سکول ڈیسکس کی خریداری کا ‘متنازع’ کنٹریکٹ منسوخ

 سندھ کے سرکاری سکولوں کے لیے ڈیسکوں کی خریداری  کا 3 ارب روپے کے ٹینڈر  منسوخ کر دیا گیا ہے ۔  ٹینڈر  منسوخ کرنے کا فیصلہ  بےضابطگیوں کی نشاندہی کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی تجاویز پر کیا گیا۔

وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے  بتایا کہ ٹینڈر منسوخ کرنے کا نوٹیفکیشن پیر کے روز جاری کیا جائے گا ۔اب فرنیچر کی خریداری ڈویژنل سطح پر کی جائے گی۔واضح  رہے کہ یہ سکول بینچز کی خریداری کا تیسرا ٹینڈر تھا جو منسوخ کیا گیا۔

 سب سے  زیادہ قیمت پر سکول ڈیسکس کی خریداری کا معاملہ سب سے پہلے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے اٹھایا جسے سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ منظرِ عام پر لائے جن پر الزام لگایا گیا کہ صوبائی حکومت 29 ہزار روپے سے زائد میں ڈیسک خرید رہی ہے جو کہ مارکیٹ میں پانچ ہزار روپے میں دستیاب ہے۔

تنازع میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب سابق سعید غنی نے انکشاف کیا  کہ فرنیچر کی خریداری کی منظوری  وزیراعلیٰ سندھ نے دی تھی جن کے پاس وزارت تعلیم کا پورٹ فولیو تھا۔سابق صوبائی وزیر تعلیم نے بتایا  کہ سرکاری سکولوں کا فرنیچر آٹھ سالوں سے نہیں خریدا گیا تھا اور سال 2018 میں اس مقصد کے لیے مرکزی خریداری کمیٹی تشکیل دی گئی ۔صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے بتایا  کہ شیشم لکڑی کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور تخمینہ زائد قیمت پر اس لیے رکھا گیا تاکہ عمل درآمد کے دوران کسی بھی قسم کے مسائل سے بچا جا سکے۔

 کنٹریکٹ کے ایوارڈ میں بے ضابطگیوں کا پتہ لگانے کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے خریداری سے قبل اسکول ڈیسکس کی قیمتوں کا جائزہ لینے کی سفارش کی تھی۔

Back to top button