علامہ اقبال سے بار بارزیادتی پر عمران خان تنقید کی زد میں


ایک مرتبہ پھر کسی نامعلوم شاعر کا شعر شاعر مشرق علامہ اقبال سے منسوب کرکے ٹویٹ کر دینے پر وزیر اعظم عمران خان دوبارہ تنقید کی زد میں ہیں۔ اپنے بلنڈر کا احساس دلائے جانے پر کپتان نے تصیح تو کردی لیکن اس کے باوجود سوشل میڈیا صارفین یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کپتان ہمیشہ کسی اور کے شعر اقبال کے نام سے کیوں منسوب کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ اقبال کا نواسہ میاں یوسف صلاح الدین عمران خان کا بہترین دوست ہے۔ اگر کپتان اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ خود ہینڈل کرتے ہیں تو صرف ایک فون کال یا واٹس ایپ میسج کے ذریعے اقبال کی نواسے یوسف سے کنفرم کر سکتے ہیں کہ آیا جو شعر وہ ٹوئٹر پر پوسٹ کرنے جا رہے ہیں وہ اقبال کا ہے بھی یا نہیں لیکن وہ اتنی زحمت بھی نہیں کرتے اور ہمیشہ غلطی کرکے تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں۔
ابھی چند ماہ قبل ہی کی بات ہے جب وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر قناعت پسندانہ زندگی بسر کرنے کا ایک نسخہ شیئر کیا تھا۔ انھوں نے لکھا کہ جس کو مشہور شاعر اور فلسفی خلیل جبران کا یہ زریں قول سمجھ آ گیا، سمجھیے اس کے ہاتھ قناعت پسند زندگی بسر کرنے کا گُر آ گیا۔ یہ عبارت ٹوئٹر پر لکھ کر عمران خان نے مشہور بنگالی شاعر اور ادیب رابندر ناتھ ٹیگور کا ایک قول اپنی ٹویٹ کے ساتھ چسپاں کر دیا۔ پھر کیا تھا سوشل میڈیا پر بیٹھے نام نہاد نقادوں کے ہاتھ بات آ گئی اور انھوں نے ٹیگور کا قول خلیل جبران سے منسوب کرنے پر عمران خان کے خوب لتے لیے۔
7 جون کو وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر موجود اپنے نقادوں کو ایسا ہی ایک اور موقع اُس وقت فراہم کیا جب انھوں نے ایک نامعلوم شاعر کی نظم علامہ اقبال سے منسوب کرتے ہوئے اسے ٹوئٹر پر شیئر کر دیا۔ غلطی وہی پرانی کی گئی یعنی شاعری کے ساتھ علامہ اقبال کی تصویر بھی تھی، بالکل ویسے ہی جیسے ٹیگور کے قول کے ساتھ خلیل جبران کی تصویر پوسٹ کی گئی تھی۔ اس نظم کے ساتھ وزیر اعظم نے لکھا کہ اس نظم سے وہ انداز جھلکتا ہے جسے میں سلیقہ حیات بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔ نوجوانوں کو میری تلقین ہے کہ وہ اس نظم کو سمجھیں، اپنائیں اور یقین کر لیں کہ اس سے ان خداداد صلاحیتوں میں خوب نکھار آئے گا جو بطور اشرف المخلوقات رب کریم نے ہم سب کو عطا کر رکھی ہیں۔
تاہم اس مرتبہ فرق یہ تھا کہ وزیر اعظم کو جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور انھوں نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میری درستگی کر دی گئی ہے۔ یہ علامہ اقبال کی نظم نہیں ہے مگر اس میں جو پیغام دیا گیا ہے میں اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہوں۔
وزیر اعظم کی ٹویٹ ہونے کی دیر تھی کہ پاکستان میں ٹوئٹر پر ’اقبال‘ ٹرینڈ کرنے لگا۔صحافی اشعر رحمان نے تبصرہ کیا کہ ’آئی کے بالیات‘ یعنی یہ اقبالیات نہیں بلکہ عمران خان کی کہی ہوئی بات ہے۔‘
ٹوئٹر صارف عدنان حیدر نے اقبال کے ڈھیر ساری تصانیف کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’محترم وزیر اعظم میرے پاس اقبال کے ادب کا سارا ذخیرہ موجود ہے آپ نے جس نظم کا حوالہ دیا ہے وہ ان کی لکھی ہوئی نہیں ہے۔ براہ کرم اسے درست کر لیں۔ شکریہ۔
صحافی سیدہ عائشہ ناز نے تصحیح کی کہ یہ نظم اسد معروف نامی شاعر کی ہے نہ کہ علامہ اقبال کی۔
لکھاری ندیم فاروق پراچہ نے اگرچہ کوئی تبصرہ تو نہیں کیا مگر اپنے تئیں علامہ اقبال کا پیغام وزیر اعظم تک ان الفاظ میں پہنچایا۔ ہیلو عمران خان
اکبر نامی ایک صارف نے لکھا کہ اگر علامہ اقبال زندہ ہوتے اور ملک کے وزیر اعظم کی جانب سے اتنی سستی شاعری اُن سے منسوب کرتے دیکھتے تو اپنا بوریا بستر لپیٹ کر راجہ صاحب محمود آباد کی طرح ملک سے چلے جاتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button