سپریم کورٹ‌ بار کا نیب قانون میں‌ ترمیم کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

نومنتخب صدر سپریم کورٹ بار محمد احسن بھون نے قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) میں ترمیم اعلیٰ عدالتوں کے ججز کی تقرری کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیئے ہیں ۔

ایس سی بی اے کے احسن بھون کے زیر صدارت 24ویں ایگزیکٹو کمیٹی کے پہلے اجلاس میں سخت الفاظ میں قرارداد منظور کی گئی جس میں آئین کے آرٹیکل 175 اے کو ختم کرنے پر زور دیا گیا ، سپریم کورٹ کے ججز کے تقرر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کے ذریعے کی جاتی ہے۔

طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لی قرارداد میں بار کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد ایک نیا پروویژن داخل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کو بروئے کار لاتے ہوئے ’ماہر ججز‘ کی تقرری کو یقینی بنانا ہوگا۔

وکلا کنونشن میں جے سی پی پر ججز کی اجارہ داری کو کم کرنے اور برابری کی بنیاد پر دیگر اسٹیک ہولڈرز بالخصوص بار کی نمائندگی بڑھانے کے لیے 175 اے میں ترمیم کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں‌حکمران اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کے لیڈران کو مدعو کیا جائے گا۔

احسن بھون نے کہا کہ تاہم افسوس کے ساتھ حکمراں جماعت اپوزیشن پر خنجر چلانا چاہتی ہے جب کہ اپوزیشن ریاستی امور کو چلانے میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔

متفقہ طور پر ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا کہ تمام ریاستی ادارے قابل احترام اور باوقار ہیں ، اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے مجموعی بڑھتے ہوئے تاثر کو زائل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انصاف کی جلد فراہمی کے لیے کیس مینجمنٹ سسٹم کے جائزے کو بہتر بنائے تاکہ موجودہ قومی اور سماجی و سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کو یقینی بنایا جائے۔

Back to top button