آصف علی زرداری کی صدارت کو خطرے میں کون ڈال رہا ہے؟

اسلام آباد کی افواہ ساز فیکٹریاں ایک بار پھر سرگرم ہو چکی ہیں اور اس مرتبہ یہ چورن بیچا جا رہا ہے کہ آصف علی زرداری کی صدارت خطرے میں ہے اور آنے والے وقت میں فیلڈ مارشل عاصم منیر صدرِ پاکستان کا منصب بھی سنبھال سکتے ہیں۔ تاہم حکومتی حلقوں نے ان افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدنیتی پر مبنی اس مہم کا مقصد عسکری اور سویلین قیادت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا اور موجودہ سیاسی نظام کو کمزور کرنا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نہ تو صدر زرداری کو ہٹانے کی کوئی تجویز زیر غور ہے اور نہ ہی حکومت کے خاتمے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں میں کوئی صداقت موجود ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں ان دنوں حکومت کے مستقبل، صدر آصف علی زرداری کے سیاسی کردار اور تحریک انصاف سے کسی ممکنہ مفاہمت کے حوالے سے افواہوں کا بازار گرم ہے۔ مختلف یوٹیوب چینلز، ٹک ٹاک اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ستمبر تک موجودہ حکومت ختم ہو جائے گی، صدر زرداری کو ایوانِ صدر سے رخصت کیا جا سکتا ہے جبکہ ملک میں ایک نئی سیاسی صف بندی کی تیاری ہو رہی ہے۔ لیکن حکومتی ذرائع ان افواہوں کو تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ کا جھوٹا پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر بعض عناصر جان بوجھ کر ایسی اطلاعات پھیلا رہے ہیں تاکہ سیاسی بے یقینی کو ہوا دی جا سکے اور عوام میں اضطراب پیدا ہو۔ ذرائع کے مطابق موجودہ سیٹ اپ نہ صرف آئینی تحفظ رکھتا ہے بلکہ پارلیمانی اعتبار سے بھی مستحکم پوزیشن میں موجود ہے۔
یاد رہے کہ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بھی گزشتہ دنوں اپنے ایک کالم میں انہی افواہوں کو موضوع بحث بنایا تھا۔ انہوں نے اپنے تجزیے میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ پاکستان میں جب بھی سیاسی یا معاشی دباؤ بڑھتا ہے تو افواہوں کی سیاست زور پکڑ لیتی ہے اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات کو “اندر کی خبر” بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے بیانیے اکثر سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے سیاسی تجزیے اور افواہوں کے درمیان فرق کو کافی حد تک دھندلا دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ بعض یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل تجزیہ کار بغیر کسی مستند ثبوت کے حکومت کے خاتمے، سیاسی ڈیلز اور اعلیٰ سطحی تبدیلیوں کے دعوے کر دیتے ہیں جنہیں بعد ازاں مختلف سیاسی حلقے اپنے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت کو فوری طور پر کسی بڑے سیاسی خطرے کا سامنا نہیں۔ حکمران اتحاد کو پارلیمنٹ میں عددی اکثریت حاصل ہے جبکہ اتحادی جماعتیں بھی فی الحال حکومت کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا نہ ہوئی تو موجودہ سیٹ اپ اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرے گا۔
بیک ڈور رابطے، بشریٰ بی بی کو ریلیف ملنے کا امکان
مبصرین کے مطابق بجٹ سے پاکستانی سیاست میں اکثر ایسی افواہیں تیزی پکڑ لیتی ہیں کیونکہ اس دوران معاشی اہداف، آئی ایم ایف پروگرام، اور بجٹ کے اثرات زیر بحث آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال اس عرصے میں حکومت کی تبدیلی یا سیاسی ہلچل سے متعلق قیاس آرائیاں تیز ہو جاتی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق مہنگائی، بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور عوامی مشکلات کو بھی حکومت مخالف بیانیے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عوامی غصہ کسی بڑے سیاسی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اور دوست ممالک اس وقت پاکستان میں پالیسی تسلسل اور سیاسی استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کے ساتھ جاری طویل المدتی پروگرام بھی سیاسی استحکام سے مشروط سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی ادارے اور حکومتی حلقے کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے گریز چاہتے ہیں تاکہ معاشی اصلاحات کا عمل متاثر نہ ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی حکومت کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں پر بھی سیاسی حلقے حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق آصف زرداری نہ صرف ایک آئینی سربراہ ہیں بلکہ اتحادی سیاست میں ایک اہم اور بااثر کردار بھی رکھتے ہیں۔ پارلیمانی معاملات، قانون سازی اور سیاسی مفاہمتوں میں ان کی جماعت کی حمایت حکومت کیلئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے بغیر حکمران اتحاد کیلئے اہم قانون سازی آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کیلئے صدر زرداری اور پیپلز پارٹی کی سیاسی اہمیت برقرار ہے اور ان کی چھٹی سے متعلق خبریں محض قیاس آرائیاں معلوم ہوتی ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی ممکنہ مفاہمت یا ڈیل کے حوالے سے بھی مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق مستقبل قریب میں ایسی کسی بڑی پیش رفت کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ تحریک انصاف کے خلاف کیسز اور قانونی کارروائیاں بدستور سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سنسنی خیز سیاسی دعوے اکثر ویوز، ریٹنگ اور سیاسی جذبات کو بھڑکانے کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایسی غیر مصدقہ اطلاعات نہ صرف عوام میں بے یقینی پیدا کرتی ہیں بلکہ ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کے درمیان بداعتمادی کو بھی فروغ دے سکتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو معاشی دباؤ، سیاسی تقسیم اور علاقائی چیلنجز جیسے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ اسی لیے حکومت اور ریاستی ادارے سیاسی استحکام کو اولین ترجیح قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں کے مطابق فی الحال نہ حکومت کے خاتمے کے امکانات نظر آتے ہیں اور نہ ہی صدر آصف علی زرداری کو کسی فوری خطرے کا سامنا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بیشتر اطلاعات کو محض افواہوں اور سیاسی پروپیگنڈے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
