سوشل میڈیا پر حکومت مخالف مواد چلانے پر پابندی لگ گئی

پاکستان کے مین سٹریم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو سخت ترین پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑنے کے بعد اب کپتان حکومت نے سوشل میڈیا کو قابو کرنے کے سٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم رولز 2020 میں ترامیم کر کے نئے قوانین نافذ کردیے ہیں جن کے تحت سوشل میڈیا سائٹس پر کسی بھی طرح کے حکومت مخالف مواد کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی ہے جب کہ کسی حکومتی شخصیت کی نقل اتارنے جیسے مواد کو بھی شائع یا نشر نہیں کیا جا سکے گا۔ تاہم نئے قوانین نافذ کرتے وقت حکومت مخالف مواد سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ ایسے مواد کو کس طرح سے جانچا جائے گا؟
نئے قوانین میں بتایا گیا ہے کہ انکے نفاذ کے تین ماہ کے اندر فیس بک، ٹوئٹر، ٹک ٹاک، یو ٹیوب اور گوگل سمیت دیگر کمپنیاں اپنے نمائندے پاکستان میں تعینات کریں گی جب کہ آئندہ 9 ماہ کے دوران وہ مقامی دفاتر کھولنے کی پابند ہوں گی۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا کمپنیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قوانین نافذ ہونے کے 18 ماہ کے اندر ڈیٹا سرور کی مقامی طور پر تشکیل دیں گی اور ساتھ ہی وہ صارفین کو آسان زبان میں سوشل میڈیا کے ضوابط بھی سمجھائیں گی.
وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے سٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم رولز 2020 میں 100 سے زائد تنظیموں، انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والے اداروں اور شخصیات کی جانب سے تنقید کے بعد ترامیم کرکے نئے ضوابط جاری کیے ہیں۔ وفاقی حکومت نے نئے قوانین کو ریموول اینڈ بلاکنگ ان لا فل آن لائن کنٹینٹ 2020 کا نام دیا ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن کی جانب سے 16 اکتوبر کو جاری کیے گئے نوٹی فکیشن کے مطابق نئے قوانین کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے سیکشن 37 کے تحت منظور کرکے نافذ کردیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق نئے قوانین فوری نافذ العمل ہوں گے اور ان پر عمل درآمد کروانے کے لیے حکومت نے اقدامات بھی شروع کردیے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ضوابط کے مطابق سوشل میڈیا سائٹس پر ہر طرح کے فحش اور نازیبا مواد کی اشاعت تا تشہیر پر پابندی ہوگی جب کہ غلط معلومات کے شیئر کرنے پر بھی پابندی لاگو ہوگی۔
نئے سوشل میڈیا قوانین کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کی سلامتی، وقار اور دفاع کے خلاف ہر طرح کا مواد ہٹانے کی پابندی ہوں گی۔ قوائد میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا سائٹس پر کسی طرح کے حکومت مخالف مواد کی اشاعت پر پابندی ہوگی جب کہ کسی بھی شخصیت کی نقل اتارنے جیسے مواد کو بھی شائع یا نشر نہیں کیا جا سکے گا۔ نئے قوائد کے مطابق مذہبی منافرت اور توہین مذہب، توہین رسالت سے متعلق ہر قسم کے مواد پر پابندی ہوگی، ساتھ ہی پاکستان کے ثقافتی و اخلاقی رجحانات کے خلاف مواد پر بھی پابندی ہوگی۔ نئے قوانین میں بتایا گیا ہے کہ ہر طرح کے تشدد، دہشت گردی اور استحصال پر مبنی مواد پر بھی پابندی ہوگی جب کہ بچوں کو متاثر کرنے والے مواد کو بھی شائع یا نشر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
نئے قوانین میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی طرح کے دہشت گردی کے مواد کو براہ راست نہیں دکھایا جائے گا اور ساتھ ہی کسی طرح کے فحش مواد کو بھی براہ راست نشر نہیں کیا جاسکے گا۔ اس سے قبل حکومت پاکستان نے رواں برس فروری میں سٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم رولز 2020 نامی قوانین متعارف کرائے تھے، جن پر ملکی و غیر ملکی انٹرنیٹ حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے سخت تنقید کی تھی۔ ملکی و غیر ملکی اداروں اور اہم شخصیات کی جانب سے تنقید کے بعد حکومت نے مذکورہ قوانین کو واپس لے کر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نئے ضوابط نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم پاکستان کی بڑا سوشل میڈیا کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ ان قوانین کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ حکومت نے سٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم رولز 2020 کو مارچ میں معطل کرکے نئے قوانین کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز کیا تھا۔
نئے قوانین کے تحت سوشل میڈیا کمپنیاں کسی تفتیشی ادارے کی جانب سے کوئی معلومات یا ڈیٹا مانگنے پر فراہم کرنے کی پابند ہوں گی اور کوئی معلومات مہیا نہ کرنے کی صورت میں ان پر 50 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد ہوگا۔ ان قواعد و ضوابط کے تحت اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تحریری یا الیکٹرانک طریقے سے ’غیر قانونی مواد‘ کی نشاندہی کی جائے گی تو وہ اسے 24 گھنٹے جبکہ ہنگامی صورتحال میں چھے گھنٹوں میں ہٹانے کے پابند ہوں گے۔
