حکومت کا TTP دہشتگردوں کو محفوظ راستہ دینے سے انکار

تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے زیر حراست 20 دہشت گردوں نے بنوں میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں سے تفتیش کے دوران انہی کا اسلحہ چھین کر سی ٹی ڈی کے مرکزی تھانے کے عملے کو یرغمال بنا لیا ہے جن میں ایک میجر بھی شامل ہے۔ دہشت گردوں نے  یرغمالی میجر کے ساتھ ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بنوں سے افغانستان تک محفوظ طریقے سے پہنچانے کے لئے فضائی سہولت فراہم کی جائے ورنہ وہ یرغمال بنائے گئے سکیورٹی حکام کو ایک ایک کر کے قتل کر دیں گے۔ ڈی پی او بنوں ڈاکٹر اقبال کے مطابق دہشتگردوں کی فائرنگ اور ان سے مقابلے کے دوران 2 پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں جبکہ 2 پولیس اہلکار زخمی حالت میں جان بچانے میں کامیاب ہوگئے۔ ڈی پی او کے مطابق 20  زیر حراست دہشت گرد سی ٹی ڈی سیل میں موجود تھے جن سے تفتیش کی جارہی تھی۔ اس دوران یہ واقعہ پیش آیا تاہم کسی بھی دہشت گرد کو وہاں سے فرار ہونے نہیں دیا گیا۔ علاقے کو سیل کرکے سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے رکھا ہے ہیلی کاپٹر اور ایس ایس جی کے سپیشل کمانڈوز بھی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ طالبان دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی کے کتنے اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

ترجمان صوبائی حکومت بیرسٹر سیف کے مطابق سی ٹی ڈی پولیس اسٹیشن بنوں پر کسی نے حملہ نہیں کیا بلکہ وہاں زیر حراست دہشت گردوں نے سکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر قبضہ کر لیا ہے۔ محمد علی سیف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، کیونکہ حکومت دہشت گردوں کو محفوظ راستہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی عمارت پر دہشت گردوں کے قبضے کو 24 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر گیا ہے جب کہ مسلح ملزمان ہتھیار ڈالنے اور یرغمال افراد کو رہا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

بتایا گیا یے کہ خیبرپختونخوا پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے زیر انتظام چلائے جانے والے حراستی مرکز میں عسکریت پسند لاک اپ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ تحریک طالبان پاکستان نے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی، ایک بیان میں ٹی ٹی پی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہمارے لوگوں نے اپنے ویڈیو بیان میں محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا لیکن غلطی سے افغانستان کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے رات بھر سرکاری حکام سے بات چیت اور مذاکرات کیے اور ان سے کہا کہ وہ طالبان قیدیوں کو جنوبی یا شمالی وزیرستان منتقل کریں۔ لیکن انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ تاحال کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

اس وقت بنوں میں صورت حال کشیدہ ہے جبکہ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے کینٹ ایریا کو سیل کر دیا ہے اور مکینوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس کے علاوہ تقریباً 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی معطل ہے۔ بنوں کے ایک رہائشی نے بتایا کہ چھاؤنی کے علاقے میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے متضاد رپورٹیں شیئر کیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی کی عمارت پر باہر سے حملہ کیا۔ تاہم، بیرسٹر سیف نے ان خبروں کی تردید کی اور کہا تھا کہ حراست میں لیے گئے کچھ ’دہشت گردوں‘ نے سکیورٹی اہلکاروں سے ہتھیار چھیننے کی کوشش کی تھی۔

ایک ویڈیو کلپ بھی وائرل ہے جس میں مبینہ طور پر ایک عسکریت پسند نے ایک سکیورٹی اہلکار پر بندوق تان کر اسے پکڑ رکھا ہے۔مبینہ عسکریت پسندوں نے افغانستان جانے کے لیے محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ کیا اور مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج سے خبردار کیا، ایک اور مبینہ عسکریت پسند کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ان کی قید میں 8 سے 10 سکیورٹی اہلکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فدائین کے نام سے مشہور ان کے وہ 35 ساتھی جنہیں حراست میں لیا گیا تھا، وہ آزاد ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فضائی راستے سے ان کی افغانستان روانگی یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جیل توڑ دی ہے اور سیکیورٹی اہلکار ہماری قید میں ہیں اور اگر ہمیں محفوظ راستہ فراہم کیا گیا تو انہیں باحفاظت رہا کر دیا جائے گا۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پھر یرغمال سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کر دیا جائے گا۔

Back to top button