سپریم کورٹ ثاقب نثار کی آڈیو پر سووموٹو کب لے گی؟

چیف جسٹس گلزار احمد کی جانب سے پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ کے مکمل طور پر غیر جانبدار ہونے اور کوئی دباؤ قبول نہ کرنے کے حالیہ دعوے کے بعد سوال کیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے ایک سابق چیف جسٹس پر انصاف کا قتل کرنے کے الزام کا نوٹس کیوں نہیں لے رہی؟ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر پہلا الزام گلگت بلتستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے لگایا تھا جبکہ دوسرا الزام ایک غیر ملکی ویب سائٹ پر ان کی آڈیو ٹیپ کی صورت میں سامنے آیا جس میں وہ اداروں کے دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نواز شریف اور مریم دونوں کو سزا دینا ہو گی۔ بعد ازاں احتساب عدالت نے دونوں کو قید اور جرمانے کی سزا سنا دی تھی۔ نواز لیگ کی جانب سے الزام لگایا جاتا ہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اور جج محمد بشیر نے اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر انکی قیادت کو سزائیں دیں۔
یاد رہے کہ ثاقب نثار کا آڈیو سکینڈل سامنے آنے سے پہلے لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے علی احمد کرد کی جانب سے سے عدلیہ پر لگائے جانے والے الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ مکمل طور پر آزاد ہے اور کسی میں جرات نہیں کہ اس پر دباؤ ڈال سکے۔ تاہم ان الزامات کو کئی روز گزر جانے کے بعد چیف جسٹس گلزار خاموش ہیں اور کوئی سوموٹو نوٹس نہیں لیا گیا۔ لہذا ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر عدلیہ واقعی آزاد ہے تو جسٹس رانا شمیم کے بیان حلفی اور ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ پر سوموٹو نوٹس لیا جائے اور ان کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے ورنہ ثابت ہو جائے گا کہ چیف جسٹس گلزار کا دعویٰ ایک کھوکھلے ڈائیلاگ سے زیادہ کچھ نہیں تھا اور حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کے ٹٹو کا کردار ادا کرتی ہے۔
ثاقب نثار کا آڈیو سکینڈل بریک کرنے والے احمد نورانی کی اہلیہ اور معروف خاتون صحافی عنبرین فاطمہ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ بدقسمتی سے ہماری عدلیہ کی یہی تاریخ ہے۔ مارشل لا ہو یا سویلین حکومتیں، اعلیٰ عدلیہ نے ہمیشہ سویلین اور آئینی حکومتوں کا تحفظ کرنے کی بجائے غیر آئینی اور آمرانہ طاقتوں کے سامنے سر جھکایا ہے۔ ابھی کل کی ہی بات ہے، موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد ایک تقریب میں ڈائس پر مکے مار کر قوم کو یقین دلا رہے تھے کہ عدلیہ آزاد ہے اور کسی میں جرات نہیں کہ انہیں خاص فیصلوں پر مجبور کر سکے۔ لیکن ان کے امتحان کا وقت زیادہ ہی جلدی آ گیا ہے۔ ان کے اپنے سابق چیف کی تصدیق شدہ آڈیو مارکیٹ میں آ چکی ہے جو ان کے بلند بانگ بیانات کی پوری پوری نفی کر رہی ہے۔
انکا کہنا ہے کہ منتخب وزیر اعظم اور ان کی بیٹی کے خلاف کیے گئے فیصلے داغ دار ہو چکے ہیں۔ عمران خان کو صادق و امین قرار دینے والے خود جھوٹے قرار پا چکے ہیں۔ لہذا یہی موقع ہے چیف جسٹس گلزار کے لیے کہ وہ سوموٹو لے کر فریقین کو طلب کریں، آڈیو کی مزید جانچ کا حکم دیں اور ثاقب نثار صاحب سے جواب طلبی کریں کہ انہوں نے کس بنیاد پر ایک منتخب وزیراعظم کا ساتھ دینے کی بجائے ایک ریاستی اہلکار کی بات ماننے کا فیصلہ کیا اور ایک آئینی حکومت کے خلاف سازش کا حصہ بنے۔ عنبرین فاطمہ یاد دلاتی ہیں کہ 2014 میں تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی نے دھرنے کے دوران پارٹی عہدے سے استعفیٰ دیا اور ایک دھماکے دار پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ تحریک انصاف کے دھرنے کا مقصد اور کچھ نہیں صرف نواز شریف کو حکومت سے بے دخل کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ میاں صاحب کو عدالت کے ذریعے نااہل کروا دیا جائے گا۔ اس وقت بیشتر مبصرین نے انہیں سنجیدہ نہیں لیا اور بعض نے انہیں عمران کو بدنام کرنے کی سازش بھی قرار دیا۔ تاہم حالات نے ان کے دعوے کو درست ثابت کیا۔
یاد رہے کہ پاناما کیس چلا کر نوازشریف کو اقامہ کیس میں نااہل کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ سے فارغ ہوگئے تھے۔ اس فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن نے الزام۔لگایا تھا کہ یہ فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے اور اسکے محرک فوج کے اعلیٰ عہدیدار تھے۔ یہ تائثر مقدمے کی کارروائی کے دوران بھی مضبوط ہوا جب احتساب عدالت میں ایک حاضر سروس کرنل کو بار بار دیکھا گیا جو پچھلے دروازے سے کیس سننے والے جج کو ملنے آیا کرتا تھا۔ پھر یہ بھی پتہ چل گیا کہ پانامہ کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کو بھائی لوگوں کی جانب سے واٹس ایپ کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ پھر احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آئی جس میں انہوں نے بتایا کہ کسطرح انہیں ایک ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کر کے میاں صاحب کے خلاف فیصلہ دینے پرمجبور کیا گیا۔
عنبرین فاطمہ کہتی ہیں اس دوران میاں صاحب اپنی جارحانہ تقریروں سے فوجی عہدیداروں کو نشانہ بنا تے رہے جس سے انہوں نے اپنے خلاف ہونے والے فیصلے کو لوگوں کے ذہنوں سے فراموش نہیں ہونے دیا۔ وقتاََ فوقتاَ غیر رسمی خبروں کے ذریعے مزید ثبوتوں کی آمد کے اشارے بھی ملتے رہے لیکن کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکا کہ نئے ثبوت کیا ہوں گے۔ بات تب کھلی جب گلگت کے سابق چیف جسٹس رانا محمد شمیم نے ایک بیان حلفی میں جسٹس ثاقب نثار کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔ لیکن تازہ دھماکا سینئر تحقیقاتی صحافی احمد نورانی نے جسٹس ثاقب نثار کی ایک آڈیو ٹیپ جاری کرکے کیا ہے۔
شوکت ترین کے سینیٹر بننے کی راہ میں رکاوٹ ختم ہوگئی
عنبرین فاطمہ کہتی ہیں کہ اد آڈیو میں ثاقب نثار کی گفتگو پاکستانی عدلیہ کی افسوسناک تاریخ کا ثبوت ہے جس میں ایک جج اپنے اختیار ایسے لوگوں کے سامنے سرنڈر کر دیتا ہے جن کی حیثیت سیکرٹری دفاع کے ماتحت ایک عام سرکاری ملازم کی ہے مگر وہ کبھی منتخب وزیراعظم کوعدالت کے ذریعے قتل کروا کر اور کبھی کسی کو جلاوطن کروا کر، کبھی بلیک میلنگ سے اور کبھی لالچ دے کر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں۔ ثاقب نثار چاہتے تو منتخب وزیراعظم کو ناحق سزا دلوانے کی فرمائش کرنے والے اپنے ’’دوستوں‘‘ کو بحیثیت چیف جسٹس طلب کر کے انہیں حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں گرفتار بھی کروا سکتے تھے لیکن انہوں نے ان کی تابعداری کرنا مناسب سمجھا کیونکہ ہماری عدلیہ کی یہی تاریخ ہے۔ مارشل لا ہو چاہے سویلین حکومتیں، اعلیٰ عدلیہ نے ہمیشہ سویلین اور آئینی حکومتوں کا تحفظ کرنے کی بجائے غیر آئینی اور آمرانہ طاقتوں کے سامنے سر جھکایا ہے۔
