الیکشن کمیشن ڈٹ گیا تو سیاسی منظر نامہ بدل جائے گا

کپتان حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو چارج شیٹ کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر اس نے اپنے پاس زیر سماعت چند اہم کیسز کے آزادانہ طور پر اور کوئی دباؤ لیے بغیر میرٹ پر فیصلے کر دیے تو پوری پاکستانی سیاست میں بھونچال آ سکتا ہے اور سیاسی منظر نامہ بھی یکسر تبدیل ہو سکتا ہے۔
پاکستانی سیاست میں الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو ہمیشہ سے ہی اہمیت حاصل رہی ہے لیکن سینیٹ انتخاب، ڈسکہ الیکشن سمیت الیکشن کمیشن کے حالیہ چند فیصلوں نے ملکی سیاست کا رخ ہی تبدیل کر دیا ہے۔اس وقت الیکشن کمیشن میں دائر چند ایسی درخواستیں زیر التوا ہیں جن پر تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ ان میں سب سے اہم کیس حکمران جماعت تحریک انصاف کیخلاف دائر کردہ اکبر ایس بابر کا فارن فنڈنگ کیس ہے جو حتمی مراحل میں ہے اور جس میں اب 22 مارچ کے لئے وزیراعظم عمران خان کو بھی نوٹس کر دیا گیا ہے جو کہ تحریک انصاف کے سربراہ ہیں۔ اگر اس کیس کا فیصلہ تحریک انصاف کیخلاف آتا ہے تو اس سے نہ صرف حکمران جماعت پر پابندی لگ سکتی ہے بلکہ حکومت کا بھی دھڑن تختہ ہو سکتا یے۔ چنانچہ کپتان حکومت نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت الیکشن کمیشن کی ساکھ پر حملہ کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سمیت تمام کمیشن اراکین کے استعفوں کا انوکھا مطالبہ کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کا نام بھی دراصل وزیراعظم عمران خان نے خود تجویز کیا تھا اور اپوزیشن نے اس کی تائید کی تھی۔ یہ بھی یاد رہے کہ صرف دو ماہ پہلے عمران خان نے الیکشن کمیشن کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس پر نہ صرف حکومت کو اعتماد ہے بلکہ اپوزیشن کو بھی۔ لیکن پھر ڈسکہ ضمنی الیکشن اور سینیٹ الیکشن کے حوالے سے تنازعات کھڑے ہونے کے بعد حکومت نے الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔
یوں تو پاکستان میں الیکشن کمیشن کا کردار عام انتخابات یا ضمنی انتخابات کے وقت ہی اہمیت اختیار کرتا ہے لیکن گذشتہ چند ہفتوں سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں چند ایسی درخواستیں زیر التوا ہیں جن پر تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ 18 فروری کو ڈسکہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ضمنی انتخابات ہوئے تو اپوزیشن جماعتوں نے انہیں دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے نتائج روکنے کا مطالبہ کیا اور چند پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ انتخابات کروانے کی درخواست کر دی۔ ماضی کے برعکس الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضمنی انتخابات میں پریذائیڈنگ افسران کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف نتائج روکنے کا اعلان کیا، بلکہ ’صاف شفاف، منصفانہ انتخاب‘ نہ ہونے پر ان انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کروانے کی ہدایت کی۔ تاہم حکومت یہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں لے جا چکی ہے لیکن اس کیس کی ابتدائی سماعت میں عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ اس حلقے میں ضمنی الیکشن لازمی ہوگا اور فیصلہ صرف اتنا کرنا ہے کہ الیکشن پورے حلقے میں ہوگا یا صرف 20 پولنگ اسٹیشنز پر۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت جانتی ہے اگر پورے حلقے میں دوبارہ سے الیکشن ہوا تو مسلم لیگ نواز واضح برتری کے ساتھ جیت جائے گی لہذا اس کی کوشش ہے کہ دوبارہ الیکشن صرف 20 حلقوں میں ہو۔
الیکشن کمیشن سے متعلقہ ایک اور کیس میں سینیٹ انتخاب اوپن بیلٹ سے کروانے کے لیے دایلیر کردہ حکومتی ریفرنس پر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کی ہدایت کی تو الیکشن کمیشن نے وقت کی کمی کے باعث حالیہ سینیٹ انتخابات پرانے طریقہ کار کے تحت کروانے کا فیصلہ کیا، اور آئندہ انتخابات کے دوران سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی اپنی مرضی کی تشریح کرتے ہوئے یہ موقف اپنا لیا کہ الیکشن کمیشن کو سینیت الیکشن میں ووٹر کی شناخت کے لیے بیلٹ پیپر پر بار کوڈ لگانی چاہیے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا یہ موقف تھا کہ وہ قانون سازی کرنے والا ادارہ نہیں ہے بلکہ قانون پر عملدرآمد کرنا اس کا کام ہے اور سینیٹ الیکشن کے طریقہ کار میں تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم لانا ضروری ہے۔ لیکن کپتان حکومت میں نہ مانوں کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اسکا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے دراصل سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں دیا۔
الیکشن کمیشن سے متعلقہ ایک اور معاملے میں سینیٹ انتخاب سے ایک روز قبل یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کی ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بتانے کی ویڈیو منظرعام پر لائی گئی۔ حکمران جماعت نے یوسف گیلانی کو نااہل قرار دینے اور سینیٹ انتخاب میں انکی کامیابی کا نوٹی فیکیشن روکنے کی استدعا لیکر الیکشن کمیشن سے رجوع کر لیا۔ یہ معاملہ بھی الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے لیکن اسی کے ساتھ جڑا ایک اور معاملہ مسلم لیگ ن نے کی جانب سے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کو نااہل قرار دینے کی درخواست کا ہے۔ نواز لیگ نے الیکشن کمیشن سے واوڈا کی کامیابی کا نوٹی فیکیشن روکنے کے لیے رجوع کیا۔ الیکشن کمیشن نے دونوں فریقین کی درخواستوں کو قابل سماعت تو قرار دیا لیکن کامیابی کے نوٹی فیکیشن روکنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
یہ تو تھے ماضی قریب کے چند واقعات جس کے باعث الیکشن کمیشن کبھی حکومت تو کبھی حزب اختلاف کی جانب سے تنقید کی زد میں رہا۔ اب ان درخواستوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو کہ الیکشن کمیشن کے پاس زیر التوا ہیں اور ان فیصلوں کا ملکی سیاست پر گہرا اثر ہو سکتا ہے۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کے اپنے ہی منحرف رکن اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن میں درخواست زیر التوا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’تحریک انصاف غیر ملکی ذرائع سے فنڈز حاصل کرتی رہی ہے۔ درخواست کے مطابق تحریک انصاف نے نہ صرف مبینہ طور پر غیر ملکی فنڈنگ حاصل کی بلکہ ممنوعہ ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے فنڈنگ پاکستان لائی گئی۔ اکبر ایس بابر کی یہ درخواست 2014 میں الیکشن کمیشن میں دائر کی گئی تھی تاہم حکونت کی جانب سے مختلف فورمز سے بار بار حکم امتناع لینے کے باعث اس پر کارروائی تعطل کا شکار رہی اور اب 6 برس گزر چکے ہیں۔ پچھلے ڈیڈھ برس سے سرکاری افسران پر مبنی الیکشن کمیشن کی تشکیل کردہ سپیشل سکروٹنی کمیٹی تحریک انصاف کے بینک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کر رہی ہے حالانکہ اسے یہ کام مکمل کرنے کے لیے صرف تین ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔ تاہم سکروٹنی کمیٹی حکومتی دباؤ کے تحت اس معاملے کو شیطان کی آنت کی طرح لمبا کرتی چلی جارہی ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ اگر اس کیس میں فیصلہ آ گیا تو شواہد کی بنیاد پر تحریک انصاف پر پابندی لگ سکتی ہے لہٰذا حکومت نے الیکشن کمیشن سے کھلا پنگا ڈال کر اس کی ساکھ پر حملہ کر دیا ہے۔
اس معاملے کے علاوہ الیکشن کمیشن کے پاس سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی درخواست 18 مارچ کو سماعت کے لیے مقرر ہے جس میں واوڈا پر عام انتخابات 2018 کے دوران کاغذات نامزدگی میں جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کا الزام ہے۔اسی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کہہ چکی ہے کہ بظاہر واوڈا نے جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا تاہم عدالت نے نااہلی کا معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد کردیا تھا۔ الیکشن کمیشن متعدد بار وفاقی وزیر فیصل واوڈا سے جواب طلب کر چکا ہے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے اور عدم پیروی پر انہیں جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ تاہم گذشتہ سماعت پر واوڈا نے الیکشن کمیشن کے سامنے مؤقف اپنایا کہ وہ اپنی والدہ کی علالت کے باعث پیش نہ ہو سکے جس پر کمیشن نے انہیں ایک اور مہلت دیتے ہوئے 18 مارچ کو تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اسی طرح ویدیو کیس میں یوسف رضا گیلانی اور علی حیدر گیلانی کو نااہل کرنے کی درخواست 22 مارچ کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے دو متفرق درخواستوں میں علی حیدر گیلانی اور یوسف رضا گیلانی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ارکان اسمبلی کو لالچ دینے اور ووٹ کی خرید و فروخت میں ملوث رہے ہیں جس کی بنیاد پر انہیں نا اہل قرار دیا جائے۔ تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان نے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو میں شامل تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کو بھی فریق بنانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس دائر کردہ کیسوں میں سے کس پر پہلے فیصلہ آتا ہے اور وہ ملکی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے؟
