عمران جنرل عاصم منیر کو ہٹا کر فیض حمید کو کیوں لائے؟


سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاست دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اپنے اقتدار کا دھڑن تختہ ہونے کے بعد انہوں نے امریکی سازش، میر جعفر، نیوٹرل، بھکاری، غلامی اور حقیقی آزادی کا چورن ایجاد کیا، اور فوری الیکشن کے لیے حکومت اور فوج پر خوب دبائو ڈالا۔ لیکن لانگ مارچ ناکام ہونے کا باعث وہ دھرنا بھی نہ دے پائے اور انہیں ڈی چوک سے ناکام واپس لوٹنا پڑا۔ اب حاضر سروس جرنیلوں سے مایوس ہو جانے کے بعدان کی امیدوں کا مرکز ریٹائرڈ جرنیل ہیں، یعنی ’’کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے‘‘۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی حماد غزنوی کہتے ہیں کہ نوبت اگر یہاں تک آن پہنچی ہے تو دھمکیاں دینے اور تڑیاں لگانے والے کپتان کے لیے مخلصانہ مشورہ یہی ہے کہ ایک بار مار دھاڑ سے ہٹ کر بھی سیاست کر دیکھیں۔ یعنی خان صاحب، پارلیمنٹ میں لوٹ آئیے، آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ حماد بتاتے ہیں کہ قیراط بیش قیمت جواہرات کا وزن ماپنے کا پیمانہ ہے، ایک قیراط کا مطلب ہوتا ہے 200ملی گرام، اور پانچ قیراط ہوئے ایک گرام، پانچ قیراط ہیرے کی قیمت تین کروڑ روپے تک ہو سکتی ہے، آج کل دستور یہ ہے کہ جوہری ہیرا بیچتا ہے تو ساتھ اس کی قیمت کا ایک سرٹیفکیٹ بھی دیتا ہے جسے دکھا کر خریدار جب چاہے اسی قیمت پر ہیرا واپس کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں ہیرے ابدی ہوتے ہیں، یعنی Diamonds are forever!

لیکن اگر ہیروں کا حصول غیر اخلاقی اور غیر قانونی طور پر کیا جائے توان ہیروں کے ساتھ بدنامی بھی در آتی ہے، وہ بھی دائمی ہوتی ہے، انگریز 1849 میں کوہ نور نام کا 105 قیراط کا ایک ہیرا برصغیر سے چرا کر لے گئے تھے، لیکن وہ بدنامی آج بھی گوروں کا پیچھا کرتی ہے، اور جس پانچ قیراط کی انگوٹھی کی خیرہ کن تفصیلات ہم آج کل سن رہے ہیں وہ بھی سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کی نیک نامی میں اضافے کا باعث نہیں بن رہیں۔

حماد غزنوی ایک حدیث پاک کا حوالہ دیتے ہیں کہ میری امت کا سب سے بڑا فتنہ مال ہے، اور عمران کے سیاسی مخالفین بھی انہیں ’پیار سے‘ فتنہ کہتے ہیں۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان سے مسز شاہد خاقان عباسی تک پاکستان کی کسی خاتونِ اول کی ہم راز سہیلی اپنی سیرت میں فرح گوگی سے اتفاقی مماثلت بھی نہیں رکھتیں۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ہوس زر دلوں میں گھونسلے بنا لیتی ہے۔ جب آپ حکمران ہوتے ہیں، طاقت ور ہوتے ہیں، تو آپ کے حکم پر تالے کھل جاتے ہیں، لیکن اگر حکمران کا دل مقفل ہو چکا ہو تو وہ تالہ کھولنے کا ریٹ طے کر لیتا ہے، پانچ قیراط کا ہیرا خیرات میں نہیں دیا جاتا، رشوت میں دیا جاتا ہے، اور اس کے بدلے اربوں کے ناجائز غیر قانونی کام لیے جاتے ہیں،

یاد رہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین نے عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران اسلام آباد میں ان کے القادریہ یونیورسٹی ہراجیکٹ کے لیے انکی اہلیہ بشری بی بی کے نام پر ساڑھے چار سو کنال زمین الاٹ کی تھی۔ تقریباً اتنے ہی کنال بنی گالا میں مبینہ طور پر فرح گوگی کے نام بھی کر دیے گے، یہ تحائف اربوں روپے کے تو ہوں گے جن کے بدلے کھربوں کے کام بھی لیے گئے ہوں گے، مگربات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔

بقول حماد غزنوی، عمران خان کی سیاست کا ایک مرکزی نعرہ تھا کہ ’لوٹی ہوئی رقم بیرون ملک سے واپس لائی جائے گی‘۔ پھر جب اس سلسلے کی واحد کامیابی حاصل ہوئی اور برطانوی کرائم ایجنسی نے غیر قانونی 190 ملین پائونڈ پکڑ کر پاکستان کے حوالے کئے تو وہ حکومت نے عدالت کی مدد سے ملک ریاض کو تحفے میں واپس کر دیے، یہ واردات ’مبینہ‘ نہیں ہے، یہ ایک تلخ حقیقت ہے، یہ فراڈ دن دہاڑے کیا گیا، عمران کابینہ کا ایک خفیہ سر بہ مہر فیصلہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے، برطانیہ سے یہ پیسہ سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں آیا اور وہاں سے پیا گھر یعنی ملک ریاض حسین کے پاس چلا گیا۔ یہ شرمناک واردات دیومالائی ڈھٹائی سے سرِ بازار کی گئی، اس تحفے کے بدلے ملک ریاض سے کیا وصول کیا گیا؟ یہ راز نہ تو عمران خان افشا کریں گے اور نہ ہی جسٹس میاں ثاقب نثار۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی پوچھے گا بھی نہیں، کیوں کہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ کل تک ہم سنتے آ رہے تھے کہ ساری حکومت ضمانت پر ہے۔ آج صورتِ احوال کچھ یوں ہے کہ تمام اپوزیشن بھی ضمانت پر ہے، یعنی ’سب مزے میں ہیں‘،۔ درپردہ خواہش یہی نظر آتی ہے کہ حکومت کے خلاف کیسز کو تحفظ دیا جائے، چار پانچ سال کی کوشش کے بعد بھی جو کیسز ثابت نہیں ہو سکے انہیں تحفظ دیا جائے، وہ تفتیشی افسر جنہیں عمران حکومت نے ’نیک نیتی‘ کی بنا پر مامور کیا تھا انہیں تحفظ دیا جائے، چوروں اور ڈاکوئوں کی حکومت کے بیانیے کو تحفظ دیا جائے۔ دوسری جانب عمران خان نقصِ امن اور لاقانونیت کے مقدمات میں ضمانت پر ہیں۔ فی الحال ان پر کرپشن کا کوئی کیس نہیں ہے، حکومت کوئی کچا کیس بنانا نہیں چاہتی اور پکا کیس کیسے بنے جب انٹیلی جنس ایجنسیوں اور تفتیشی اداروں کو حکومت سے تعاون کرنے کی کوئی جلدی نہ ہو، اور نیب کے ڈسے ہوئے بیوروکریٹ مزید کسی الجھن میں پڑنے سے کترا رہے ہوں۔

حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ اور کسی کو ہو نہ ہو، عمران خان کو اپنی گرفتاری کا اندیشہ ہے، تبھی تو ضمانت لی گئی ہے، ویسے اگر کرپشن کا کیس نہ ہو تو تیسری دنیا کے سیاست دان گرفتاری سے نہیں گھبراتے، جیل کو تو ہمارے ہاں سیاست دان کا زیور بتایا جاتا ہے، لیکن خان صاحب اس علامتی زیور کے بجائے، حقیقی دنیا کے آدمی ہیں اور فقط اسی زیور کے قائل نظر آتے ہیں جو قیراط میں تولا جا سکے۔ یہاں حماد غزنوی سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کو قبل از وقت عہدے سے ہٹانے کی وجہ تو آپ لوگوں کو معلوم ہی ہو گی۔

ویسے جن لوگوں کو اسکی وجہ معلوم نہیں انہیں بتائے دیتے ہیں کہ جب خان صاحب کو اقتدار میں لایا گیا تھا تب عاصم منیر آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔ انہوں نے خان صاحب کو خاتون اول سے وابستہ کرپشن کی کچھ کہانیاں سنانے کی غلطی کر لی تھی جسکے چند گھنٹوں بعد ہی انکی جگہ فیض حمید کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اندر جاری دو دھڑوں کی جنگ میں انہی دو کا نام لیا جا رہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگلا فوجی سربراہ بھی انہی دو میں سے کوئی ایک ہو گا۔ یاد رہے کہ موجودہ جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں عاصم منیر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ فیض حمید چھٹے نمبر پر ہیں. ماضی میں آئی ایس آئی کے علاوہ ملٹری انٹیلیجنس کی بھی سربراہی کرنے والے عاصم منیر اس وقت کوارٹر ماسٹر جنرل ہیں جبکہ فیض حمید کور کمانڈر پشاور ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہےکہ فیض حمید سینئر موسٹ ہونے کے باوجود نہ صرف عمران خان کے فیورٹ ہیں بلکہ چھڑی والی سرکار بھی نومبر 2022 میں انہیں کو اگلا آرمی چیف بنتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آرہا کیونکہ حکومت بظاہر ٹک چکی ہے اور اگلے آرمی چیف کا فیصلہ اسی نے کرنا ہے۔ اگر وزیراعظم موجودہ جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں سینئر موسٹ جرنیل کو آرمی چیف چیف بنا دیں تو لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اس عہدے پر براجمان ہو جائیں گے۔

Back to top button