سنتھیا ڈی رچی کو کس کی خفیہ پشت پناہی حاصل ہے؟

ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ میں کیس درج کروانے اور تمام تر شواہد فراہم کیے جانے کے باوجود سالوں سے اسلام آباد میں بغیر کسی وجہ قیام پزیر مشکوک امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی کے خلاف ابھی تک کسی قسم کی کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو پائی کیونکہ سے ایجنسیوں کی پس پردہ حمایت حاصل ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے سنتھیا نامی عورت کے خلاف محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے بارے میں توہین آمیز اور بہتان پر مبنی ٹویٹس کرنے پر ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ سے رجوع کیا تھا تا کے اسکے خلاف قانونی کاروائی کی جا سکے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر اس معاملے کو سرد خانے کی نزر کرنے کیلئے سنتھیا ڈی رچی کیخلاف پیپلز پارٹی کی طرف سے دائر درخواستیں ایف آئی اے نے اپنے لیگل ڈیپارٹمنٹ کو بھجوا دی ہیں اور کہا ہے کہ وہاں سے رائے آنے کے بعد ہی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ لیکن زمینی حقائق کے مطابق مستقبل قریب میں سنتھیا کیخلاف کوئی کارروائی ہوتی نظر نہیں آتی۔
سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے خلاف سوشل میڈیا پر واحیات الزامات عائد کرنے پر اسلام آباد ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے علاوہ ملک بھر میں مختلف پولیس سٹیشنز میں بھی سنتھیا ڈی رچی کے خلاف مقدمات درج کرنے کے لیے درخواستیں جمع کروائی جا رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک نام نہس غیرملکی پروڈیوسر پاکستان میں اتنے لمبے عرصے سے کس کی اجازت سے قیام پذیر ہے اور اسلام آباد میں اس کا ایجنڈا کیا ہے۔ وہ پاکستان کی اندرونی سیاست میں کیوں دخل دے رہی ہے اور کس کے کہنے پر عزت دار سیاستدانوں پر گند اچھال رہی یے۔۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے تیرہ برس بعد ایسے الزامات کوئی سازش لگتے ہیں۔ ایک خاتون جس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں اور لوگ اسے سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں، وہ پراسرار طور پر پاکستان میں برس ہا برس سے قیام پذیر ہے اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تعلقات کی دعویدار ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں مبینہ امریکی دستاویزی فلم پروڈیوسر، بلاگر سنتھیا ڈی رچی کے خلاف اس وقت ٹرینڈ چلنا شروع ہوئے جب اس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر داکارہ عظمیٰ خان کے ساتھ ہونے والے واقعے کے بعد ٹوئٹ کرتے ہوئے بی بی شہید پر آصف زرداری کے حوالے سے ایک نہایت بیہودہ الزام عائد کیا تھا۔ اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے شدید ردعمل آیا اور پارٹی کے شکیل احمد عباسی ایڈوکیٹ نے ایف آئی اے اسلام آباد سائبر کرائم سیل میں جبکہ فیصل میر نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور میں سنتھیا کی بکواسیات کے خلاف شکایت درج کروائی۔
سنتھیا ڈی رچی کے ٹوئٹر پر عائد کئے گئے بیہودہ الزامات کے بارے ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر عمار جعفری کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سائبر قوانین کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی پر بے بنیاد الزامات عائد کرتا ہے اور کردار کشی کرتا ہے تو اس کے خلاف ایف آئی اے باقاعدہ کارروائی کر سکتی ہے اور ایسے شخص کو جیل کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں سائبر قوانین سے متعلق کیونکہ ایف آئی اے ہی تفتیشی ادارہ ہے لہٰذا، اگر اس کی جانب سے اس کیس میں تفتیش کے بعد جرم ثابت ہو گیا تو اس عورت کا اکاؤنٹ کو معطل کروانے کے لیے براہ راست ٹوئٹر کی انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ عمار جعفری کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ایک شہید خاتون کے بارے میں اس طرح کی گندی بیان بازی کسی صورت مناسب نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے ٹوئٹس کے ذریعے نفرت پھیلائی جارہی ہے اور ان کے حمایتیوں کو اشتعال دلایا جارہا ہے جو کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اس پر ایف آئی اے کو فوری ردعمل دینا چاہیے۔
جبکہ دوسری طرف وفاقی تحقیقاتی ادارہ اس حوالے سے کوئی بھی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ وقار چوہان کا اس بارے کہنا ہے کہ ہمیں سینتھیا ڈی رچی کے خلاف درخواست موصول ہوئی ہے جس سے متعلق قانونی رائے جاننے کے لیے ہم نے سے اپنے لیگل سیکشن کو بھجوا دی ہے جس کی رائے آنے کے بعد اس بارے میں کارروائی کا آغاز کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی کردار کشی کے بارے میں قوانین موجود ہیں اور سائبر کرائم لا کے سیکشن 20 کے مطابق اس سلسلہ میں ایکشن لیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس بارے میں کوئی بھی بات لیگل سیکشن ہی بتا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غیرملکی پاکستان میں موجود ہو یا باہر، پاکستان کے قوانین کا اطلاق ان پر ہوتا ہے، سنتھیا ڈی رچی اس وقت کہاں ہیں اس بارے میں وقار چوہان نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
سماجی رہنما گلالئی اسمٰعیل نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ اس عورت نے تمام حدود پار کرلی ہیں۔ پتہ کرنا چاہیئے کہ اس کو پکستان کون لیکر آیا ہے؟ کون سے فنڈ اور تحفظ دے رہا ہے اور اس کو کون استعمال کر رہا ہے؟ پارلیمان کو اس کی مکمل تحقیق کرنی چاہیے۔
اسی طرح فلم پروڈیوسر سرمد سلطان نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ 1951 میں پاکستانی عوام سیاستدانوں کی اتنی عزت کرتی تھی کہ منتخب وزیراعظم کو قتل کرنے کیلئے ایک افغانی کو پیسے دینے پڑے، 2020 میں عوام سیاستدانوں کی اتنی عزت کرتی ہے کہ انکو گالیاں دینے کیلئے ایک امریکی خاتون کو پیسے دینے پڑے، عوام ٹیکس کیوں دیتے ہیں؟ دیگر جماعتوں کے سیاست دانوں اور سماجی رہنماؤں نے بھی سنتھیا ڈی رچی کے ان ٹوئٹس کی مذمت کی ہے۔
