پرویز کی وارننگ رد، عمران کی پھر باجوہ پر کڑی تنقید

تحریک انصاف کے چیئرمین وسابق وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی وارننگ کو رد کرتے ہوئے ایک پھر جنرل باجوہ پر تنقید کرتے  ہوئے کہا ہے کہ جب ہم حکومت میں آئے تو ہمارا منشور تھا کہ سب کا احتساب ہو لیکن جنرل (ر) قمر باجوہ نے مجھے اور میری کابینہ کو کہا تھا کہ آپ احتساب کو چھوڑیں اور معیشت پر توجہ دیں، اس وقت جنرل (ر) باجوہ کے خلاف اس لیے بات نہیں کی تھی کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ مجھ پر بھی آرٹیکل 6 لگا دیں گے۔

لاہور میں غیر ملکی صحافیوں سے ملاقات میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ میرے خطاب کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے وہاں پر کوئی بات نہیں کی، چوہدری پرویز الہٰی کے ساتھ سابق آرمی چیف کے متعلق بات کرنے پر کچھ طے نہیں ہوا تھا۔چوہدری پرویز الہٰی نے اُس وقت نہیں کہا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے تھی، ہم جمعے کو اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے اور وزیر اعلیٰ پنجاب ہمارے ساتھ ہیں، انہوں نے میرے سامنے کوئی اختلاف والی بات نہیں کی

انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت تھی تو اس وقت جنرل (ر) باجوہ کے خلاف اس لیے بات نہیں کی تھی کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ مجھ پر بھی آرٹیکل 6 لگا دیں گے، جب ہم حکومت میں آئے تو ہمارا منشور تھا کہ سب کا احتساب ہو لیکن جنرل (ر) قمر باجوہ نے مجھے اور میری کابینہ کو کہا تھا کہ آپ احتساب کو چھوڑیں اور معیشت پر توجہ دیں، قومی احتساب بیورو (نیب)، سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے زیر اثر تھا جس کی وجہ سے میں کچھ نہیں کر سکا، میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ یہ میری ناکامی ہے۔

بی بی سی کے مطابق پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے بڑھنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت جانے سے 3 ماہ پہلے تک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے تھے لیکن پھر خارجہ پالیسی پر ہمارے اختلافات شروع ہوئے، جنرل (ر) قمر باجوہ تو بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کے حامی تھے لیکن بطور سیاست دان میری جماعت کا کشمیر کے حوالے سے ایک مؤقف تھا جس کی وجہ سے ہمارے دور میں زیادہ بات چیت نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے تب سے معیشت کا برا حال ہے، اس سب کا قصوروار ایک ہی شخص کو سمجھتا ہوں اور وہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ ہیں، ہمارے دور میں حکومت بہترین انداز میں چلائی جارہی تھی، آج تک سمجھ نہیں آیا کہ سب اچھا ہونے کے باوجود بھی ہماری حکومت کو نکال کر چوروں کو ہم پر کیوں مسلط کر دیا گیا، اس وقت ہمارا ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے، اور اس کا حل صرف جلد انتخابات ہیں، مجھے یہ خبر بھی مل رہی ہے کہ یہ لوگ (حکمراں اتحاد) الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر ایک سے ڈیڑھ سال تک مزید تاخیر سے الیکشن کروائے گا۔

یاد رہے کہ 18 دسمبر (گزشتہ روز) کو وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ عمران خان کو یہ بات کہی تھی کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ ہمارے محسن ہیں، آپ کے محسن ہیں، پی ٹی آئی کے محسن ہیں، خدا کا خوف کرو، ان کے خلاف نہ بولیں، جب ہم یہاں ڈھائی بجے ملے تھے، اس وقت بھی میں نے کہا تھا کہ جنرل (ر) باوجوہ کے خلاف بات نہیں کرنا، عمران خان نے مجھے ساتھ بٹھا کر جنرل (ر) باجوہ کو برا بھلا کہا، یہ بڑی زیادتی ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ یہ یاد رکھے، احسان فراموش نہ بنیں، جنرل (ر) قمر باجوہ کے احسان ہیں، سابق آرمی چیف ان کو اٹھا کر کہاں سے کہاں اوپر لے گئے، اور ہر چیز کی، اگر باہر سے فنڈز لانے تھے تو وہ (سابق آرمی چیف) خود جاتے رہے، سعودی بادشاہ اور ولی عہد سے ملاقات کی، وہ قطر سے پیسے لے کر آئے۔

چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ بیلجیم میں بیٹھ کر انہوں نے آئی ایم ایف کا کام کیا، یہ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں؟ یہ سارے لوگ کیا اوپر سے آگئے ہیں، اگر جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے خلاف کسی نے بات کی، سب سے پہلے میں بولوں گا، اس کے بعد ہماری ساری پارٹی بولے گی، انہوں نے مذاق بنا لیا ہے، بندہ اتنا احسان فراموش ہوسکتا ہے، یہ کیا ہے کہ منہ اٹھا کر جو مرضی آئے شروع ہو جاتا ہے۔

Back to top button