سپر سٹار فواد خان کس خطرناک بیماری کا شکار ہیں؟

فواد خان پاکستان ٹی وی ڈرامے اور فلم انڈسٹری کے جانے مانے اداکار ہیں، انہوں نے پاکستان سمیت بھارت میں بھی خوب نام کمایا، دنیا بھر میں ان کے لاکھوں چاہنے والے موجود ہیں جو ان کی اداکاری کو بے حد پسند کرتے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں یہ خبر گردش کررہی تھی کہ فواد خان ذیابیطس میں مبتلا ہیں تاہم انہوں نے خود باضابطہ طور پر اس بارے میں کھل کر بات کبھی نہیں کی۔

حال ہی میں اداکار نے یوٹیوب چینل فری اسٹائل مڈل ایسٹ کو ایک انٹرویو دیا جہاں فواد خان نے اپنے بچپن کے دور، اپنی بیماری اور اس سے جڑے دیگر پہلوؤں کے حوالے سے کھل کر اظہار کیا۔انہوں نے اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کراچی میں پیدا ہوا تھا، والد کی نوکری کی نوعیت ایسی تھی کہ ہم مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ شفٹ ہوتے رہتے تھے، اسی وجہ سے میں جب صرف 6 ماہ کا تھا تو ہم 2 سال یونان میں رہے، پھر دبئی اور پھر ریاض میں رہے اور گلف وار کے دوران کچھ وقت مانچسٹر میں گزارا، پھر جب ہم لاہور شفٹ ہوئے تو وہیں پر مستقل قیام کرنے کا ارادہ کیا۔ ’انہوں نے کہا کہ ’اسکول کے زمانے میں ہم نے میوزک بینڈ شروع کیا، اس وقت ہمارا بینڈ زیادہ مشہور نہیں تھا، کالج کے فرسٹ ائیر کے دوران میں نے اداکاری کرنا شروع کی۔ ’’اس وقت اداکاری صرف شوقیہ شروع کی تھی، چونکہ اس کام کا ماہانہ 12 ہزار معاوضہ مل رہا تھا تو میں سمجھتا تھا کہ میں اپنے اسکول میں سب سے امیر لڑکا ہوں۔

اداکار نے کہا کہ جب میں 17 سال کا تھا تو میرا جسم آٹو امیون رسپانس سے گزر رہا تھا، میرا نہیں خیال میں اس حالت کو صحیح طرح سے وضاحت کرسکتا ہوں شاید کوئی طبی ماہر ہی وضاحت دے سکتا ہے۔انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جب جسم میں انسولین بننا بند ہوجائے تو بلڈ شوگر لیول میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جسے ہم ذیابیطس کہتے ہیں۔’17 سال کی عمر میں ذیابیطس ٹائپ ون میں مبتلا ہوا، پہلے مجھے شدید بخار ہوا تھا جس کے بعد صرف 8 دنوں میں 10 کلو وزن کم ہوگیا، 17 سال کی عمر میں میرا وزن 65 کلو گرام تھا جو طبعیت خراب ہونے کے بعد 55 ہوگیا تھا۔

اداکار نے کہا کہ ’وزن کم ہونے کے بعد مجھے شدید پیاس لگتی تھی، جسے پولیوریا کہتے ہیں، اس حالت میں بار بار واش روم جاتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ میرا منہ ہر وقت خشک رہتا تھا، جسم میں پانی کی کمی ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے میں 6 سے 7 لیٹر پانی پیتا تھا تو مسلسل پیشاب آنے کی وجہ سے بار بار باتھ روم جانا پڑتا تھا۔‘فواد خان نے بتایا کہ میرا شوگر لیول اس وقت 600 تھا، پھر میں اسپتال گیا، وہاں ڈاکٹرز نے مجھے ری ہائیڈریٹ کیا اور مجھے انسولین کے انجیکشن لگائے گئے۔انہوں نے بتایا کہ صرف 17 سال کی عمر سے مجھے انسولین کے انجیکشن لگائے جاتے تھے، آج میں 41 سال کا ہوں۔

فواد خان نے بتایا کہ مجھے ذیابیطس میں مبتلا ہوئے 24 سال ہوگئے ہیں۔اداکار نے اس بیماری کے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اسکول کے زمانے میں بہت پھرتیلا تھا، کھیل سے متعلق ہر طرح کی سرگرمی مٰیں حصہ لیتا تھا، لیکن ذیابیطس کے بعد سب کچھ ’صفر‘ پر آگیا۔‘’کھیل میں میری دلچسپی اچانک مکمل طور پر ختم ہوگئی، مجھے شوق نہیں رہا، بہت تھکاوٹ ہوتی تھی، ذیابیطس کی تشخیص کے بعد پہلے 2 سے 3 ماہ کے دوران میں ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتا تھا، پھر میں نے اپنے ڈائٹ پلان پر توجہ دی’

فواد خان نے بتایاذیابیطس کی تشخیص کے بعد ابتدائی دنوں میں مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوتی تھی۔’ ایک روز راولپنڈی سے واپسی آنے کے دوران میں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا، وہ پہلا موقع تھا جب میں نے رونا شروع کردیا، اس وقت میں سوچ رہا تھا کہ ’یہ میرے ساتھ کیوں ہورہا ہے، لیکن دنیا میں اور بھی دکھ ہیں، اور بھی بیماریاں ہیں، اور اس سے بھی بُری بیماریاں ہیں۔

فواد خان کہتے ہیں اس بیماری کو میں نے اپنی بیساکھی نہیں بنایا، حالانکہ میری کچھ حدود ہیں، جب جسم میں شوگر لیول کم ہورہا ہوتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کوئی آپ کی روح کھینچ رہا ہے، کبھی کبھار میں فرش پر بھی گرجاتا تھا، سانس لینے میں بہت دشواری ہوتی تھی، پسینے آتے تھے۔’ایک وقت میں ایسی حالت بھی ہوئی جب میرا اپنی آنکھوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا تھا، میری آنکھیں چڑھ جاتی تھیں،۔‘انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مجھے کہتے تھے کہ میں اپنی بیماری کے بارے میں کسی کو نہ بتاؤں، میں سوال کرتا تھا کیوں نہیں بتاؤں ؟ تو لوگ کہتے تھے کہ ’اگر میں بتاؤں گا تو لوگ مجھے کم تر سمجھیں گے، لوگ سمجھیں گے کہ میں کوئی کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا لیکن میرے خیال سے میں نے اپنی زندگی میں بہت سارے کام کیے ہیں، مجھے اس بارے میں فخر ہے۔

اداکار کہتے ہیں کہ اگر آپ عزم رکھتے ہیں کہ آپ اپنی زندگی میں کچھ بننا چاہتے ہیں تو ذیابیطس اور کینسر آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک وقت میں اکیوٹ کڈنی ڈس آڈر ہوا تھا جس میں آپ کے گردے اچانک کام کرنا بند ہوجاتے ہیں، 7 دن تک اسپتال میں داخل رہا، اس وقت مجھے ڈرپ لگی، علاج ہوا تو اللہ کا شکر ہے کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوا، انہوں نے ہسنتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں گزارا ہوا وقت بہت بورنگ تھا۔

Back to top button