سوشل میڈیا پاکستانیوں کی زندگیوں پر کیسے اثر انداز ہوا ہے؟

گذشتہ دہائی میں ایک چیز جو دنیا بھر میں لوگوں کی ذاتی زندگیوں، معاشرتی رویوں، حکومتی پالیسیوں اور سیاست پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوئی ہے وہ ہے سوشل میڈیا۔ عرب سپرنگ کے نام سے مشہور مشرقِ وسطیٰ میں اٹھنے والی عوامی تحریکوں سے لے کر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی تک، شام کی خانہ جنگی سے داعش کے عروج و زوال تک جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں ہونے والے بڑے واقعات سامنے آئے اور بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوئیں، وہیں سوشل میڈیا خود بھی ان 10 برسوں میں مسلسل ارتقا کے مراحل سے گزارا۔
پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ایک بڑی تبدیلی سنہ 2010 کے بعد سے دیکھنے میں آئی جب پاکستان کی سیاسی پارٹیوں اور فوج کے ادارے نے سوشل میڈیا کا رخ کیا۔ اس سے پہلے تک پاکستان کی سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا کے بجائے روایتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی اپنے پیغامات کا پرچار کرتی تھیں لیکن گذشتہ دہائی نے سب کچھ بدل دیا۔ جہاں بڑی سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں نے اپنے مقصد کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا، وہیں ایسی چھوٹی سیاسی پارٹیوں اور گروہوں جنھیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر عموماً جگہ نہیں ملتی تھی، نے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک رسائی حاصل کی جن میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور فیمینسٹ تحریکیں سرِفہرست ہیں۔
جلسہ گاہوں اور ٹیلی ویژن سکرینوں کے بعد سوشل میڈیا پر اپنی سیاست کا پرچار کرنے میں پاکستان تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین عمران خان نے سب پر سبقت حاصل کی جب سنہ 2010 میں انھوں نے فیس بک اور ٹوئٹر آفیشل اکاؤنٹس کا آغاز کیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصے تک پاکستان تحریک انصاف سوشل میڈیا پر مقبولیت کی بے تاج بادشاہ بھی رہی تاہم 2013 کے عام انتخابات کے نتائج تحریک انصاف کے حمایتوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئے جب سوشل میڈیا پر پارٹی کی مقبولیت کی جھلک انتخابات کے نتائج میں نظر نہیں آئی۔ لیکن 2018 کے عام انتخابات کے بعد سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کا زور ٹوٹا اور اب اس کے حمایتی ماضی کے مقابلے میں زیادہ خاموش اور غیر متحرک دکھائی دیتے ہیں جس کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی حکومت کی ہر فرنٹ پر ناکامی ہے لیکن 2018 کا الیکشن ہی وہ موقع تھا جب پہلی مرتبہ سیاسی جماعتوں کا اپنی سوشل میڈیا ٹیمز بنانے اور اپنی حمایت میں ٹوئٹر ٹرینڈ چلانے کا رواج پڑا۔ اس کے علاوہ جب لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کا عہدہ سنبھالا تو انھوں نے بھی فوج اور اس کی پالیسوں کا عوام میں مثبت تاثر قائم کرنے کے لیے ٹوئٹر کا سہارا لیا اور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے جس کا ثبوت ہیش ٹیگ شکریہ راحیل شریف اکثر سوشل میڈیا کی زینت بنا رہنا تھا۔ اور اب ‘نظریاتی سرحدوں’ کی سوشل میڈیا کے ذریعے فوجی ادارے کی دفاع کی پالیسی کا مشن موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے سنبھال لیا ہے۔
جنرل باجوہ کے آرمی چیف بنے اور آصف غفور کے ڈی جی آئی ایس پی آر بننے کے بعد سے پاکستان کا مین سٹریم میڈیا شدید ریاستی دباؤ میں ہے۔ میڈیا پر عائد پابندیوں کے پیش نظر بہت سے پاکستانی صحافیوں نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ہی خبریں دینے اور اپنی رائے کے اظہار میں عافیت جانی، اور یہی وجہ ہے کہ آج کل ذیادہ تر سچی خبریں سوشل میڈیا کے ذریعے ہی ٹیلی ویژن اور اخبارات تک پہنچتی ہیں۔ متعدد مشہور صحافی ٹی وی کی بجائے اپنے یوٹیوب چینل چلانے میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں جہاں ان کے آزادی اظہار پر کوئی پابندی نہیں۔
یہ دہائی سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے بھی یاد کی جائے گی اور ان میں سرِفہرست ہیں پاکستان کی سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ، جنھیں سوشل میڈیا نے جہاں شہرت دلوائی وہیں ان کے سکینڈل نے انھیں متنازع شحصیت بھی بنا دیا جو بالآخر ان کی موت کی وجہ بنا۔ آج کل ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ یکے بعد دیگرے آنے والے سکینڈلز کے باعث سوشل میڈیا پر زیر بحث رہتی ہیں لیکن ان ٹک ٹاک گرلز کی وائرل ویڈیوز نے جتنا نقصان تحریک انصاف کی حکومت کے مجموعی تائثر کو پہنچایا ہے شاید ہی سوشل میڈیا پر اسکے سیاسی مخالفین بھی اسے پہنچا سکے ہوں۔ پچھلے چند ماہ میں شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرا ہو جس میں ٹک ٹاک گرلز نے کسی حکومتی وزیر کے ساتھ اپنی کوئی ویڈیو لیک کر کے ایک نیا تنازعہ کھڑا نہ کیا ہو۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والا تازہ لطیفہ ٹک ٹاک اسٹارز اور حکومت کے تعلقات کی غمازی کرتا ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے کفایت شعاری سے حکومت چلانے کے اعلان پر عمل کرتے ہوئے کم از کم یہ طے کروا دیا ہے کہ تمام حکومتی وزراء کی گرل فرینڈز صرف دو ہی لڑکیاں ہوں گی اور وہ ہیں ٹک ٹاک سٹارز حریم شاہ اور صندل خٹک۔
