سپریم کورٹ کے انکار کے بعد عمران خان دوہری مشکل میں

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے اپنے اگلے مجوزہ لانگ مارچ کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد عمران خان دوہری مشکل کا شکار ہو چکے ہیں چونکہ ان کے اعلان کردہ چھ دن کی ڈیڈ لائن بھی ختم ہو چکی ہے اور حکومت نے فوری الیکشن کا مطالبہ بھی مسترد کر دیا ہے۔ عمران کا خیال تھا کہ ان کے 25 مئی کو ہونے والے لانگ مارچ کی ناکامی کی بنیادی وجہ ریاستی طاقت کا استعمال تھی جس وجہ سے انہوں نے اگلے لانگ مارچ کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی۔ لیکن اب ان کی درخواست رد کیے جانے کے بعد مشکل یہ ہے کہ اگر وہ لانگ مارچ کرتے ہیں تو رانا ثناء اللہ خان نے پہلے ہی بھر پور کریک ڈاؤن کا اعلان کر رکھا ہے لہذا اس کی کامیابی کا امکان مشکل ہے لیکن اگر عمران اپنے اعلان سے پیچھے ہٹتے ہیں تو ان کی سیاسی ساکھ کو سخت دھچکا پہنچے گا۔ ایسے میں لانگ مارچ کا اعلان عمران کے لئے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔
یاد رہے کہ عمران خود بھی گرفتاری کے خوف سے پچھلے دو ہفتوں سے اسلام آباد چھوڑ کر پشاور میں مقیم ہیں اور اب انہوں نے حفاظتی ضمانت بھی حاصل کرلی ہے۔اپنے 25 مئی کے لانگ مارچ کی ناکامی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے عمران نے کہا تھا کہ اسکی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے کیا جانے والا بدترین کریک ڈاؤن کا جس سے لوگ خوفزدہ ہوگئے اور باہر نہیں نکلے لہذا اب میں نے سپریم کورٹ سے اگلے لانگ مارچ کے لیے تحفظ مانگ لیا ہے۔ تاہم اس دوران سپریم کورٹ کے ججز کو ناقدین نے عمرانڈوز قرار دینا شروع کر دیا کیونکہ عدالت کی اجازت کے بعد کپتان کے یوتھیوں نے 25 اپریل کو اسلام آباد میں داخل ہو کر جو تباہی مچائی اس پر سپریم کورٹ نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شدید ترین عوامی تنقید کا دباؤ لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے ایک مرتبہ پھر عمران کے لانگ مارچ کو تحفظ فراہم کرنے سے توبہ کرلی اور ان کی درخواست مسترد کر دی۔ لیکن چیف جسٹس عمر عطا بندیال اعت ان کے تین ساتھی ججوں نے حکومت کی جانب سے عمران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا معاملہ لٹکا دیا حالانکہ جسٹس یحیی آفریدی نے عمران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا اختلافی فیصلہ دیا ہے۔
ان حالات میں عمران خان ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں کیونکہ ایک طرف رانا ثنا اللہ اور ان کی پولیس فورس ڈنڈے اور آنسو گیس کے شیل لیے تیار کھڑی ہے اور دوسری جانب جون کا گرم ترین مہینہ شروع ہو چکا ہے اور تیسری جانب سپریم کورٹ نے مزید عمرانڈو پنجاب دکھانے سے انکار کر دیا ہے۔ موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے لیے سپریم کورٹ کی اجازت مانگ کر عمران نے ایک فاش غلطی کی کیونکہ اب جب عدالت نے ان کی درخواست مسترد کر دی ہے تو ان کے لانگ مارچ کا جواز بھی ختم ہوگیا ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں کبھی اپنے احتجاج اور جلسوں کے لئے سپریم کورٹ سے تحفظ نہیں مانگا کرتیں۔ یہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی جماعت نے اپنے لانگ مارچ کے لیے سپریم کورٹ سے تحفظ مانگا ہو اور اگر عدالت ایسا کرتی تو ملک میں ایک نئی روایت پڑ جانی تھی۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اگر کسی سیاسی جماعت نے کوئی احتجاج کرنا ہو یا جلوس نکالنا ہو تو وہ ہمیشہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے اجازت طلب کرتی ہے نہ کہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت سے۔ ایسے میں جب عمران خان نے سپریم کورٹ کو اس معاملے میں گھسیٹنے کی کوشش کی اور عدالت نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا تو ان کی پوزیشن نہایت کمزور ہو گئی ہے۔ اب اگر عمران لانگ مارچ کرتے ہیں تو اس کی ناکامی کا خدشہ ہے اور اگر نہیں کرتے تو ان کی ساکھ خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 2 جون کو تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواست واپس کر دی تھی جس میں اسلام آباد کی جانب مارچ کے دوران شرکت کرنے والوں کے لیے حکومتی کارروائی سے تحفظ کے بارے میں فیصلے کی استدعا کی گئی تھی۔
پی ٹی آئی نے عدالت سے وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کو اسلام آباد پر پارٹی کے دوسرے پرامن مارچ میں شرکت کرنے کا ارادہ رکھنے والے پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کو زبردستی یا دھمکی آمیز ہتھکنڈوں، تشدد یا رکاوٹیں پیدا کرنے سے روکنے کے لیے ہدایات مانگی تھیں۔ اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے رجسٹرار سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ عدالت پہلے ہی آئینی پٹیشن 19/2022 کے ذریعے تقریباً اسی طرح کے معاملے پر فیصلہ دے چکی ہے۔ اس درخواست میں سپریم کورٹ نے 25 مئی کو جب پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب اپنا پہلا مارچ کیا تھا تب اپنے فیصلے میں پارٹی کو اسلام آباد کے ایچ نائن اور جی نائن کے درمیان پشاور موڑ کے قریب احتجاجی ریلی نکالنے کی اجازت دی تھی اور حکومت کو مارچ کے سلسلے میں رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں نوٹ کیا تھا وزارت داخلہ سمیت حکومت کے اعلیٰ عہدیدار اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف طاقت کا بے جا یا غیر مناسب استعمال فوری طور پر بند کیا جائے۔ اپنے نوٹ میں رجسٹرار نے کہا کہ درخواست گزار نے اس ریلیف کے لیے قانون کے تحت دستیاب کسی اور مناسب فورم سے رابطہ نہیں کیا اور ایسا نہ کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ درخواست گزار نے پیراگراف نمبر 4، 5، 12 اور 14 میں ایک ناپسندیدہ معاملہ اٹھایا جو کہ درخواستوں کے لیے سپریم کورٹ کے قوانین کی تعمیل نہیں کرتا۔ ناپسندیدہ پیراگراف میں پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ عمران کو غیر قانونی طور پر پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ پارٹی نے مزید کہا کہ پاکستان کے لوگوں کو اس غیر قانونی طور پر قائم حکومت کے خلاف متحرک کرنے کے لیے درخواست گزار پورے ملک میں ریلیاں اور اجتماعات منعقد کر رہا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران احمد خان نیازی کو 10 اپریل کو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے غیر قانونی طور پر وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جس کے بعد پاکستانی عوام لاکھوں کی تعداد میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے بلا خوف خطر سڑکوں پر نکلے آئے تھے۔
تدرخواست پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی جس میں وزارت داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ہوم سیکرٹریز کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو حکم دے کہ وہ تحریک انصاف کو احتجاج کی اجازت دیں۔ مزید استدعا کی گئی تھی کہ احتجاج کے دوران کسی کارکن کو گرفتار نہ کیا جائے، احتجاج کے راستے میں رکاوٹیں حائل نہ کی جائیں، وفاقی اور پنجاب حکومت کو تشدد اور طاقت کے استعمال سے روکا جائے۔ تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے یہ درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد عمران دوہری مشکل کا شکار ہو چکے ہیں۔
