سعودیہ کا گوادر کے بعد کراچی میں ریفائنری منصوبے سے بھی فرار؟
سعودیہ کا گوادر کے بعد کراچی
تین سال قبل کئی ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری سے گوادر میں آئل ریفائنری کا منصوبہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد اب یہ منصوبہ کراچی منتقل کئے جانے کی شنید ہے تاہم سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں روایتی گرم جوشی ختم ہونے کے بعد حکومت پاکستان یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آخر اس منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے دونوں ممالک حتمی معاہدہ کب کریں گے اور اس پر کام کا آغاز کب ہوگا۔ امکان یہ بھی ہے کہ ایک دن اچانک اس منصوبے کو ترک کرنے کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے ساحلی شہر کے لیے اعلان کردہ تیل صاف کرنے کے کارخانے یعنی آئل ریفائنری کا منصوبہ اب سی پیک کا ‘گیٹ وے’ کہلائے جانے والے گوادر کی بجائے کراچی کے قریب بلوچستان کے ساحلی قصبے حب میں منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے سے منسلک ایک سے زیادہ سرکاری اور سیاسی عہدیداروں نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے اعلان کردہ اس منصوبے میں مسائل کی وجہ سے یہ آئل ریفائنری اب حب میں لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ باضابطہ طور پر حب میں بھی سعودی عرب کی جانب سے بنائی جانے والی ریفائنری کے سلسلے میں کوئی خاص پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے تاہم پاکستان میں تیل و گیس کے شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق سعودی ریفائنری کا منصوبہ ایک ’سیاسی منصوبہ ‘ہے اور کچھ عرصہ قبل دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں جو سرد مہری آئی تھی اس کی وجہ سے سعودی عرب کی جانب سے اس ریفائنری کے سلسلے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی گئی۔
تیل کے شعبے کے حکومتی ادارے کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے بارے حتمی فیصلہ ہوا تو اب یہ حب میں ہی تعمیر ہوگا۔ واضح رہے کہ فروری 2019 میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان میں سعودی عرب کی جانب سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے جن میں سعودی عرب کی جانب سے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ریفائنری لگانے کا معاہدہ بھی طے پایا تھا۔ آٹھ سے دس ارب ڈالر لاگت کی اس ریفائنری کے معاہدے پر دستخط ہوئے تقریباً تین سال کا عرصہ ہونے کو ہے تاہم اس معاہدے پر اس کے بعد کوئی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آئی۔ یاد رہے کہ رواں برس جون میں یہ خبریں آنا شروع ہوئی تھیں کہ سعودی عرب نے گوادر میں تعمیر کیےجانے والے آئل ریفائنری منصوبے سے پیچھے ہٹتے ہوئے اسے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی منتقل کرنے سے مشروط کر دیا ہے۔ سفارتی ذرائع نے اس سعودی فیصلے کی وجہ سی پیک پراجیکٹ میں ایران کی شمولیت کو قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کو سی پیک سے منسلک کرنے پر سعودی عرب ناراض ہو گیا ہے اور گوادر کے آئل ریفائنری منصوبے میں سرمایہ کاری سے انکاری ہو گیا ہے۔ تب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پاور اینڈ پٹرولیم تابش گوہر نے تصدیق کی تھی کہ سعودی عرب اب گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر میں دلچسپی نہیں رکھتا اور اس نے کراچی کے قریب پیٹرو کیمیکل کمپلیکس میں آئل ریفائنری تعمیر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سعودی عرب کا گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر سے انکار اس بات کا عکاس ہے کہ وہاں بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے اور بین الاقوامی سرمایہ کار وہاں سرمایہ لگانے کے بارے میں پر یقین نہیں ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر میں آئل ریفائنری لگانا اسی صورت ممکن ہے جب 600 کلو میٹر لمبی پائپ لائن تعمیر کی جائے جو گوادر کو کراچی سے جوڑے۔ ایسا کیے بغیر گوادر سے بذریعہ سڑک تیل کی پاکستان کے مختلف حصوں میں منتقلی بہت مہنگا منصوبہ ہو گا۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ گوادر میں انفراسٹرکچر کی کمی اور سیکورٹی کے مسائل آئل ریفائنری کے قیام میں رکاوٹ ہیں۔ تیل کے شعبے سے وابستہ ایک حکومتی ادارے کے اعلیٰ افسر نے بتایا کہ یہ ریفائنری ڈیپ کنورژن ریفائنری کا معاہدہ ہے جس کے تحت اس ریفائنری میں پٹرول، ڈیزل کے ساتھ کیمکلز یعنی لبریکینٹس کی بھی پیداوار ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا دراصل یہ ریفائنری نہیں، پٹروکیمیکل کمپلیکس کا منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں کام کرنے والی موجودہ ریفائنریاں پٹرول، ڈیزل کے ساتھ فرنس آئل پیدا کرتی ہیں اور ان میں لبریکینٹس کی پیداوار نہیں کی جاتی۔ تاہم سعودی ریفائنری پٹرو کیمیکل کا پراجیکٹ ہے جو تین سے چار لاکھ بیرل خام تیل کو ریفائن کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوگی جس پر اگر آج کام شروع کر دیا جائے تو اس کے مکمل ہونے میں آٹھ سال لگیں گے۔ سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں ریفائنری کے منصوبے کو تیل و گیس کے شعبے سے وابستہ افراد ناقابل عمل منصوبہ قرار دیتے ہیں۔حکومتی ادارے کے اعلیٰ افسر نے اس سلسلے میں کہا کہ یہ منصوبہ اس لیے قابل عمل نہیں کہ گوادر میں ریفائنری کے قیام کے بعد اس میں تیار ہونے والی مصنوعات کی ترسیل کیسے ہوگی؟ انھوں نے بتایا کہ کراچی میں کام کرنے والی ریفائنری میں خام تیل سے تیار ہونے والے ڈیزل کو وائٹ پائپ لائن سے پنجاب ترسیل کیا جاتا ہے اور اسی طرح پٹرول کا کچھ حصہ بھی اس پائپ لائن سے پنجاب اور شمال کی جانب سے بھیجا جاتا ہے۔ گوادر کراچی سے بہت دور ہے اور وہاں کی ریفائنری میں تیار ہونے والی مصنوعات کی تیاری اور ان کی ترسیل کے لیے ایک نئی پائپ لائن ڈالنی پڑتی جس کا تخمینہ ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر لگایا گیا ہے اور سعودی عرب کی جانب سے اس کا امکان نہیں ہے کہ وہ انتی بڑی سرمایہ کاری اس پائپ لائن پر کرے۔ انھوں نے کہا جب ریفائنری کے قیام کے لیے فزیبلٹی رپورٹ تیار ہوئی تو یہ مسائل سامنے آئے۔ ایک حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ حب ہی اب وہ علاقہ ہے جہاں سعودی عرب کی جانب سے ریفائنری لگائی جائے گی کیونکہ سعودی عرب کے لیے گوادر کے مقابلے میں حب زیادہ مناسب مقام ہے۔ ایک تو کراچی کے ساتھ جڑے ہونے کی وجہ سے یہاں کی ریفائنری میں بننے والی مصنوعات با آسانی پورے ملک میں ترسیل کی جا سکتی ہیں اور اس سے پہلے ایک ریفائنری بائیکو بھی حب میں کام کر رہی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنا تیل بیچنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں چاہے انہیں ریفائنری میں کم ہی منافع ہو۔ اگر حب میں ریفائنری لگتی ہے تو سعودی عرب کا تیل آسانی سے استعمال ہو سکے گا اور پھر اس کی ترسیل آسانی سے پورے ملک میں ہو سکے گی جس کے لیے انہیں گوادر میں ریفائنری کی صورت میں ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت پڑتی تاکہ وہاں سے تیل کی مصنوعات پورے ملک میں ترسیل کی جا سکیں۔ حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں ریفائنری اب حب میں ہی بنائی جائے گی تاہم اس پر بھی ابھی پیش رفت نہیں ہو پا رہی کیونکہ اس سال پہلے سعودی عرب کی کمپنی آرامکو نے حب میں ریفائنری کے لیے فزیبلٹی رپورٹ بھی بنائی تھی تاہم اس کے بعد اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی جس کی ایک وجہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں آنے والی ہلکی سی تلخی تھی جو اب دور ہو چکی ہے اور اس کے بعد پاکستان کو تین ارب ڈالر ڈیپازٹس میں رکھنے اور موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کی سہولت بھی دی گئی ہے تاہم ریفائنری کے منصوبے پر ابھی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
