مہنگائی کیخلاف قومی اسمبلی ، سینیٹ میں شور شرابہ

ملک میں موجودہ مہنگائی ، پیٹرولیم اور بجلی کی قیمتوں‌ میں‌ اضافہ کیے جانے پر اپوزیشن اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پھٹ پڑے ، دونوں ایوانوں میں شور شرابہ کیا گیا ، پیٹرول اور بجلی کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی پر سابق حکمرانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اپوزیشن رہنما یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کے اجلاس کے آغاز پر چیئرمین سینیٹ کو بتایا کہ اپوزیشن رہنما پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر بات کرنا چاہیں گے ۔ بعدازاں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ کھوکھر نے احتجاج کیا ۔شہریوں کی زندگی تباہ حالی کا شکار ہو چکی ہے ، اگر سب کچھ معمول کے مطابق رہے تو ہم اپنے رویے مناسب رکھیں گے۔

اپوزیشن سینیٹرز نے مہنگائی کے باعث عام شہری کی زندگی اجیرن ہونے پر وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لیا ، علاوہ ازیں ایوان ’چینی چور‘ اور ’آٹا چور‘ کے نعروں سے گونج اٹھا، اپوزیشن اراکین کی جانب سے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا گیا۔

پی پی رہنما اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ وزیر اعظم کو پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور گیس کے بحران کے بارے میں بات کرنے کا غلط مشورہ دیا گیا۔ جماعت اسلامی کےسینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ملک بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سونامی میں پھنس گیا۔گزشتہ تین سالوں میں گھی دگنی قیمت پر پہنچ کر 4 سو روپے فی کلو ہوگیا ہے جبکہ 10 کلو آٹے کی قیمت 268 روپے سے 600 روپے فی کلو ہوچکی ہے۔

مشتاق احمد نے کہا کہ عوام کی حالت زار سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ، ان کے لیے معیشت عملی طور پر آؤٹ سورس ہے ، وہ عوام کے بجائے آئی ایم ایف کے مطالبات پورے کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعظم کے ریلیف پیکج کو مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔جماعت اسلامی کے رہنما نے تبدیلی کا نعرہ لگانے والی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرانسیسی انقلاب سے سبق سیکھیں۔ یہ نا انصافی زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کی جا سکتی، اپوزیشن کو ملک بچانے کے لیے حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔

اپوزیشن کو جواب دیتے ہوئے سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی سطح پر اضافے کے باعث بڑھی ہیں ، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز میں نمایاں کمی کی ، ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے 120 ارب روپے کا ایک بڑا ریلیف پیکج دیا گیا گیا۔

علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کورم کی نشاندہی کی جس کے بعد اپوزیشن نے سینیٹ سے واک آوٹ کرنے سے قبل چئیرمین سینیٹ کی ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔

Back to top button