سپریم کورٹ بار کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کی شکست

لالہ لطیف آفریدی کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن میں بطور صدر کامیابی کو اسٹیبلشمنٹ کے ان حلقوں کی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے جو کہ آزاد عدلیہ کی علامت جسٹس قاضی فائز عیسی کو کان سے پکڑ کر سپریم کورٹ سے باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ جوان ہمت بزرگ وکیل لالہ آفریدی نے ہمیشہ جمہوری قوتوں کی حمایت میں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے متنازعہ کردار کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تمام جمہوری رہنماؤں کی طرف سے انہیں سپریم کورٹ بار کے اس الیکشن میں بھی حمایت حاصل تھی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن میں لطیف لالہ کے مخالف حامد خان دھڑے کو اسٹیبلشمنٹ کی کھلی حمایت حاصل تھی لیکن انہوں نے پھر بھی لمبے مارجن سے فتح حاصل کی۔
لاپتہ افراد کے مقدمے اور پی ٹی ایم رہنماوں پہ درج مختلف مقدمات کی پیروی کرنے والے لالہ نے الیکشن مین کامیابی کے فورا بعد ایک خطاب میں اسٹیبلشمنٹ کی پاکستانی سیاست میں بڑھتی ہوئی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھانے کے لیے رکھے جانے والے پاکستانی چوکیدار اپنی آئینی حدود میں واپس چلے جائیں۔ الطیف لالہ نے فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد کا آغاز 1965 میں فاطمہ جناح کی حمایت اور ایوب خان کی مخالفت سے کیا۔ عبدالطیف آفریدی جو حلقہ احباب میں لطیف لالہ کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر کے حمایت یافتہ گروپ ‘انڈپینڈنٹ لائرز فورم ‘ کے پلیت فسرم سے سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں حصہ لیا اور 1236 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے مخالف امیدوار عبدالستار جو حامد خان گروپ سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے انہوں نے 959 ووٹ حاصل کیے۔ لطیف لالہ اس سے پہلے پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سات مرتبہ صدر بھی رہ چکے ہیں اور پاکستا ن بار کونسل کے ایک دفعہ وائس چئیرمین بھی رہ چکے ہیں۔
لطیف لالہ نے قبائلی ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں 1943 میں آنکھ کھولی اور یہ وہ وقت تھا جب ابھی تقسیم ہند نہیں ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم پشاور کے ایک سکول سے حاصل کرنے کے انھوں نے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی تاہم وکالت کی شوق لے کر ماسٹرز کے بعد انھوں نے پشاور یونیورسٹی سے الحاق شدہ خیبر لا کالج میں داخلہ لیا۔ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم چلانے اور ایوب خان کے خلاف جلوس نکالنے کے الزام میں اپنی یونیورسٹی سے نکالنے کے واقعے کے بارے میں لطیف لالہ نے بتایا کہ جب ان کے شعبے کے چئیرمین ان کے حمایت میں آگئے تو انھوں نے وائس چانسلر کو کہا کہ لطیف کو بحال کیا جائے۔ تاہم وائس چانسلر نے دو سال کے بجائے ایک سال مجھے یونیورسٹی سے نکالنے کا فیصلہ دیا۔ لطیف لالہ نے بتایا ‘چیئرمین ایک سال نکالنے پر بھی راضی نہیں تھے تو وائس چانسلر نے نو مہینے کا حکم دیا، لیکن پھر بھی بات نہیں بنی تو آخرکار اس پر اکتفا کردیا گیا کہ ان کو دو مہینے کے لیے یونیورسٹی سے نکال دیا جائے۔ تاہم چیئر مین نے مجھے بتایا کہ ان دو مہینوں میں آپ شعبہ بھی آئیں گے اور کلاسز بھی لیں گے۔ ‘
’لطیف لالہ نے 1966 میں ایم اے اکنامکس کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں خیبر لا کالج سے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1969سے باقاعدہ وکالت کی پریکٹس شروع کی جو ابھی تک جاری ہے۔ انہوں نے اب تک مختلف ہائی پروفائل کیسز لڑے جن میں ایک کیس جو موجودہ دور میں چل رہا ہے وہ شکیل آفریدی کا ہے جسے اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں مدد دینے کے الزام میں پاکستانی حکومت نے گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماوں پر درج مختلف مقدمات میں بھی لطیف لالہ کیسز کی پیروی کرتے ہیں جبکہ درجنوں لاپتہ افراد کے مقدمات بھی لطیف لالہ لڑتے ہیں۔‘ لطیف لالہ زمانہ طالب علمی سے جمہوری حکومتوں اور نظام کے حمایتی رہے ہیں اور یہ وجہ تھی کہ مختلف مارشل لا کے ادوار میں ان کو گرفتار بھی کیا گیا۔ لطیف لالہ کو ضیاالحق کے مارشل لا دور میں 1979 میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ لالہ نے بتایا کہ ضیا کی حکومت میں ان کو پہلے 1979 میں جیل بھیج دیا گیا اور پورا سال جیل میں گزارا ۔ اس کے بعد 1981 میں ان کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ لطیف لالہ ضیا کے خلاف موومنٹ آف رسٹوریشن فار ڈیموکریسی میں پاکستان نیشل پارٹی کے پلیٹ فارم سے پیش پیش تھے اور ضیا کی مارشل لا حکومت کے خلاف مخلتف مظاہروں اور ریلیوں میں شرکت کرتے تھے۔ تب لطیف لالہ پی این پی کے صوبائی صدر کا عہدہ بھی سنبھال رہے تھے۔ لطیف لالہ نے بتایا کہ اس تحریک کے سرگرم کارکن ہونے کی وجہ سے ان کو 1983 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور ان کو ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقل کیا گیا۔ لالہ نے بتایا، ‘ جب مجھے دس بارہ دیگر ساتھیوں سمیت جیل بھیج دیا گیا تو جیل میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کے شدید اختلافات تھے۔ میں جب وہاں ان رہنماؤں سے ملا اور انکے اختلافات ختم کروائے تو جیل سپرنٹنڈنٹ نے مجھے راتوں رات ہری پور جیل منتقل کردیا۔ہری پور جیل میں تب جمعیت علما اسلام کے موجودہ سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھی موجود تھے جہاں ان دونوں نے چار مہینے ایک ساتھ جیل میں گزارے۔
لطیف لالہ نے بتایا کہ وکالت نے مجھے ایک فائدہ یہ دیا ہے کہ جیل میں مجھے کسی قسم ٹارچر کا نشانہ نہیں بنایاگیا اور ہری پور جیل سے بھی چار مہینے بعد اس وجہ سے رہا کیا گیا کہ پشاور بار کونسل کے انتخابات تھے تو بار کونسل نے حکومت کو درخواست کی کہ ان کے ساتھیوں کو انتخابات کی وجہ سے رہا کیا جائے۔ ضیا کے دور میں لطیف لالہ پاکستان نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر منتخب ہوگئے اور جب 1986 میں پی این پی کا عوامی نیشنل پارٹی میں انضمام ہوگیا تو آپ اس کے صوبائی صدر کے عہدے پر فائز ہوگئے اور 1997 میں اس وقت کے این اے 46 قبائلی حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ این اے پی میں تقریبا ایک دہائی گزارنے کے بعد آپ نے اے این پی چھوڑ کر نیشنل عوامی پارٹی جوائن کی۔ نیشنل عوامی پارٹی پشتو شاعر اور قوم پرست رہنما اجمل خٹک نے عوامی نیشنل پارٹی سے اختلاف پیدا ہونے کے بعد بنائی تھی اور 2002 انتخابات میں اسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے حصہ بھی لیا تھا تاہم بعد میں اجمل خٹک نے دوبارہ عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔
اسی طرح لطیف لالہ بھی 2003 میں دوبارہ عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کر گئے۔ لطیف لالہ اے این پی کے پہلے صوبائی صدر تھے اور بعد میں پارٹی کا مرکزی رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ تاہم 2019 کے اواخر میں پارٹی نے ان کی ممبرشپ کچھ اختلافات کی بنیاد پر معطل کی تھی لیکن بعد میں ان کی رکنیت بحال کردی گئی۔ شیر محمد خان کا تعق ضلع سوات سے ہیں اور سپریم کورٹ کے سینئر وکلا میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ چاہے وکالت کا میدان ہو یا سیاست کا، لطیف لالہ نے ہمیشہ حق اور سچ کی بات کی ہے۔ ان کے ایک قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ لطیف لالہ کے ہاتھ میں آپ جو لاٹھی دیکھتے ہیں یہ اصل میں جمہوریت کی خاطر دی ہوئی ان کی قربانیوں کی ایک نشانی ہے ۔ جب وکلا تحریک چل رہی تھی تو پشاور میں ایک مظاہرے کے دوران ان پر بکتر بند گاڑی چڑھائی گئی جس کی وجہ سے ان کے پاؤں میں فریکچر آیا تھا اور ان کو اب چلنے کے لیے لاٹھی کا سہارا چاہیے ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا عزم ان کی لاٹھی سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔
