پنکی کن سیاسی خاندانوں میں اموات کے بعد گرفتار کی گئی؟

جنگ اور دی نیوز سے وابستہ معروف تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری سندھ کے چند سیاسی خاندانوں میں منشیات کے استعمال سے ہونے والی اموات کے بعد عمل میں آئی، جس نے ملک کے بااثر حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ عمر چیمہ کے مطابق حالیہ عرصے میں جان کی بازی ہارنے والے کئی بااثر خاندانوں کے نوجوان پنکی کے نیٹ ورک سے فراہم کی جانے والی منشیات استعمال کرتے رہے تھے، جس کے بعد ایک انٹیلی جنس ایجنسی نے کارروائی شروع کی۔
سینیئر صحافی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اعلیٰ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ تحقیقاتی اداروں کے پاس پنکی سے منشیات خریدنے والوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جس میں ارکانِ اسمبلی کے بچے، سیاستدان، بیوروکریٹس، اداکار، اداکارائیں اور میڈیا سے وابستہ شخصیات شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے موبائل فون سے برآمد ہونے والے وائس میسجز انتہائی حساس نوعیت کے ہیں، جنہیں تحقیقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیقات سے وابستہ ایک افسر کے مطابق انمول عرف پنکی کا منشیات نیٹ ورک کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت مختلف شہروں تک پھیلا ہوا تھا۔ اگرچہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کافی عرصے سے اس کے سرگرم ہونے سے آگاہ تھے، تاہم سنجیدہ کارروائی اُس وقت شروع ہوئی جب سیاسی اشرافیہ کے خاندانوں میں اموات کے واقعات سامنے آئے۔ ایک عہدیدار نے انکشاف کیا کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے متاثرہ خاندانوں میں سے ایک نے اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کیلئے دباؤ بڑھایا۔ حکام کے مطابق سیاسی خاندانوں میں کم از کم تین ایسی اموات رپورٹ ہوئی ہیں جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق پنکی کی جانب سے فراہم کردہ منشیات کے استعمال سے تھا۔ تاہم متاثرہ خاندانوں کی شناخت صیغۂ راز میں رکھی گئی ہے۔
31 سالہ انمول عرف پنکی حالیہ برسوں میں پاکستان میں منشیات فروشی کے خلاف ہونے والی سب سے بڑی تحقیقات کا مرکزی کردار ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق ملزمہ کوکین کی تیاری اور سپلائی کے ایک منظم نیٹ ورک کی آپریشنل ہیڈ تھی۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ پنکی کا پہلا شوہر جو کہ ایک وکیل ہے ملائیشیا میں مقیم ہیں، اسی نے اسے کوکین کی تیاری کے دھندے پر لگایا تھا۔ تاہم جب بزنس چل پڑا تو دونوں میں طلاق ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون کے فرانزک معائنے میں 869 رابطہ نمبرز اور تقریباً 3 کروڑ روپے سے زائد مالی لین دین کا سراغ ملا ہے۔ دورانِ تفتیش انمول پنکی نے الزام عائد کیا کہ احسن نامی ایک افسر نے اسے گرفتار نہ کرنے کی یقین دہانی کے عوض اس سے 5 کروڑ روپے وصول کیے جبکہ ماہانہ 25 سے 30 لاکھ روپے بھی لیے جاتے رہے۔ پنکی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کے دوسرے شوہر، جو کہ ڈی ایس پی ہیں، نے اسی کے پیسوں سے دو بنگلے خریدے۔
ادھر 9 مئی 2026 کو کراچی میں بغدادی کے علاقے میں منشیات کے ایک عادی شخص کی موت کے بعد پنکی کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے، جبکہ ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس نیٹ ورک کے مالیاتی ڈھانچے، روابط اور اس کے سرپرستوں کی چھان بین کر رہی ہے۔
دوسری جانب تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ پنکی لاہور میں کرائے کے ایک پانچ مرلے کے گھر میں رہائش پذیر تھی۔ کرایہ نامہ 300 روپے کے سٹامپ پیپر پر 11 ماہ کیلئے تیار کیا گیا، تاہم یہ معاہدہ اس کے اپنے نام کے بجائے طاہر نامی شخص کے نام پر کیا گیا کیونکہ اس کا اپنا شناختی کارڈ بلاک کیا جا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ یکم اگست 2025 سے اس گھر میں مقیم تھی، جہاں اس نے 90 ہزار روپے ایڈوانس ادا کیا جبکہ ماہانہ کرایہ 45 ہزار روپے طے کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق چھاپے کے وقت گھر میں پنکی کے والدین اور اس کے دو بچے بھی موجود تھے، جبکہ گرفتاری کے بعد سے گھر بند پڑا ہے۔ فرانزک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک کے روابط صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ افریقی ممالک تک پھیلے ہوئے تھے۔ پولیس حکام کے مطابق تقریباً 300 افراد منشیات سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، جن میں 20 خواتین بھی شامل ہیں۔ حاصل شدہ 869 نمبرز میں سے 132 کا تعلق کراچی سے بتایا گیا ہے جبکہ متعدد نمبرز بیرونِ ملک اور افریقی باشندوں سے منسلک پائے گئے، جو لاہور میں مقیم تھے۔ تحقیقات کے مطابق اب تک 240 نمبرز کی لوکیشن ٹریس کی جا چکی ہے جبکہ ملزمہ دورانِ تفتیش بعض اہم نام ظاہر کر رہی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ کئی معلومات اب بھی چھپائی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر اس سلسلے میں کسی سرکاری افسر یا بااثر شخصیت کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ اسی سلسلے میں نیٹ ورک سے وابستہ چار افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پنکی نے کراچی اور لاہور میں منشیات کی ترسیل کیلئے درجن بھر رائیڈرز رکھے ہوئے تھے۔ اسکے مالیاتی ریکارڈ میں ایک بینک اکاؤنٹ کی 500 صفحات پر مشتمل ٹرانزیکشن ہسٹری بھی سامنے آئی ہے۔ تفتیشی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر اور انسدادِ منشیات فورس کے بعض اہلکار بھی پنکی نیٹ ورک کے سہولت کار رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے ایک سینئر پولیس افسر نے ماضی میں درج مقدمات میں پنکی کی مدد کی جبکہ کمزور تفتیش اور ناقص چالان کے باعث ملزمہ کو 9 کیسز میں عدالت سے ریلیف ملا۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جب پنکی کے مبینہ سپلائرز یا رائیڈرز گرفتار ہوئے تو بعض کیسز جان بوجھ کر کمزور بنائے گئے، جس کے نتیجے میں ملزمان رہائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
انمول پنکی نے دورانِ تفتیش یہ بھی دعویٰ کیا کہ اے این ایف کے انسپکٹر احسان نے اس کے بھائی ناصر کو متعدد بار حراست میں لیا مگر بھاری رشوت وصول کرنے کے بعد چھوڑ دیا۔ اس کے مطابق اے این ایف اہلکاروں کو اب تک تقریباً ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے رشوت دی جا چکی ہے۔
ملزمہ نے مزید الزام عائد کیا کہ اس کے سابق شوہر رانا ناصر کے بھائی رانا منصور ایڈووکیٹ اور رانا شہزور عرف سلطان کراچی میں منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہیں جبکہ رانا ناصر مختلف وکلا کے دفاتر اور چیمبرز میں منشیات چھپاتا تھا۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ درخشاں، گذری اور بوٹ بیسن تھانوں کو مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت دی جاتی رہی۔
انمول پنکی کے کیس میں کئی معتبر لوگوں کے نام نکل سکتے ہیں: آئی جی سندھ
تحقیقاتی ادارے اب اس پورے نیٹ ورک کے مالی، انتظامی اور سیاسی روابط کی گہرائی سے چھان بین کر رہے ہیں، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید اہم گرفتاریاں اور انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔
