لال مسجد خالی کرنے کی ڈیڈ لائن ختم، علاقے کی دوبارہ ناکہ بندی

کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اور پولیس حکام کی طرف سے مولانا عبدالعزیز، ان کے اہلِ خانہ اور طالبات کو لال مسجد خالی کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ایک مرتبہ پھر مسجد کے اطراف کی ناکہ بندی کردی ہے۔
کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مسجد کا گھیراؤ اس لیے کیا گیا کہ وہاں موجود افراد کو مسجد خالی کرنے کے لیے 12 فروری تک کا وقت دیا گیا تھا تاہم مولانا عبد العزیز اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے وعدے کی پاسداری نہیں کی گئی اور تا حال وہ لال مسجد میں موجود ہیں.حکام کے مطابق ان کا 9 فروری کے روزمولانا عبدالعزیز سے سمجھوتا طے پایا تھا جس کے تحت انہیں جامعہ حفصہ کے لیے زمین الاٹ کی جائے گی اور وہ مسجد خالی کردیں گے تاہم مولانا کے بھتیجے ہارون رشید نے مسجد خالی کرنے کا کوئی سمجھوتہ ہونے کی تردید کی تھی۔ حکام کا کہنا تھا کہ مسجد کے محاصرے کا اقدام ترک صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات کا حصہ ہے. اس ضمن میں انسداد دہشت گردی فورس، پولیس کمانڈو، رائٹس پولیس اور خواتین اہلکاروں پر مشتمل ایک دستہ لال مسجد پہنچا اور علاقے کی ناکہ بندی کردی۔علاوہ ازیں لال مسجد کے اطراف میں میونسپل روڈ، مسجد روڈ، شہید ملت روڈ کے ساتھ ساتھ مسجد کے قریب ہفتہ وار بازار پر بھی پولیس اہلکاروں کو تعینات کر کے مسجد میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا ہے البتہ علاقہ مکینوں کو مسجد میں نماز کی ادائیگی کی اجازت دی گئی ہے۔
علاقے میں تعینات اہلکار لوگوں سے ان کی رہائش کی تصدیق کے لیے شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ مشتبہ لگنے کی صورت میں تلاشی بھی لی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ کیپیٹل ایڈمنسٹریشن نے مسجد میں خواتین اور لڑکیوں کے داخلے پر بھی پابندی لگادی ہے اور کہا ہے کہ لال مسجد میں نماز معمول کے مطابق ہوگی لیکن صرف علاقہ مکینوں کو مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے داخل ہونے کی اجازت ہو گی.
واضح رہے کہ لال مسجد محکمہ اوقاف کے زیر انتظام ہے اور عمومی طور پر صرف محکمے کے کسی عہدیدار کو ہی خطیب اور نائب خطیب تعینات کیا جاسکتا ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ قابضین خطیب اور نائب خطیب بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن مولانا عبدالعزیز اور نہ ہی ان کے بھتیجے ہارون رشید محکمہ اوقاف کے ملازم ہیں جبکہ جس گھر اور مدرسے کی ملکیت کا یہ دعویٰ کررہے ہیں وہ بھی مسجد کی سرکاری زمین پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس بارے میں عہدیدار نے بتایا کہ مولانا عبدالعزیز کے ساتھ 12 فروری کو مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا اور دیوبند علما پر مشتمل ایک 8 رکنی کمیٹی اس میں شامل ہے۔
یاد رہے کہ مولانا عبدالعزیز کچھ روز قبل پابندی کے باوجود لال مسجد میں طالبات کے ساتھ آکر قابض ہوگئے تھے اور حکام کا ردِ عمل جانچنے کے لیے نماز جمعہ کا خطبہ بھی دیا تھا جس میں اشتعال انگیز باتیں کی گئیں تھیں۔ تاہم حکام نے اسے نظر انداز کردیا تھا البتہ صورت حال اس وقت کشیدہ ہوگئی تھی جب سینکڑوں طالبات نے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 11 میں قائم جامعہ حفصہ میں داخل ہو کر اس کی سیل توڑ دی تھی۔ بعدازاں انتظامیہ نے مولانا عبدالعزیز کو لال مسجد خالی کرنے کا انتباہ دینے کے بعد مسجد کے باہر کے علاقے کا محاصرہ کرلیا تھا اور نماز جمعہ کے علاوہ کسی نماز کے لیے نمازیوں کو اندر جانے نہیں دیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں دارالحکومت کی انتظامیہ کے افسران مولانا عبدالعزیز سے ملاقات کے لیے لال مسجد پہنچے لیکن مذاکرات اس لیے بے نتیجہ رہے کہ مولانا کا اصرار تھا کہ وفاقی وزیر کے عہدے کی سطح کا کوئی عہدیدار ان سے بات چیت کرے۔ تنازع کے خاتمے کے لیے کالعدم اہل سنت والجماعت کی جانب سے اپنا کردار ادا کرنے اور سرکاری مسجد کے باہر ملاقات کے لیے بھی رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا گیا تھا جبکہ سیکیورٹی حکام نے اسلام آباد کی انتظامیہ سے صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے ملاقات کی۔ بعدازاں اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے 20 کنال زمین الاٹ کرنے کے وعدے پر مولانا عبدالعزیز لال مسجد چھوڑنے پر رضامند ہوگئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button