ماضی میں ریفرنس خارج ہونے پر مشرف کی چھٹی ہوگئی تھی


جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس خارج کرنے سے پہلے سپریم جوڈیشل کونسل نے جولائی 2007 میں جنرل مشرف کا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف دائر کردہ ریفرنس بھی خارج کر دیا تھا جس کے کچھ مہینوں بعد ہی آمر کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور پارلیمینٹ کے ہاتھوں امپیچمینٹ سے بچنے کے لیے صدارت سے استعفی دینا پڑ گیا تھا۔
ایسا 13 سالوں میں دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک اعلیٰ جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ ریفرنس صدر عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کی سفارش پر دائر کیا تھا اور اس کے پیچھے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ تھی جو نہیں چاہتی کہ جسٹس فائز عیسی سپریم کورٹ کا حصہ رہیں اور 2023 میں اس کے چیف جسٹس بن جائیں۔
اس سے قبل 20 جولائی 2007 کو جسٹس خلیل الرحمان رمدے کی سربراہی میں 14 رکنی بنچ نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس کو خارج کردیا تھا۔ افتخار چوہدری کو اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے معطل کردیا تھا اور ان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا لیکن عدالت عظمیٰ نے چیف جسٹس کو بحال کرتے ہوئے فوجی آمر کو ایک بہت بڑا دھچکا لگایا تھا۔ دونوں ریفرنسزز کے ردعمل میں ناصرف متاثرہ جج بلکہ تمام بار ایسوسی ایشنز نے بھی اس اقدام کو متنازع قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں پٹیشنز دائر کیں اور سازگار فیصلے حاصل کئے۔ تاہم جنرل مشرف کی جانب سے افتخار چودھری کو معطل کرنے کے بعد صدارتی ریفرنس دائر کرنا انہیں الٹا پڑ گیا اور ملک بھر میں وکلاء نے ایک احتجاجی تحریک شروع کردی جس کی قیادت چوہدری اعتزاز احسن نے کی۔ اس وکلاء تحریک کے بڑے رہنماؤں میں سے افتخار چوہدری کے وکیل منیر اے ملک نے اب جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں انکی نمائندگی کی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل کورٹ بنچ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں ان کے عہدے پر متفقہ طور پر بحال کرتے ہوئے ریفرنس کو اکثریتی فیصلے کے تحت کالعدم قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے جسٹس فائز عیسی کے خلاف دائر ریفرنس بھی متفقہ طور پر مسترد کیا ہے۔
جنرل مشرف کے صدارتی ریفرنس کو مسترد کرنے والے بینچ کی صدارت جسٹس خلیل رمدے کر رہے تھے جبکہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کو مسترد کرنے والے بینچ کی صدارت جسٹس عمر عطا بندیال نے کی۔ تاہم موجودہ بینچ کا فیصلہ اتنا دلیرانہ نہیں ہے جتنا مشرف دور میں دیا گیا تھا کیونکہ یہ فیصلہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ایف بی آر کو جسٹس عیسیٰ کے خاندان کو ٹیکس کے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی ہے جس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرے گی۔ یاد رہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے کیس کی سماعت کے دوران نو مرتبہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہوئے جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسی بھی ایک مرتبہ اپنے ساتھی ججوں کے سامنے پیش ہوئے۔
افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس مسترد ہونے کے بعد ملک کی تمام بڑی جماعتوں نے جنرل مشرف کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے تحریک چلائی اور پھر 2008 کے الیکشن کے بعد آصف زرداری نے نے آمر وقت کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا جس سے بچنے کے لیے مشرف کو استعفی دینا پڑ گیا اب جسٹس فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج ہونے کے بعد متحدہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی صدر علوی اور وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button