سٹیل مل بیچنے کے محرک حماد اظہر خود سٹیل مل کے مالک ہیں؟

پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کے خواہاں سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر کے بیٹے اور وفاقی وزیر حماد اظہر خود سٹیل کے کاروبار سے وابستہ ہیں لہذا یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کے پیچھے حماد اظہر کے کاروباری مفادات بھی پوشدہ ہیں، تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے لئے 9 جون سے کیس کی سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر پاکستان اسٹیل ملز کو نجی تحویل میں دینے کا آئیڈیا وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار بیرسٹر حماد اظہر کا ہی تھا جب کہ اس حوالے سے کابینہ کے دیگر وزراء کا موقف مختلف تھا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسٹیل ملز کی نجکاری میں کون کون سی کمپنی شریک ہوگی اس پر سب کی نظر ہے۔ یہی اہم ترین سوال بار بار اٹھے گا کہ کیا حماد اظہر کی کمپنی بھی اسٹیل مل کی نجکاری میں حصہ لے گی یا نہیں؟واضح رہے کہ 3 جون کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی یعنی ای سی سی کے اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کے 9 ہزار 350 ملازمین کو فارغ کرنے کی منظوری دی گئی اور اس عمل کے لیے ایک ماہ کا عرصہ مقرر کیا گیا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں مفادات کا ٹکراؤ وزارتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا اسی لیے وزارت صنعت و پیداوار حماد اظہر کو دی گئی جو خود اسٹیل کا کاروبار کرتے ہیں اور انہوں نے ہی پاکستان اسٹیل مل کے تمام ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ کابینہ سے منظور کروایا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ حماد اظہر ایفکو اسٹیل انڈسٹری کے مینجنگ پارٹنر ہیں اور یہ ان کے والد سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر کی فیملی کا پرانا کاروبار ہے۔ حماد اظہر نہ صرف ایف کو کے مینجنگ پارٹنر ہیں بلکہ پاکستان اسٹیل ملز ایسوسی ایشن کے 2009 میں وائس چیئرمین بھی منتخب ہوئے تھے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایفکو اسٹیل انڈسٹری پاکستان کی سب سے پرانی اسٹیل انڈسٹری ہےجو 1935 میں جالندھر میں قائم کی گئی تھی ۔قیام پاکستان کے بعد ایفکو اسٹیل لاہور منتقل ہوگئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ حماد اظہر کی کمپنی ایف کو اسٹیل انڈسٹری اس وقت اپنے کاروبار کو توسیع دے رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق ماڈرانائزایشن اور توسیع کا عمل تیزی سےجاری ہے جس کے بعد اس کی مصنوعات میں مزید بہتری آئے گی۔ یہاں سوال پید اہوتا ہے کہ ایک طرف حماد اظہر اپنی کمپنی کو توسیع دے رہے ہیں وہیں انہوں نے بطور وزیر صنعت پاکستان اسٹیل ملز کی بہتری کا ایسا عجیب منصوبہ بنایا ہے جس میں سب سے پہلا قدم اس کے نوہزار سے زائد ملازمین کو فوری گولڈن ہینڈ شیک دیکر فارغ کرنا ہے اور یہ منصوبہ ای سی سی سے منظور کرالیا گیا ہے ۔ دوسری طرف سٹیل مل ملازمین کا کہنا ہے کہ گولڈن ہینڈ شیک کے نام پر انہیں فارغ تو کردیا جائے گا لیکن گولڈن ہینڈ شیک دیا نہیں جائے گا اور اس حوالے سے ماضی کی مثالیں موجود ہیں۔ گولڈن ہینڈ شیک کا اعلان صرف ملازمین سے جان چھڑوانے اور انہیں احتجاج سے روکنے کے لیے کیا جاتا ہے اور بنیادی مقصد ان کی چھٹی کروانا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اسٹیل کی سستی اور ہائی کوالٹی پروڈکٹس اس کی بدقسمتی کا سبب بنی رہی۔ پاکستان سٹیل ملز ہمیشہ سے صنعتی شعبہ میں کارٹیل بننے کے عمل کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔ نواز شریف حکومت کے پہلے دور میں اسٹیل ملز کو مالی مشکلات میں ڈالا گیا۔ مل ملازمین کی تنخواہیں روکی گئیں ، خام مال نہیں منگوایا گیا جس کی وجہ سے اس کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی۔ پھر یہ فارمولا بار بار ہر حکومت نے دہرایا۔ اسطرح ایک منافع بخش سرکاری ادارے کو خسارے کا ادارہ بنادیا گیا۔ اس میں کتنا کردار وزارت صنعت کی بیوروکریسی کا تھا اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔
مشرف دور میں وزیر نجکاری ڈاکٹر حفیظ شیخ، جو ا سوقت بھی مشیر خزانہ ہیں، کی نظریں اسٹیل مل پر پڑ گئیں اور اس کو فروخت کرنے کی تیاری کرلی گئی لیکن تب بھی سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت کی۔ کہا جاتا ہے کہ اسٹیل مل کو بینالاقوامی اسٹیل ٹائیکون متل کو بیچنے کی کوشش کی جارہی تھی جب چییف جسٹس افتخار چوہدری نے نجکاری کے خلاف فیصلہ دیدیا۔ یہیں سے اسوقت کے وزیراعظم شوکت عزیز اور چیف جسٹس کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔ شوکت عزیز نے صدر پاکستان جنرل مشرف کو شکایت کی اور چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بنا کر بھیجا۔
تحریک انصاف حکومت کی جانب سے ماضی میں سٹیل ملز بیچنےکی مخالفت کے بعد اب اس کی نجکاری کے فیصلے پر ہر جانب سے تنقید کی جا رہی ہے جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اس معاملے کو ٹیک اپ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی برطرفی سے متعلق کیس 9 جون کو سماعت کرلیے مقرر کردیا ہے۔ چیف جسٹس گلزاراحمد، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی پر مشتمل بینچ 9 جون کو کیس کی سماعت کرےگا۔ اس ضمن میں رجسٹرار آفس نے اسٹیل ملز انتظامیہ سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
