سنتھیا کے ذریعے PPP کو دبانے کی اصل وجہ 18ویں ترمیم

https://youtu.be/2UtxmfWX1Jo
مشکوک امریکی خاتون سنتھیا رچی نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر جنسی ہراسگی کا الزام لگانے کے بعد اپنے پاکستانی ویزے کی معیاد بڑھانے کے لیے کوششں شروع کر دی ہے جو کہ 30 جون 2020 کو ختم ہو رہا ہے۔ اطلاعات یہی ہیں کہ جب تک سنتھیا کو دیا گیا ایجنڈا پورا نہیں ہو جاتا اسے پاکستان سے واپس نہیں بھجوایا جائے گا۔
اپنے الزامات کے بعد سے سنتھیا رچی الیکٹرانک میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک ہر جگہ خبروں اور تجزیوں کا موضوع بنی ہوئی ہےجبکہ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ دراصل ہے کون اور پاکستان میں پچھلے دس سال سے قیام پذیر اس عورت کا ایجنڈا ہے کیا؟
معروف لکھاری اور مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے مطابق شاید سنتھیا کی ریپ کی کہانی میں کوئی سچائی ہو مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ نو برس تک خاموش کیوں رہی اور اس کو اپنی داستان اتنی سنسنی سے بتانے کی اب کیا ضرورت پیش آئی جبکہ اس کا پاکستان کا ویزہ 30 جون کو ختم ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنتھیا کی کہانی کی تحقیق ہونی چاہیے مگر ساتھ میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کے یہ داستان چند جاگیردارانہ حرکتیں کرنے والے طاقتور لوگوں کے ہاتھوں مجبور ہونے والی عورت کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کا مقصد ایک مخصوص سیاسی پارٹی کو رسوا کرنا ہے۔ مزید یہ کہ اسکی کہانی اتنی چٹپٹی ہے کہ عوام کا دھیان کپتان حکومت کی کرونا معاملے سے لیکر معیشت تک کی ناکامیوں سے ہٹا رہے اور اپوزیشن کے بخیے اُدھڑتے رہیں۔
سنتھیا کی جانب سے پیپلز پارٹی کے تین رہنماؤں، رحمان ملک، شہاب الدین اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر ریپ اور جنسی ہراسگی کا الزام کوئی ناقابل یقین نہیں۔ لیکن ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے خیال میں کہانی میں بہت سا جھول بھی ہے جس پر توجہ دینی چاہئے۔ مثلاً وہ کون سا جذبہ تھا جس کی وجہ سے سنتھیا ریپ ہونے کہ باوجود بار بار پاکستان آتی ہے اور ملک کی تعریف کرنے سے نہیں رکتی۔ وہ اپنے وی لاگ میں پاکستان کو نہایت محفوظ ملک کہتی ہے۔ پھر وہ اپنے ایک انٹرویو میں بتاتی ہے کہ رحمان ملک نے ریپ کرنے کے بعد اسے دوہزار پونڈدیے تھے، وہ پیسے نہیں لینا چاہتی تھی لیکن پھر لے بھی لیے۔ جس کا مطلب ہے کہ گو کہ اس عمل میں اس کی رضامندی شامل نہیں تھی لیکن اس نے بعد میں زنا بالجبر کی قیمت وصول کر لی اور پاکستان آتی جاتی رہی اور نو سال تک خاموش رہی۔
شاید ہی کسی کو علم ہو کہ سنتھیا کا پاکستان میں بزنس ویزا کس نے سپانسر کیا یا وہ 2010 سے پاکستان میں کیا کررہی ہے۔ تاہم ایک بات سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں اس کا اتنا لمبا قیام فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ سنتھیا نے پاکستان کے عسکری حلقوں میں قدم تب جمائے جب عاصم سلیم باجوہ ڈی جی آئی ایس پی آر ہوتے تھے اور انکے بطور کپتان کے وفاقی وزیر برائے اطلاعات واپسی کے بعد سے اپوزیشن مخالف سکینڈل سازی میں پھر سے شدت آگئی ہے۔
ماضی کے عسکری اور حال کی حکومتی میڈیا منیجرز سے بہتر کون جانتا ہے کہ ٹی وی سکرین پر جب ایک امریکی عورت مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے اپنے ریپ کی کہانی سنائے گی اور الزام رحمان ملک پر عائد کرے گی تو سادہ لوح پاکستانی کتنی جلد اس کا یقین کریں گے۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ اس کی کہانی ساری جھوٹی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ اس کو اتنے عرصہ میں صرف رحمان ملک کو ہی بھگتنا پڑا اور کیا وجہ ہے کہ یہ صرف یہی ایک کہانی سنا رہی ہے اور وہ بھی دس برس پرانی؟ کیا بعد کے دس برسوں میں اس کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا؟
اس بات پر تو کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ سنتھیا کا اصل نشانہ اسوقت پی پی پی ہے۔ اس نے جنوری 2020 میں بے نظیر بھٹو شہید کی بیٹی بختاور بھٹو پر الزام تراشی کی اور پھر مئی میں بے نظیر بھٹو پر غلیظ الزامات لگائے۔ جن کے بعد سنتھیا رچی اور پیپلز پارٹی کے میڈیا ونگ کے درمیان تکرار ہوئی جو بڑھی تو اس نے رحمان ملک پر جنسی زیادتی کا الزام لگا دیا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں مذہبی شناخت کو اہمیت دی جاتی ہے وہاں کے ٹی وی چینلز پر کسی سنسرشپ کے بغیر اس نہایت فحش کہانی کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کی اجازت دی گئی۔ بلکہ اطلاع تو یہ بھی ہے کہ ٹی وی چینلز کو اوپر سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ سنتھیا کی خبر کو پرائم ٹائم نیوز میں فلیش کریں۔
کیا پاکستان کی اپنی بیٹیاں جو زنا بالجبر کا شکار ہوتی ہیں کیا ان کے بارے میں بھی ایسی بات کرنے کی اجازت ہوتی ہے جو سنتھیا نے ہم ٹی وی کے پروگرام میں کی؟ یاد رہے کہ جب ماضی میں بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی نے سوئی کے علاقے میں ایک فوجی میجر کے ہاتھوں ڈاکٹر شازیہ کے ریپ کے خلاف آواز اٹھائی تھی تو ان کی اپنی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی گئی۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے مطابق سنتھیا کا دعوی ہے کہ وہ دس سال پہلے پاکستان آئی تھی۔لیکن دو تین سال پہلے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر، جنرل آصف غفور کے دور میں وہ سوشل میڈیا پر مشہور ہوئی۔ وہ سوشل میڈیا میں پاکستان کا مثبت امیج پروموٹ کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ متنازعہ بیانات بھی دینا شروع ہوگئی۔ وہ اکثر آئی ایس پی آر کے ٹرولز کے ساتھ مل کر ٹویٹ کرتی تھی اور وہ آصف غفور کی ریگولر ملاقاتی تھی۔
عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ آئی ایس پی آر کی سوشل میڈیا ٹیم کا سنتھیاکے ساتھ فطری تعلق بنا کیونکہ اس سے پاکستان کے امیج کو مثبت طور پر یا ریاستی نقطہ نظر کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ سنتھیا کو لے کر شاید آئی ایس پی آر نے ایک نیا تجربہ کیا کیونکہ ماضی میں بھی کئی خواتین کو پاکستان کے مثبت امیج کو پیش کرنے اور فوج کا نقطہ نظر پیش کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا لیکن ان کا تعلق پاکستان سے ہوتا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ سنہ 70 کی دہائی سے آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے گوری خواتین اور حضرات کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پاکستان آرمی اور ملک کا مثبت امیج بنائیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آرمی کی طرح سنتھیا رچی بھی ،پشتون تحفظ موومنٹ اور پیپلز پارٹی کے خلاف نفرت کو سوشل میڈیا میں شئیر کرتی ہے۔ پی ٹی ایم اور پی پی پی دونوں کو وہ تقریباً ایک سال سے تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ پی ٹی ایم کو پاکستان آرمی کی طرف سے قومی اور بین الاقوامی فورمز پر سخت مخالفت کا سامنا ہے اور اب اس میں پی پی پی کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں کہ پاکستان آرمی کی جانب سے پیپلز پارٹی کی نفرت کوئی تازہ نہیں بلکہ 70 کی دہائی سے شروع ہوتی ہے حالانکہ اب یہ پارٹی سیکیورٹی ایسٹیبلشمنٹ کے لیے کوئی خطرہ نہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مخالفت کی وجہ پی پی پی کی طرف سے 73 کے آئین میں اٹھارویں ترمیم کا اضافہ کرنا اور پھر اس ترمیم کی واپسی میں مدد کی یقین دہانی نہ کروانا ہے۔ یاد ریے کہ اس ترمیم کی رو سے صوبوں کو مالی وسائل کے حوالے سے نہ صرف خود مختار کیا گیا بلکہ بتدریج صوبوں کے مالی وسائل پر مرکز کا انحصار ختم ہوا۔ اس ترمیم کا براہ راست اثر پاکستان آرمی کے مالی وسائل پر پڑا۔
