سپریم کورٹ: خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی قرار دینے کیخلاف اپیل منظور

سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی قرار دینے کے لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات سمیت مقرر کرنے کی ہدایت کردی ہے. خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کے الزام میں سزائے موت دی تھی
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے کیخلاف اپیل پراعتراضات عائد کئے تھے، تاہم چیف جسٹس نے اپیل اعتراضات سمیت عدالت میں مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے ، سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کے الزام میں قائم خصوصی عدالت کو غیر قانونی قرار دینے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف توفیق آصف کی اپیل پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کئے تھے لیکن چیف جسٹس نے اپیل اعتراضات سمیت عدالت میں سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے.
رجسٹرار آفس کے اعتراضات میں کہا گیا کہ درخواست گزارتوفیق آصف ہائیکورٹ میں مقدمہ کا فریق نہیں جبکہ درخواست گزار مقدمہ کا متاثرہ فریق بھی نہیں اس لئے انہیں فیصلے کیخلاف چارہ جوئی کا حق حاصل نہیں ،رجسٹرار آفس کی طرف سے تکنیکی اعتراض میں کہا گیاکہ اپیل کے ساتھ سرٹیفکیٹ قواعد کے مطابق منسلک نہیں ،واضح رہے سپیشل کورٹ نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کے الزام میں سزائے موت دی تھی لیکن لاہور ہائیکورٹ نے سزا کیخلاف ایک آئینی پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے سپیشل کورٹ کی تشکیل کو غیر آئینی قراردے دیا تھا.لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کالعدم قرار دیتے ہوئے پرویز مشرف کو بری کر دیا تھا
