سپریم کورٹ ججز کی جاسوسی پر جے آئی ٹی تشکیل دے

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ججز کی جاسوسی ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس پر سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی بنانی چاہیے۔ تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب سے یہ وبا آئی ہے پی ٹی آئی کی حکومت نے ہر متنازع مسئلہ چھیڑا ہے، پولرائزیشن کے ماحول میں کمی نہیں کی بلکہ اس میں اضافہ کیا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جنگ یا قومی آفت کی صورتحال میں جو اتحاد اور اتفاق رائے ہونی چاہیے جو خود بخودہوجاتی ہے اس میں بھی حکومت وقت ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا، اسے ساری سیاسی جماعتوں نے مسترد کیا اور اسے سیاسی طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا یہ وقت تھا کہ تاریخی چیلنجز کا مل کر سامنا کیا جاتا، لیکن پی ٹی آئی کا بجٹ عوام کو سپورٹ نہیں دے رہا، فلاح بہبود کے لیے انہوں نے زیادہ کے بجائے کم پیسا رکھا ہے، اس وقت غریبوں کے بجائے ورکنگ کلاس اور سب سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے، لیکن حکومت نے بجٹ میں نہ ریلیف، نہ معیشت نہ صحت اور نہ ہی عوام کو سپورٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وفاقی بجٹ کو ساری سیاسی جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ انٹرویو اور پریس کانفرنسز کے دوران سیاسی بات نہیں کرتا تھا، اس کے جواب میں وزیر اعظم اور ان کے ترجمانوں نے سیاست کی، اس کے جواب میں سندھ حکومت، ڈاکٹرز اور نرسز پر بیان بازی کی گئی، عوام کا پیسہ دوسری جگہ خرچ ہورہا ہے،عوام کی صحت پرنہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اپنی روایت تبدیل کرے، ہم چاہتے ہیں کہ آئینی فورم پر مسائل حل ہوں، کئی بار این ایف سی کا مسئلہ اٹھانے پر بھی جواب نہیں دیا گیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پی ایف سی کو تحفظ ملے اور پورا این ایف سی ایوارڈ دیا جائے، جب پورا حصہ نہیں ملے گا تو ہر ضلع کو کیسے اس کا حق ملےگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ این ایف سی ایوارڈ، اٹھارویں ترمیم پر باہر نکلے تو حکومت ان کوسنبھال نہیں پائے گی، اگر لوگ لاپتا افراد، ٹارگٹ کلنگ اور معاشی صورت حال پرگھروں سے باہر نکلے تو حکومت ان کو بھی سنبھال نہیں پائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم نے کورونا کے معاملے پرسیاست کی جب کہ این ایف سی ایوارڈ کا نوٹی فکیشن غیرقانونی ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس پیسہ ناکافی ہے، حکومت ان اسپتالوں کو کیسے سنبھالے گی، پی ٹی آئی حکومت کو چینلج کرتا ہوں کہ این آئی سی وی ڈی کے مقابلے کا ایک اسپتال دکھائیں، این آئی سی وی ڈی پوری دنیا میں سب سے زیادہ دل کے مفت آپریشن کرتا ہے، انسانیت کی خاطر ان کو اس طرح کا حملہ اس وقت نہیں کرنا چاہے تھا، اگر این آئی سی وی ڈی طرزکا ایک بھی اسپتال دکھا دیا تو تینوں اسپتال آپ کے حوالے کر دیں گے۔وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے ہیں، وہ 1973کےآئین کے خلاف بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم پر وزیراعظم نے کیا باتیں کیں، وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ سندھ کو آمر قرار دیا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہمیں امید تھی یہ بجٹ وبا سے متعلق ہوگا اور ایسا بجٹ ہوتا تو ساری سیاسی جماعتیں اس سے تعاون کرتیں جیسا کہ جنگ میں تمام سیاسی جماعتیں تعاون کرتی ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ جو بجٹ پیش کیا گیا اس سے لگتا ہے کہ کورونا پاکستان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں، پاکستان کے عوام کو اس سے کوئی خاص خطرہ نہیں اور بجٹ میں اس وبا کا مقابلہ کرنے، عوام کی صحت اور زندگی بچانے پر وسائل خرچ ہونے، ان کی معاشی صورتحال کو تحفظ دینے کی ترجیحات نظر نہیں آئیں۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ٹڈی دل کے حملے گزشتہ 25 برس میں سب سے بڑا حملہ ہیں، جس کے بارے میں پیپلزپارٹی اور حکومت سندھ، وفاقی حکومت سے اپیل کررہی ہے،اس مسئلے کو بھی نظر انداز کیا گیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ نہ ٹڈی دل کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ ہی کسان کو ریلیف پہنچانے کے لیے اقدامات کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ ہر صوبائی حکومت اپنے طور پر ٹڈی دل کا مقابلہ کرے اورہر صوبائی حکومت ایسا کررہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ایک عالمی وبا ہے، ہم امید کررہے تھے کہ بجٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایک صحت پیکج، کووڈ پیکج دیا جاتا تاکہ ان کے محکمہ صحت کو سپورٹ ملتی جس سے ان کی ٹیسٹ اور علاج کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری ہیلتھ کیئر کی صلاحیت، ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اس تیزی سے اضافہ نہیں کرپارہے تھے جس تیزی سے یہ وبا پھیل رہی تھی لیکن وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں سے تعاون نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی میں صحت کے لیے صرف نام کا 70 ارب روپے کا بجٹ رکھا اور کہتے ہیں کہ اسے کووڈ کے لیے مختص کیا گیا ہے لیکن اس کا جائزہ لیں تو وہ کورونا کے لیے، صحت کے نظام کے لیے نہیں بلکہ ایم این ایزاورایم پی ایز کے الیکشنز کے فنڈز ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ 70 ارب روپے جو کورونا کے لیے اور صحت کی سہولیات میں اضافے، ڈاکٹرز اور نرسز کی آسانی، عوام کی صحت و زندگی بچانے یا ریلیف کے لیے استعمال ہونے تھے وہ پیسہ ان کے ایم این ایز کے حلقوں کی سڑک بنانے، گٹر لگانے، ترقیاتی منصوبوں میں لگایا گیا جس کی ہم نے قومی اسمبلی میں بھی مذمت کی اور اب بھی کرتے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وفاقی حکومت کو پانی کے منصوبے پر خرچ کرنا چاہیے، روزگار دلوانے کے لیے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے پیسہ رکھنا چاہیے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، وبا آنے کے بعد ہم نے کہا کہ صحت کے نظام کی سپورٹ کے لیے پیسہ مختص کریں لیکن صحت کے نظام کے بجائے ترقیاتی منصوبے بنانے شروع کردیے ہیں جو غیر ذمہ دارانہ اور سیاسی اپروچ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب غیر آئینی اقدامات کیے جاتے ہیں، اس کی تشکیل ہی غیر آئینی ہو تو نوٹی فکیشن بھی غیر آئینی ہوگا اور پی ٹی آئی حکومت ان غیرقانونی چیزوں کی بار بار نشاندہی کے باوجود ہمیں جواب نہیں دیتی تو ہم بھی مجبور ہوجائیں گے اور اس مسئلے کو عدالت میں لے جانا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی شہباز شریف صحتیاب ہوتے ہیں تو بطور اپوزیشن لیڈر وہ آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے جس میں این ایف سی کا معاملہ زیر غور آنے کے بعد اپوزیشن کا موقف سامنے آئے گا۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس وقت صوبائی سطح پر ملٹی پارٹی کانفرنسز منعقد کی ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دینے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اس حوالے سے گزشتہ روز متحدہ اپوزیشن کا جو مشترکہ فیصلہ آیا تھا وہ تفصیلی تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی سمجھتی ہے اور ہمارا موقف رہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن موجود ہے، معاشرے کے ہر حصے میں موجود ہے لیکن کرپشن کے خاتمے کے لیے جو مہم شروع کی جاتی ہے ان کا ایک الگ مقصد ہوتا ہے ان دونوں چیزوں کو سنبھالنا پڑے گا۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہمیں کرپشن کا مقابلہ کرنا ہوگا نہ صرف بیوروکریسی، سیاست اور عدلیہ میں بھی کرپشن کے مسائل ہوں گے انہیں ایک جمہوری اور شفاف طریقے سے حل کرنا ہوگا لیکن ساتھ ساتھ وکٹمائزیشن، کیسز کا استعمال کرکے دوسروں پر دباؤ ڈالنے کا طریقہ جب تک جاری رہے گا تب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں کرسکتے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ میں سپریم کورٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ اس مسئلے کو اٹھائے، انتقام کے لیے بدنیتی سے، کرپشن کے دوسرے کیسز بناتے ہیں سیاستدان، ججز یا سول سوسائٹی کے لیے بنائے جانتے ہیں انہیں ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر جج پر ریفرنس بن سکتا ہے تو پھر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جو معلومات لائے اس پر جے آئی ٹی بنے اور ججز کی جاسوسی ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس پر سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی بنانی چاہیے۔
