہے جہاں پسِ پردہ رابطوں، سیاسی ملاقاتوں اور ممکنہ اتحادی سرگرمیوں کی بازگشت نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔ کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنماؤں کی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی رہنماؤن کی مولانا سے ملاقات محض ایک رسمی مشاورت تھی یا اپوزیشن کی حکومت مخالف کوئی نئی صف بندی ہونے والی ہے؟ مبصرین کے بقول ملک میں بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی، سیاسی بے یقینی اور حکومت مخالف بیانیے کے تناظر میں اس ملاقات کو معمول کی سیاسی ملاقات قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے، مختلف سیاسی قوتوں کا ایک دوسرے کے قریب آنا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامہ بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ خاص طور پر پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں، جے یو آئی (ف) کی قیادت اور دیگر سیاسی شخصیات کی ایک ہی میز پر موجودگی نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ ملک میں ایک نئی سیاسی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، جس کا مقصد نہ صرف اپوزیشن کو متحرک کرنا بلکہ طاقت کے مراکز کے ساتھ نئے سیاسی توازن کی راہ ہموار کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کراچی میں ہونے والی حالیہ سیاسی ملاقات نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سابق اراکین اور اہم سیاسی شخصیات نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرکے نہ صرف سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کی بلکہ اپوزیشن کی ممکنہ نئی صف بندیوں کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو بھی تقویت دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات مولانا فضل الرحمان کے دورہ کراچی کے دوران مولانا راشد محمود کی رہائش گاہ پر ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، اپوزیشن کے کردار، اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا ایک اہم مقصد پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنا بھی تھا۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، تاہم سیاسی مبصرین اس ملاقات کو مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کا اہم اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ملاقات میں شریک شخصیات میں محمود مولوی، محمد علی درانی، عمران اسماعیل، فواد چودھری، شہزاد وسیم، عامر کیانی، عباس جعفری اور بیرسٹر محمد علی سیف شامل تھے، جبکہ جے یو آئی (ف) کی جانب سے اسلم غوری، علامہ راشد محمود سومرو، قاری محمد عثمان اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس ملاقات کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں مختلف سیاسی پس منظر رکھنے والے رہنما ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر نظر آئے۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف ایک مؤثر اور متحد حکمت عملی کی ضرورت محسوس کر رہی ہیں۔ملک میں جاری معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی کشیدگی نے اپوزیشن جماعتوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ملاقات میں شریک وفد نے عوامی مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان پر زور دیا کہ وہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں۔
واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مولانا فضل الرحمان پہلے ہی حکومت مخالف بیانیے کو مزید جارحانہ انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے اعلان اور سیاسی رابطوں میں تیزی اس بات کا اشارہ ہے کہ جے یو آئی (ف) آنے والے دنوں میں اپوزیشن سیاست میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف سندھ کی قیادت نے اس ملاقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کون نظریے کے ساتھ کھڑا ہے اور کون اپنی سیاسی بقا کے لیے نئی پناہ گاہیں تلاش کر رہا ہے۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر بھی سابق رہنماؤں کی سرگرمیوں پر تحفظات موجود ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق اگر یہ رابطے مستقبل میں کسی بڑے سیاسی اتحاد یا مفاہمت میں تبدیل ہوتے ہیں تو اس کے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر اگر اپوزیشن جماعتیں مشترکہ نکات پر متفق ہو جاتی ہیں تو حکومت کے لیے سیاسی دباؤ میں اضافہ ممکن ہے۔تاہم یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ آیا یہ ملاقاتیں صرف وقتی سیاسی ضرورت ہیں یا واقعی ملک میں ایک نئی اپوزیشن صف بندی تشکیل پا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی رابطوں، بیانات اور ممکنہ اتحادوں سے اس سوال کا جواب مزید واضح ہو سکے گا۔
