فروغ نسیم ہمیشہ ملک کے غداروں کا ساتھ کیوں دیتے ہیں؟


جنرل ضیا کے مشیر خاص شریف الدین پیرزادہ کی طرح عمران خان کو اپنے آئینی اور قانونی مشوروں کے ذریعے نت نئے بحرانوں میں دھکیلنے والے فروغ نسیم کو سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں ہزیمت کا سامنا کرنے کے باوجود طاقتور حلقوں نے دوبارہ وفاقی کابینہ کا حصہ بنانے کی سفارش کر دی ہے۔ تاہم باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ وزیراعظم عمران خان فروغ نسیم کو دوبارہ کابینہ کا حصہ بنانے پر گو مگو کا شکار ہیں۔
ماضی میں جنرل مشرف اور الطاف حسین کے ساتھ بطور وکیل وابستہ رہنے والے فروغ نسیم وزیر قانون بننے کے بعد سے مسلسل حکومتی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ماضی میں وہ جس الطاف بھائی کے ساتھ وابستہ رہے اسے ریاست نے غدار قرار دیا جبکہ جس جرنیل یعنی مشرف کے وہ ساتھی اور وکیل رہے اس کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے غدار قرار دیا۔ یعنی فروغ نسیم ہمیشہ سے غداران وطن کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ سچ تو یہ یے کہ فروغ نسیم ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ رہے ہیں اور ان شخصیات کی وکالت کو اپنا طرہ امتیاز جانا ہے جن کو ریاست پاکستان اور ملک کی اعلی ترین عدالت نے غدار قرار دیا۔
ماضی میں جب الطاف حسین کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی تب فروغ نسیم ان کی وکالت کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے۔ سابق ڈکٹیٹرمشرف کے خلاف کیس میں یہ مشرف کے وکیل تھے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کیس میں موصوف وزارت سے استعفی دیکر جنرل باجوہ کے وکیل بن گئے اور بعد ازاں آزاد عدلیہ کی علامت قرار دئیے جانے والے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس میں بھی حکومت کے وکیل بن کر پیش ہوئے اور منہ کی کھائی۔
قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فروغ نسیم کا وزارت سے استعفی دیکر اس حکومت کی وکالت کرنا بتاتا ہے کہ مدعی کون ہے اور فروغ نسیم کس کوٹے میں وزیر بنا ہوا تھا۔ تاہم اب اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے تمام قانونی محاذوں پر مسلسل ناکامی کا سامنا کرنے والے فروغ نسیم سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم جیسے نااہل اور اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ شخص کو کپتان سرکار میں ہی وزیر قانون بنایا جاسکتا ہے کیونکہ وہ بھی کپتان کی طرح ہی ہر کیس میں ناکام ہوکر بھی شرمندہ نہیں ہوتے۔ ویسے بھی چیف آف آرمی سٹاف کی ایکسٹینشن کیس کے بعد قاضی فائز کیس میں بھی ثابت ہو گیا کہ فروغ نسیم کو قانون کی کتنی سمجھ ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم یقیناً ایک قابل وکیل ہیں۔ ایک ذہین و زیرک قانون دان مگر ان کا سیاسی کیریئر صرف ان لوگوں کی پشت پناہی اور ہمراہی میں گزرا ہے جو پاکستان کی کسی نہ کسی حوالے سے تباہی و بربادی کے ذمے دار رہے ہیں۔ الطاف حسین جیسے ملک دشمن شخص کے ساتھ ان کا تعلق آج بھی اسی مضبوط ڈوری میں بندھا ہوا ہے جس سے 22 اگست کی پاکستان مخالف تقریر سے پہلے بندھا ہوا تھا۔ فروغ نسیم آج بھی الطاف حسین کے خلاف لندن میں دائرمنی لانڈرنگ سمیت مختلف کیسز میں اس کی قانونی معاملات میں معاونت کرتے ہیں۔ وہ آئین شکن، سنگین غداری کے ملزم پرویز مشرف کے وکیل بن کر اس کا کیس لڑتے رہے ہیں جسے بعد میں ایک خصوصی عدالت نے پاکستان کا غدار قرار دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button