سنجرانی کے الیکشن میں خفیہ بیلٹ کیسے ہارا اور خفیہ ہاتھ کیسے جیتا؟

پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کی سینیٹ میں اکثریت ہونے کے باوجود فوجی اسٹیبلشمنٹ اور کپتان کے مشترکہ امیدوار سنجرانی کی کامیابی دراصل خفیہ ہاتھ کی جیت اور خفیہ بیلٹ کی شکست تھی۔

سنیئر صحافی مظہر عباس اپنے تازہ ترین تجزیے میں کہتے ہیں کہ بات خفیہ کیمرے کی ہو یا خفیہ بیلٹ کی ہماری سیاست میں’ ’خفیہ‘‘ کردار موجود رہیں گے اور جب تک یہ کردار موجود ہیں، الیکشز کے نتائج بھی کچھ ایسے ہی آئیں گے۔ انکا کہنا یے کہ جو کچھ 12مارچ کو سینیٹ چئیرمین کے الیکشن میں ہوا، کم وبیش وہی کچھ 3 مارچ کو گیلانی کی جیت کے معاملے میں بھی ہوا تھا۔ لہٰذا سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اکثریت ہونے کے باوجود اسی طرح چیئرمین سینیٹ کا الیکشن ہارے جس طرح عبد الحفیظ شیخ قومی اسمبلی میں اکثریت رکھنے کےباوجود ان سے ہارے تھے۔

مظہر عباس کے بقول اس عجب الیکشن کی غضب کہانی کے کئی کردار ہیں مگر صادق سنجرانی کے ساتھ یہ چمتکار 2018 سے ہوتا آرہا ہے۔ سنجرانی کمال قسمت لے کر آئے ہیں۔ حکومت بھی جیت گئی اور ریاست بھی جیت گئی مگر ہاری تو جمہوریت اور سیاست۔ لہازا ہمیں سوچنا صرف یہ ہے کہ آگے کیا ہو گا۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ اب نظر یہی آتا ہے کہ خفیہ کیمرے نصب کرنے والوں کے حوالے سے جاری تحقیقات بھی خفیہ رہیں گی۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ گیلانی کی جیتی ہوئی بازی پلٹی کیسے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مظہر عباس کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان 3 مارچ کو عبدالحفیظ شیخ کی گیلانی کے ہاتھوں شکست سے بہت پریشان تھے۔ انہیں پورا یقین تھا کہ حفیظ شیخ جیت جائیں گے، اس کے باوجود کہ خان صاحب کے سیکریٹ ویپن پرویز خٹک نے ان کو بتا دیا تھا کہ ہمارے کچھ لوگ ہل چکے ہیں۔ اس پر کپتان نے پی پی پی کی سیاست کا تجربہ رکھنے والے خٹک صاحب کو سنجرانی کو جتوانے کا ٹاسک یہ کہہ کر سونپ دیا کہ جو گیلانی یا زرداری صاحب نے ہمارے ساتھ کیا وہ ا نکو بونس کے ساتھ واپس کر دو، اور پھر ایسا ہی ہوا۔ یہی وجہ تھی کہ الیکشن سے چند دن پہلے وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ جو کھیل ہمارے ساتھ کھیلا گیا ہے وہی کھیل اب ہم اپوزیشن کے ساتح کھیلیں گے اور پھر 12 مارچ کو کپتان نے خفیہ والوں کی مدد سے ادلے کا بدلہ لے کر دکھایا۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ اس حکومتی اعلان کے نتیجے میں PDM کے 8 سینیٹرز کے ضمیر سلا دیے گے اور گیلانی جیتی ہوئی بازی ہار گے۔ اب اس کھیل کا اختتام کس طرح ہو گا یہ دیکحنے کے لئے ہمیں تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔

تاہم مظہر عباس کے خیال میں آصف زرداری کو اپنی سیاست پرغور کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ سیاسی شطرنج کے ماہر بھی کبھی کبھی ضرورت سے ذیادہ اعتماد کی وجہ سے ہار جاتے ہیں۔ مظہر عباس کا کہنا ہے کہ نوازشریف ماضی میں بھی رضا ربانی کو اپوزیشن کی جانب سے مشترکہ طور پر سینیٹ چیئرمین کا امیدوار بنانا چاہتے تھے لیکن زرداری صاحب نہیں مانے۔ تب اگر زرداری صاحب مسلم لیگ (ن) کی بات مان لیتے تو ربانی بلا مقابلہ منتخب ہو جاتے اور سنجرانی ہار جاتے۔ حیرت ہے کہ اس بار بھی وہ زرداری صاحب کے اعتماد پر پورا نہیں اترے اور سنجرانی نے گیلانی کو ہرا دیا۔ رہ گئی بات وزیر اعظم عمران خان کی تو وہ شکست بھی کھا جائیں تو ہار آسانی سے قبول نہیں کرتے۔ میچ ہوم گرائونڈ پر ہو یا باہر انہیں لڑنا آتا ہے۔ اب تو خیرکرکٹ کی طرح سیاست میں انہیں بھی اندازہ ہو گیا ہے، خفیہ والوں کی اہمیت کا جو اب ان کی اصل طاقت بن چکے ہیں۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ ذرا سوچیں کہ اپوزیشن اگر اوپن بیلٹ کی حمایت کرتی تو ایک گیلانی نہ ہارتے اور دوسرا مولانا غفور حیدری کے ساتھ بھی ہاتھ نہ ہوتا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر خفیہ رائے شماری نہ ہوتی تو گیلانی اسلام آباد سے سینیٹ کی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہ ہوتے اور نہ ہی چیئرمین کے امیدوار بن سکتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے چکر میں ہنجاب کا تخت بزدار ایک بار پھر مضبوط ہو گیا۔ بڑے تجزیہ کاروں نےوزیر اعلیٰ پنجاب کی تبدیلی کی نوید سنائی مگر پہلے وزیر اعظم نے خود قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیااور پھر عثمان بزدار کو اپنے اعتماد کا ووٹ دیا۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ اگر ہم نے سیاست اور جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے اور خفیہ کرداروں کو بے نقاب اور غیر موئثر کرنا ہے تو پہلے ہمیں اپنے اپنے گھروں کی صفائی کرنا یو گی کیونکہ جو آج آپ کے ہاتھ بکا ہے، وہ کل کسی اور کے ہاتھوں بکے گا۔ لہازا صرف الیکٹرول ریفارم نہیں بلکہ جمہوری ریفارمز لانے کی ضرورت ہے، پارلیمنٹ میں بھی اور جماعتوں میں بھی۔ جب گندےانڈے نہیں ہونگے تو نہ تو خفیہ والوں کا خوف ہو گا اور نہ ہی خفیہ بیلٹ کا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button