مریم نواز، صفدر و دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف ایک اور مقدمہ

لاہور پولیس نے گوجرانوالہ میں پاکستان ڈیموکریٹک موومٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے کےلیے جانے کے دوران لاہور میں شہریوں کےلیے تکلیف کا باعث بننے، سڑکوں کو بلاک کرنے، غیر ضروری طور پر لاؤڈ اسپیکر اور مائیکرو فونز کا استعمال کرنے اور سکیورٹی اور کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر و دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
ضلع لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں انسپکٹر ہاؤس افسر (ایس ایچ او) زاہد نواز کی مدعیت میں درج ہونے والے اس مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 290، 291، 269، 270 جب کہ پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 16 اور پنجاب ساؤنڈ سسٹمز (ریگولیشنز) ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت درج کیا گیا۔ مذکورہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی ٓآر) میں مؤقف اپنایا گیا کہ شاہدرہ تھانے کے 3 اہلکاروں محمد عمران، عامر علی اور سجاد احمد جو بیگم کوٹ چوک پر تھے انہیں یہ اطلاع ملی کہ شاہدرہ چوک پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدین نے ملک ریاض کی زیر قیادت پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ جلسے میں جانے والے جماعت کے قافلوں اور ریلیوں کے استقبال کےلیے ٹرالر پر اسٹیج سجایا ہوا ہے، جس پر ملک ریاض، سمیع اللہ خان، اور کیپٹن (ر) صفدر اعوان 800 سے 900 کارکنان کے ہمراہ حکومت اور اداروں کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق جب اطلاع کے بعد موقع پر پہنچا تو سلیم بٹ اور علی پرویز ملک کی قیادت میں 80 سے 90 گاڑیاں بھی شاہدرہ چوک پر پہنچ گئی تھیں جب کہ اسی دوران مسلم لیگ (ن) کا مرکزی قافلہ نیازی چوک سے نیا راوی پل عبور کرکے شاہدرہ چوک پہنچ گیا تھا، تاہم اس قافلے کے آگے 2 بڑی کرینیں اور ایک بڑا ٹرک موجود تھا جس کی وجہ سے یہ چوک چاروں طرف سے آنے والی ٹریفک کےلیے مکمل طور پر بلاک ہوگیا اور عوام کےلیے تکلیف دہ صورت حال کا سامان کرنا پڑا۔ ایف آئی آر کے مطابق اس قافلے کی انتظامیہ کو کرینیں اور ٹرک ہٹانے کا کہا لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا جب کہ اسی چوک پر کیپٹن (ر) صفدر، ملک ریاض و دیگر قائدین نے کسی مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر مائیک اور لاؤڈ اسپیکر کا غیرقانونی استعمال کرتے کارکنان کو متحرک کرنے کےلیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کیں۔ تھانے میں درج مقدمے کے مطابق سکیورٹی ایجنسیز کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو جاری کردہ متعدد تھریٹ ایڈوائزیروں کے باوجود لیگی رہنماؤں نے اپنی پارٹی کے نائب صدر کو گاڑی کی چھت سے باہر آکر خطاب کرنے کو کہا جس پر مریم صفدر نے سکیورٹی ایس او پیز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوام کے سامنے خود کو لائیں اور خطاب کیا۔ اس ایف آئی آر کے مطابق اس قدم سے ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا جب کہ مریم صفدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کیا تم عمران خان کی جعلی حکومت کو گھر بھیجنے کےلیے تیار ہو، جس سے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان اور عوام میں اشتعال پیدا ہوا اور انہوں نے حکومت پاکستان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ شاہدرہ تھانے میں درج مقدمے کے مطابق ملک ریاض، سمیع اللہ خان، پرویز رشید، رانا اقبال، محمد زبیر، بلال یٰسین، کیپٹن (ر) صفدر و تقریباً 2200 کارکنان کے ہمراہ کورونا وائرس کے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شاہدرہ چوک پر موجود رہے جب کہ قائدین اور کارکنان میں سے کسی نے بھی ماسک اور سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا۔ اس کے علاوہ ایف آئی آر میں لکھا گیا کہ مختلف سڑکیں بھی بری طرح بلاک رہیں اور عوام کو گاڑیوں کی قطار در قطار کھڑا ہونا پڑا، لہٰذا مریم صفدر، کیپٹن (ر) صفدر، ملک ریاض، سمیع اللہ خان و دیگر قائدین اور ورکرز نے مجمع خلاف قانون کی شکل میں حکومت اور اداروں کے خلاف نعرے بازی کی اور عوام کی تکلیف کا باعث بنی۔ مزید یہ کہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرکے، سڑک بلاک کرکے، لاؤڈ اسپیکر، میگا فون کا بے کا استعمال کرکے جرم کا ارتکاب کیا۔ دوسری جانب کیپٹن (ر) صفدر نے مذکورہ ایف آئی آر میں بھی ضمانت لینے کا فیصلہ کرلیا۔
اس حوالے سے ان کے وکیل فرہاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کل سیشن کورٹ لاہور میں درخواست ضمانت دائر کریں گے جب کہ وہ وہاں پیش بھی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے ضمانت لینے سے متعلق ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وکیل کے مطابق کیپٹن (ر) صفدر تمام مقدمات کا سامنا کریں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل کراچی میں مزار قائد کے تقدس کو پامال کرنے پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں عدالت نے ان کی ضمانت منظور کرلی تھی۔
یاد رہے کہ اتوار 18 اکتوبر کو پی ڈی ایم کے دوسرے جلسے کے سلسلے میں مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کراچی پہنچے تھے۔
پولیس کی جانب سے یہ گرفتاری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد سامنے آئی تھی۔ مذکورہ مقدمہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 نامعلوم افراد کے خلاف قائداعظم مزار پروٹیکشن اینڈ مینٹیننس آرڈیننس 1971 کی دفعات 6، 8 اور 10 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506-بی کے تحت درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں مدعی نے دعویٰ کیا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر اور ان کے 200 ساتھیوں نے مزار قائد کا تقدس پامال، قبر کی بے حرمتی، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی۔
بعد ازاں کیپٹن (ر) صفدر کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں ایک لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض ان کی ضمانت منظور ہوئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button