سوشل میڈیا پر بابراعظم کے دوست حسن علی کے چرچے کیوں ؟

 آئندہ ماہ بھارت میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے پاکستانی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی کھلاڑیوں کی سلیکشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے، انجری کا شکار ہونے والے فاسٹ بائولر نسیم شاہ کی جگہ حسن علی کو منتخب کرنے پر سب سے زیادہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔جمعے کو لاہور میں ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے حسن علی کو واپس لانے کی وجوہات بتائیں، نسیم شاہ کی غیر موجودگی میں حسن علی کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہئے، اس کے باوجود سوشل میڈیا صارفین نے 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اہم کیچ ڈراپ کرنے والے بائولر کی واپسی پر سوالات اُٹھا دیئے۔کسی نے زمان خان پر حسن علی کو ترجیح پر اعتراض کیا تو کسی نے ان کے کم بیک کی وجہ بابراعظم سے قربت کو قرار دیا، کچھ افراد نے تو عماد وسیم کو ٹیم میں شامل نہ کرنے پر بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔صحافی احمر نجیب ستی سمجھتے ہیں کہ حسن علی کی فائنل سکواڈ میں طلبی اور ابرار احمد کی ریزریو میں شمولیت سے انہیں مایوسی ہوئی، صارف حذیفہ خان نے سوال اٹھایا کہ حسن علی کو جس پرفارمنس پر منتخب کیا اس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا جائے، وائی کے نامی صارف نے تو پوسٹ میں لکھا کہ دوست ہوں تو حسن علی کے دوست جیسے، ورنہ نہ ہوں!ایک بھارتی صارف نے اینکر وقار ذکا کے شو سے ایک مشہور کلپ شئیر کرتے ہوئے حسن علی کا ردِ عمل بتانے کی کوشش کی، اس کلپ میں منتخب ہونے والے شخص کو خود بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کی سلیکشن ہوگئی۔سعد عرفان نامی صارف کے خیال میں حسن علی کی سلیکشن پر تنقید کرنا درست نہیں، نسیم شاہ اور احسان اللہ کی انجری کی وجہ سے انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا اور وہ اُمید کرتے ہیں کہ وہ اپنے انتخاب کو درست ثابت کریں گے۔ماہم گیلانی نامی صارف نے تو حسن علی کی وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کی جس میں وہ بارش میں گراؤںڈ پر ڈائیو مار رہے ہیں، ٹیم میں سلیکشن کے بعد حسن علی کا ایسا ہی ری ایکشن ہوا ہوگا، دیگر ٹیم کی سلیکشن پر بھی کئی افراد نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کمنٹیٹر بازید خان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے زیادہ تبدیلیوں سے گریز کیا۔ عامر جمال، فہیم اشرف اور شان مسعود اس سکواڈ میں ہو سکتے تھے۔ ابرار احمد کو ریزرو کے بجائے 15 رکنی سکواڈ میں ہونا چاہئے تھا۔دوسری جانب ہیز ہارون نامی صارف کا خیال تھا کہ ابرار احمد نے وائٹ بال کرکٹ میں اب تک کوئی بڑی کارکردگی نہیں دکھائی، اس کی عدم سلیکشن پر پریشان ہونا درست نہیں، بھارتی صحافی ہیمانشو پاریک کے بقول نسیم شاہ کی عدم دستیابی سے پاکستان کے ساتھ ساتھ فاسٹ بالنگ کے مداح بھی متاثر ہوں گے۔صارف سعد کے بقول ان کا ذہن اس بات کو قبول ہی نہیں کررہا کہ اس ورلڈ کپ سے نسیم شاہ باہر ہو گئے ہیں، کچھ صارفین کو اس سکواڈ کو دیکھ کر محمد عامر کی یاد آئی تو چند کے خیال میں عماد وسیم کی حالیہ کارکردگی کے بعد اس سکواڈ میں جگہ بنتی تھی، پاکستان ٹیم ورلڈ کپ کا باقاعدہ آغاز پانچ اکتوبر سے حیدرآباد دکن سے کریگی، اس سے قبل گرین شرٹس دو وارم اپ میچ کھیلے گی جس میں سے پہلا میچ 29 ستمبر کو نیوزی لینڈ اور دوسرا تین اکتوبر کو آسٹریلیا کیخلاف ہوگا۔

Back to top button