سنتھیا نے ریپ کے بعد رحمان ملک سے 2000 پاؤنڈ لیے؟

https://youtu.be/wZjlEExek4M
سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت پر بے بنیاد اور بے سروپا الزام لگانے والی پراسرار امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی کے خلاف اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حکم تو دے دیا ہے لیکن ابھی تک اس کے مددگار خفیہ ہاتھ مقدمہ درج ہونے نہیں دے رہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کیس درج ہو بھی جائے تو زیادہ امکان یہی ہے کہ اسے کلین چٹ مل جائے گی لیکن اگر کسی وجہ سے خفیہ ہاتھوں نے سنتھیا کو مزید تحفظ نہ دیا اور اسے سزا ہو بھی گئی تو سنتھیا کو زیادہ سے زیادہ صرف تین سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔
اسلام آباد کی ایک عدالت نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے حوالے سے نازیبا ٹویٹ کرنے پر ایف آئی اے کو پاکستان میں مقیم امریکی شہری سنتھیا رچی کے خلاف کارروائی کرنے اور شواہد ملنے پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد جہانگیر اعوان نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے سیکشن 20 میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی متاثرہ شخص عزت کو نقصان پہنچانےکے مقدمے میں درخواست دے سکتا ہے اور بے نظیر بھٹو پاکستان کی سابق وزیراعظم اور لاکھوں لوگوں کی رہنما تھیں، اس لیے ان کے خلاف جھوٹے الزامات پر ان کے حامیوں کو بھی متاثرہ شخص سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم عدالتی فیصلے کے باوجود ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا جا سکا۔ اس سے پہلے ایف آئی اے اسلام آباد پولیس اور پی ٹی اے نے سنتھیا کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد پی پی پی کی قیادت نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں سنتھیا رچی نے پاکستان میں اداکارہ عظمیٰ خان پر تشدد کی وائرل ویڈیوز کے پس منظر میں اپنا تبصرہ ٹوئٹر پر پوسٹ کیا تھا۔انھوں نے لکھا تھا کہ عظمی خان پر تشدد کے بہیمانہ واقعے سے انھیں وہ کہانیاں یاد آ رہی ہیں کہ بی بی اس وقت کیا کرتی تھیں جب آصف زرداری اُن سے بیوفائی کرتے تھے۔ مشکوک امریکی بلاگر سنتھیا نے دعویٰ کیا کہ بینظیر اپنے گارڈز کے ذریعے ایسی خواتین کہ جن کے زرداری صاحب سے مبینہ تعلقات ہوتے، کی عصمت دری کرواتی تھیں۔
یاد رہے کہ سنتھیا جس زمانے کے حوالے سے بے نظیر اور آصف زرداری پر الزامات لگا رہی ہیں اس زمانے میں وہ امریکہ میں مقیم ہوتی تھی۔ اسکا کہنا ہے کہ اسے یہ باتیں پی پی پی والوں نے ہی بتائی ہیں تاہم وہ ابھی تک ایسے کسی شخص کا نام نہیں بتا پائی۔
جب بے نظیر بھٹو پر الزامات کے بعد پی پی پی کی قیادت نے اس کے خلاف ایف آئی اے سے رجوع کیا تو ردعمل کے طور پر سنتھیا ڈی رچی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک پر خود کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کر دیے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے نہ صرف ان الزامات کی تردید کی تھی بلکہ سنتھیا رچی کے خلاف ہتک عزت کے دعوے بھی دائر کیے تھے۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر شکیل عباسی نے سنتھیا رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سینتھیا رچی نے سوشل میڈیا پر بے نظیر بھٹو پر الزامات کے ٹویٹ سے انکار نہیں کیا اس لیے انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت جرم واقع ہوا ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق تفتیش کرے اور شواہد ملنے پر ایف آئی آر درج کرے۔ عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید ہوئے 12 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور سینتھیا رچی نے اتنے سالوں تک کسی متعلقہ فورم یا میڈیا پر ان الزامات کا اظہار نہیں کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے 12 سال بعد الزامات لگانا بظاہر بدنیتی ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کو پیکا کے سیکشن 20 کے تحت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ اس سیکشن کو کسی بھی شخص کی عزت کے خلاف جرم کا عنوان دیا گیا ہے۔اس کے تحت جو شخص بھی جان بوجھ کر کسی بھی ذریعے سے عوام میں کوئی جھوٹی معلومات پھیلاتا ہے جس سے کسی شخص کی پرائیویسی اور ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے اس کو تین سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے یا دونوں سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ قانون کے مطابق اس طرح کے کیس میں متاثرہ شخص یا اس کے ورثاء ایف آئی اے کو ایسی اطلاعات کو بلاک کرنے کی درخواست بھی دے سکتے ہیں اور ایف آٗئی اے اس سلسلے میں حکم جاری کر سکتی ہے۔
دوسری جانب عدالت میں دوران سماعت بلاگر سنتھیا رچی کے وکیل ناصر عظیم خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا کوئی ٹویٹ ریکارڈ پر ہے کہ میری موکلہ نے ٹویٹ کر کے بے نظیر بھٹو پر الزام لگایا اور کیا ثبوت ہے کہ ٹویٹ سنتھیا رچی نے کی، کیا کسی متعلقہ ادارے سے اس کی تصدیق کروائی گئی؟ ان کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے کہ نو سال تک سنتھیا رچی خاموش کیوں رہیں؟ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سنتھیا کے اپنے بیان کے مطابق رحمان ملک سے ریپ ہونے کے فورا بعد انہوں نے سابق وزیر داخلہ سے دو ہزار پاؤنڈ بھی وصول کیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button