سعودی عرب میں 20 پاکستانی ملزمان کے سر قلم کر دیے گئے

سعودی عرب میں سال 2019 کے دوران مختلف جرائم میں ملوث 20 پاکستانیوں کے سر قلم کر دیے گے۔ ان میں سے 17 افراد پر منشیات کی سمگلنگ، دو پر قتل اور ایک پر زنا کا الزام تھا۔ اب وزارت خارجہ نے سال 2019 کے دوران سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے پاکستانیوں کی تفصیلات فراہم کردیں ہیں۔ تاہم دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں کہ ان پاکستانیوں کے سر قانونی تقاضے پورے کر کے قلم کئے گے یا نہیں۔ یاد رہے کہ سعودی حکام غیرملکی ملزمان کا ٹرائل سمری بنیادوں پر کرتے ہیں اور اس میں اپیل کی گنجائش موجود نہیں ہوتی۔

دفتر خارجہ کی جانب کے مطابق سال 2019 کے دوران سعودی عرب میں مختلف کیسز میں کل 20 ایسے پاکستانی گرفتار کیے گئے جن کا بعد میں سر قلم کردیا گیا۔ جن 20 پاکستانیوں کو سعودی عرب میں سزائے موت دی گئی۔ تاہم اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ آیا ان پاکستانیوں کو قانونی تقاضے پورے کرکے موت کی سزا دی گئی یا صرف الزام کی بنیاد پر ہی ان کا سر قلم کر دیا گیا۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق دنیا بھر میں کے مختلف ممالک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد 11 ہزار سے زائد ہے جب کہ 7 ہزار کے قریب صرف عرب ممالک میں قید ہیں۔ خاص کر سعودی عرب میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی جیلوں میں قید ہیں جنہیں موجودہ حکومت کسی نہ کسی طرح آزاد کروانے کی کوشش کررہی ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گزشتہ برس دورہ پاکستان کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی عرب میں قید پاکستانی قیدیوں کی رہائی کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ سعودی عرب اپنی جیلوں میں دو ہزار سے زائد پاکستانیوں کو رہا کرچکا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو کی جانب سے پوچھا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد اب تک کتنے پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے؟ اور اس وقت کتنے پاکستانی سعودی جیلوں میں قید ہیں جب کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی رہائی کےلیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے جواب میں سینیٹ کو آگاہ کیا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے فروری 2019 میں دورہ پاکستان کے دوران کیے گئے اعلان کے بعد دستیاب معلومات کے مطابق دو ہزار 80 قیدیوں کو رہا کیا جاچکا ہے،
وزیر خارجہ کا مزید کہناتھا کہ سعودی عرب میں تین ہزار پاکستانی قید ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی تعداد تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی سفارت خانہ اس حوالے سے سعودی حکومت سے ملنے والی معلومات اور جیلوں کے دورے کے بعد ڈیٹا مرتب اور اس میں تبدیلی کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عام طور پر سعودی عرب میں موجود قیدیوں کو سزا مکمل ہونے، شاہی خاندان کے افراد یا سعودی فرمانروا کے جیل کے دوروں کے دوران یا ہر رمضان میں ملنے والی عام معافی کے تحت رہا کیا جاتا ہے، لیکن کچھ معاملات میں جیسے کہ جرمانے یا دیت کی عدم ادائی کی صورت میں سزا مکمل ہونے کے باوجود کچھ افراد رہا نہیں ہو پاتے۔ اگر جرمانہ معمولی ہو تو حق عام کے قانون کے تحت ایسے قیدیوں کی رہائی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
سعودی قوانین کے تحت حق خاص جو کہ انفرادی سطح پر اور کمپنیوں کو ادا کیا جاتا ہے، معاف نہیں کیا جا سکتا اور قیدی طویل عرصے تک جیل میں رہ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button