سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل نمائندگی کی حمایت نہیں کی، رپورٹس مسترد

پاکستان نے سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل نمائندگی کی حمایت سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیدیا۔
ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ بھارت کی سلامتی کونسل میں مستقل نمائندگی پر پاکستانی حمایت کی رپورٹس بے بنیاد ہیں۔
انہوں نےکہاکہ بی جے پی ارکان کی طرف سے گستاخانہ بیانات پر دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی اور کئی ممالک نے بھارت سے عوامی سطح پر معافی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف اقدامات طویل عرصے سے جاری ہیں۔ امریکا کی جانب سے بھی دنیا میں مذہبی آزادی پر مبنی رپورٹ میں دہرے معیار ہیں۔ بھارت اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ارکان کو کٹہرے میں لائے۔
انکا کہنا تھا وزیر خارجہ کی امریکی سیکرٹری خارجہ سے بھارت کی سلامتی کونسل میں مستقل نمائندگی سے معلق کوئی بات نہیں ہوئی، تاہم پاکستان سلامتی کونسل میں اصلاحات کا حامی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ سستے تیل کی خریداری کے لیے ماسکو میں سفارتخانے اور یہاں روسی حکام سے رابطے میں ہیں۔ ہم ہر وہ کام کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہو گا۔
انہوں نےکہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج نے مزید 5 کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے جن میں ایک نوجوان طالب علم بھی تھا ۔ بھارت کشمیر میں مظالم بند کر کے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی آزادانہ استصواب رائے کرائے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ حنا ربانی کھر کی زیر صدارت نیشنل کمیٹی برائے ایف اے ٹی ایف کام کر رہی ہے۔ بھارت کے مختلف حصوں میں جوہری مواد پکڑا جانا غیر معمولی اور ایٹمی پروگرام پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عاصم افتخار نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں پاکستانی شہری کو مقدس مقام پر سوشل میڈیا کے استعمال پر تین برس قید اور دس ہزار ریال جرمانہ کی سزا ہوئی۔
