سوات سیلاب: ’میرے بچے چیختے رہے مگر میں انہیں بچا نہیں سکا‘

گزشتہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب تقریباً نو بجے تھے کہ سیلابی ریلہ ہمارے گھر تک پہنچ آیا۔ میں اپنے بچوں کی چیخیں سُن رہا تھا۔ وہ چیخ رہے تھے کہ ہم بہہ رہ ہیں ہمیں بچا لو۔۔۔ میں اور میری ماں بھی چیخ رہے تھے لیکن ہم انہیں بچا نہیں سکے۔
پیر جان کا گھر سوات کے علاقے مدین کے تیرات درہ میں واقع تھا۔ اُن کے گھر میں اس رات 11 افراد تھے، جن میں اُن کی اہلیہ، والدہ، تین بیٹے، دو بیٹیاں، بہو اور دو نواسے شامل تھے۔
اُس رات سیلابی ریلہ پیر جان کے دو بیٹوں، ایک بیٹی، بہو اور دو نواسوں کو بہا لے گیا۔ دو کی لاشیں ہفتے کے روز جب کہ باقی لاشیں دو دن کے بعد دریائے سوات سے ملیں۔ محنت مزدوری کےلیے متحدہ عرب امارات میں موجود ان کے بڑے بیٹے بخت شیروان اس واقعے کے بعد وطن واپس آ گئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پہلے کچھ روز تو گاؤں والے خود پانی میں لاشیں تلاش کرتے رہے جب کہ تیسرے دن ریسکیو 1122 کے رضاکاروں نے اُن کی اہلیہ، بیٹی، بہن اور بھائی کی لاشیں دریائے سوات سے نکالیں۔ بخت شیروان نے بتایا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں تھے جب انہیں فون پر فوراً گھر لوٹنے کا کہا گیا۔ گھر پہنچنے پر ہی انہیں اس واقعے کی اطلاع دی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں۔ میرا تو سب کچھ ختم ہو گیا۔‘ بخت شیروان کے قریبی رشتہ داروں کے مطابق وہ اب ذہنی کوفت سے گزر رہے ہیں اور انہیں علاج کی اشد ضرورت ہے۔
بخت شیروان کے والد پیر جان تیرات درہ میں کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔
انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ اُن کا پورا خاندان برباد ہو گیا اور بدقسمتی سے انہوں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ’میرے سامنے میرا پورا خاندان اُجڑ گیا، میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا لیکن کچھ نہیں کر پایا۔‘
اس واقعے کے بعد اگرچہ پیر جان اپنے باقی خاندان کے ساتھ ایک قریبی رشتہ دار کے گھر منتقل ہو گئے ہیں لیکن اُن کا گھر تاحال تباہ ہے اور اُن کے مطابق اُن کے پاس اتنے پیسے نہیں ہے کہ دوبارہ گھر تعمیر کر سکیں۔
گزشتہ ہفتے سے سوشل میڈیا پر سوات کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورت حال کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں بہت سارے مکانات اور دکانیں سیلابی ریلوں میں بہتی ہوئیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق سیلاب کی وجہ سے بحرین، مدین اور دیگر علاقوں میں شدید نقصانات ہوئے ہیں لیکن راستوں کی بندش اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے تاحال کئی علاقوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔
اُدھر پشاور میں پرووینشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ صوبے کے بیشتر علاقوں میں جمعرات اور جمعے کے دن مزید بارشوں اور سیلابی ریلوں کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ اداروں کو بتایا گیا ہے کہ دیر، سوات، بونیر، شانگلہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مردان، نوشہرہ، اور چارسدہ میں جمعرات اور جمعے کو مزید بارش کا امکان ہے، جس سے لینڈسلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button